Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / دہلی میں آلودگی کی بدترین صورتحال ، اسکولس 3دن کیلئے بند

دہلی میں آلودگی کی بدترین صورتحال ، اسکولس 3دن کیلئے بند

تعمیراتی سرگرمیوں پر امتناع ، عوام کو گھروں میں رہنے کا مشورہ ، مصنوعی بارش کی تجویز ، کابینہ کا ہنگامی اجلاس

ماسک کی شدید قلت ، تنفسی عوارض میں اضافہ
جفت ۔ طاق اسکیم دوبارہ شروع کرنے کا منصوبہ
مرکزی وزیر ماحولیات نے آج اجلاس طلب کیا

نئی دہلی۔ 6 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی میں آلودگی کی صورتحال انتہائی ابتر ہوچکی ہے اور چیف منسٹر اروند کجریوال نے کہا کہ شہر میں اسکولس تین دن یعنی چہارشنبہ تک بند رہیں گے۔ انہوں نے صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہنگامی نوعیت کے اقدامات کا اعلان کیا جن میں تعمیرات اور انہدامی سرگرمیوں پر آئندہ پانچ دن تک امتناع اور بدرپور پاور پلانٹ کی عارضی طور پر مسدودی شامل ہیں۔ چیف منسٹر اروند کجریوال نے کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ شہر میں مصنوعی بارش کے امکانات کے سلسلے میں مرکز سے ان کی حکومت بات چیت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سارا شہر ’’گیاس چیمبر‘‘ میں تبدیل ہوچکا ہے اور اس کی بنیادی وجہ ہریانہ و پنجاب میں بڑے پیمانے پر فصلوں کو نذرآتش کرنا ہے۔ عآپ حکومت جفت ۔ طاق اسکیم دوبارہ شروع کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ چیف منسٹر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں میں ہی رہیں اور ممکن ہوسکے تو صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے اپنے گھر سے ہی کام کاج کریں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں آئندہ پانچ دن تعمیراتی اور انہدامی کارروائیوں پر مکمل امتناع رہے گا۔ سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ کیا جائے گا اور کچرا نذرآتش کرنے پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ اسکولس آئندہ تین دن تک بند رہیں گے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کابینہ میں یہ تجویز پیش کی گئی کہ مصنوعی بارش کے ذریعہ صورتحال کو بہتر بنایا جاسکتا۔ ہم نے چیف سیکریٹری اور سیکریٹری ماحولیات کو مرکز سے رجوع ہوکر اس بارے میں امکانات کا جائزہ لینے کی ہدایت دی۔

کجریوال نے کل مرکزی وزیر ماحولیات انیل ڈاوے سے ملاقات کی اور فضائی آلودگی کی ابتر صورتحال کے سلسلے میں بات چیت بھی کی۔ ڈاوے نے دہلی اور پڑوسی ریاستوں کے وزرائے ماحولیات کا کل ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ دہلی میں 17 سال کے بعد پہلی مرتبہ بدترین کہر دیکھا جارہا ہے اور گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران ماسک کی فروخت میں بھی کافی اضافہ ہوگیا ہے۔ قومی دارالحکومت اور اطراف و اکناف کے علاقوں میں ماسک کی شدید قلت ہے۔ دہلی۔ این سی آر میں بعض اسکولس نے بچوں کے والدین کو یہ ہدایت جاری ہے کہ ماسک کا استعمال یقینی بنائیں۔ ماسک فروخت کرنے والی ایک کمپنی کے مالک نے کہا کہ اس وقت طلب اتنی زیادہ ہے کہ ہمارے پاس اسٹاک موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر ہر سال دیوالی کے لئے ہم ماسک کا ذخیرہ رکھتے ہیں لیکن اس بار ماسک کی طلب میں 10 گنا اضافہ دیکھا گیا۔

شہر میں مختلف ڈیزائن اور انداز کے ماسک 90 روپئے سے لے کر 2,200 روپئے تک فروخت کئے جارہے ہیں۔ عوام کی کثیر تعداد نے ماسک کیلئے آن لائن آرڈرس دیئے ہیں۔ آلودگی میں اضافہ کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری اور دمہ اور الرجی کے واقعات میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ ڈاکٹرس اور ماہرین نے بتایا کہ صحت سے متعلق مسائل سے دوچار کیسیس میں کافی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے بالخصوص دمہ، الرجی اور سانس سے متعلق بیماریوں  کا شکار افراد کی کثیر تعداد دواخانوں سے رجوع ہورہی ہے۔ ایک ہاسپٹل کے ذرائع نے بتایا کہ پہلے آلودگی سے متعلق عوارض کے یومیہ 15 تا 20 فیصد کیسیس یہاں رجوع ہوتے تھے لیکن اب یہ تعداد بڑھ کر 60% ہوگئی ہے۔ مرکزی حکومت بھی دہلی کی موجودہ صورتحال کو ہنگامی قرار دیا ہے۔ شہر میں سنگین صورتحال کے پیش نظر تقریباً 7,000 سی آئی ایس ایف سکیورٹی عملہ کو ماسک فراہم کئے جارہے ہیں تاکہ آلودگی سے حفاظت ہوسکے۔ یہ اسٹاف اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ، دہلی میٹرو اور دیگر اہم سرکاری عمارتوں کی حفاظت پر مامور ہے۔ دہلی ہائیکورٹ نے بھی 17 سال کے دوران اب تک کی اس بدترین آلودگی کے بارے میں ریمارک کیا تھا کہ ہم ’’گیاس چیمبر‘‘ میں رہ رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT