Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / دہلی :دوسرے دن ترنمول ایم پیز کا احتجاج جاری

دہلی :دوسرے دن ترنمول ایم پیز کا احتجاج جاری

وزیراعظم کے دفتر تک جلوس کی شکل میں جانے کی کوشش ، قائدین گرفتاراور رہا

نئی دہلی ۔ /5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) مسلسل دوسری دن بھی ترنمول کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے آج قومی دارالحکومت کی سڑکوں پر احتجاج کیا اور وزیراعظم کے دفتر کے قریب پہونچ گئے ۔ حالانکہ یہ دفتر سخت حفاظتی انتظامات کے علاقہ میں قائم ہے ۔ وہ رکن پارلیمنٹ سدیپ بنڈوپادھیائے کی ایک اسکام کے مقدمہ میں سی بی آئی کی جانب سے گرفتاری کے خلاف احتجاج کررہے تھے ۔ انہوں نے اس کو مودی حکومت کی انتقامی سیاست قرار دیا ۔ پارٹی نے تین روزہ احتجاجی پروگرام /9 جنوری سے شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے ۔ ترنمول کانگریس کے بموجب احتجاج مرکزی حکومت کے خلاف مسلسل آواز اٹھاتا رہے گا ۔ وزیراعظم کے دفتر کی سمت جلوس کی شکل میں جانے والوں میں ترنمول کانگریس کے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکان بشمول سوگٹ رائے اور ڈیرک اوبرائن اور پارٹی کے چند حامی وزیراعظم کے دفتر کے قریب پہونچنے میں کامیاب ہوگئے۔ مودی مخالف نعرہ بازی کرتے ہوئے انہوں نے صیانتی رکاوٹوں کے دو مرحلوں کو توڑ دیا جو رائے سینا ہلز سے ساؤتھ بلاک تک قائم کی گئی تھیں ۔  ترنمول کانگریس کے 30 ارکان پارلیمنٹ بشمول رائے ، اوبرائن ، ارپیتا گھوش ، ادریس علی کو حراست میں لے لیا گیا ۔ انہیں مندر مارگ پولیس اسٹیشن میں تین گھنٹے تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا گیا ۔ رائے نے بعد ازاں کہا کہ ہمیں وزیراعظم کے دفتر تک پہونچنے سے روک دیا گیا ۔ ساؤتھ بلاک کے قریب ایک بس میں بھر کر ہمارے خاتون ارکان پارلیمنٹ کو زدوکوب کیا گیا ۔ ہم وزیراعظم نریندر مودی کے نوٹوں کی تنسیخ کے اقدام اور ترنمول کانگریس سے انتقام لینے کی سیاست کے خلاف احتجاج کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج جاری رہے گی ۔ ہم /9 ، /10 اور /11 جنوری کو ضروری کارروائیاں کریں گے ۔ ترنمنول کانگریس نے اپنے ایک بیان میں جو حال ہی میں جاری کیا گیا ہے کہا گیا ہے کہ ترنمول کانگریس ارکان پارلیمنٹ نے پولیس اسٹیشن بھی دھرنا اور نعرہ بازی جاری رکھی ۔

TOPPOPULARRECENT