Saturday , June 23 2018
Home / سیاسیات / دہلی میں اقتدار کے تعلق سے بی جے پی الجھن کا شکار

دہلی میں اقتدار کے تعلق سے بی جے پی الجھن کا شکار

نئی دہلی ۔ 28 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی میں تشکیل حکومت کے تعلق سے سپریم کورٹ کے ریمارک کے بعد ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی نے ہنوز کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور وہ آئندہ سال انتخابات کو ترجیح دے رہی ہے۔ دوسری طرف حریف عام آدمی پارٹی اور کانگریس نے بی جے پی انتخابات سے فرار اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر بی جے پی امیت ش

نئی دہلی ۔ 28 ۔ اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی میں تشکیل حکومت کے تعلق سے سپریم کورٹ کے ریمارک کے بعد ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی نے ہنوز کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے اور وہ آئندہ سال انتخابات کو ترجیح دے رہی ہے۔ دوسری طرف حریف عام آدمی پارٹی اور کانگریس نے بی جے پی انتخابات سے فرار اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر بی جے پی امیت شاہ اور سینئر لیڈرس و مرکزی وزراء نتن گڈکری اور راج ناتھ سنگھ دہلی میں بی جے پی حکومت کی تشکیل کے حق میں ہیں۔ دیگر قائدین اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ پارٹی انتخابات کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لیفٹننٹ گورنر جب سب سے مشاورت کے بعد اپنی سفارش روانہ کریں گے تب مرکز فیصلہ سنائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ سودے بازی کے ذریعہ تشکیل حکومت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ ذرائع کے مطابق بی جے پی دہلی یونٹ اس سے پہلے تشکیل حکومت کیلئے بے چین تھی اور اس نے مرکزی قیادت کو اپنی رائے سے واقف کرایا تھا۔

دہلی بی جے پی صدر ستیش اپادھیائے نے مزید کسی تبصرہ انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تشکیل حکومت کی دعوت دیئے جانے پر مناسب فیصلہ کیا جائے گا ۔ ایک اور لیڈر نے کہا کہ بی جے پی تمام تین امکانات کا جائزہ لے رہی ہے جن میں تازہ انتخابات ، حکومت کی تشکیل اور 25 نومبر کو دہلی میں تین حلقوں میں ضمنی انتخابات کے بعد فیصلہ شامل ہے۔ دہلی بی جے پی جنرل سکریٹری رمیش بدھوری نے بتایا کہ پارٹی مرکزی قیادت کا اس مسئلہ پر فیصلہ قطعی ہوگا۔ اس وقت بی جے پی کے حلیف اکالی دل کے ایک رکن کے ساتھ 29 ارکان ہیں اور اسے 67 رکنی اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کیلئے 5 ارکان کی تائید درکار ہے۔

پارٹی کو توقع ہے کہ عام آدمی پارٹی کے برطرف رکن اسمبلی ونود کمار بنی اور آزاد رکن رام ویر شوکین کی تائید حاصل ہوگی۔ اس دوران کانگریس اور عام آدمی پارٹی نے بی جے پی پر تازہ انتخابات سے فرار کا الزام عائد کیا جبکہ سپریم کورٹ نے تشکیل حکومت میں تاخیر پر مرکز اور لیفٹننٹ گورنر کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ قبل ازیں مرکز نے عدالت کو بتایا کہ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے بی جے پی کو تشکیل حکومت کی دعوت دینے لیفٹننٹ گورنر کی تجویز کو منظوری دیدی ۔ گورنر نے گزشتہ ماہ پرنب مکرجی کو رپورٹ روانہ کرتے ہوئے تشکیل حکومت کیلئے بی جے پی کو دعوت دینے کی اجازت طلب کی تھی ۔ عام آدمی پارٹی کنوینر اروند کجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو اسمبلی انتخابات میں کامیابی کا یقین نہیں اس لئے وہ تاخیر کر رہی ہے ۔

وہ اس مسئلہ پر گندی سیاست میں الجھی ہوئی ہے۔ اگر بی جے پی کے پاس درکار ارکان کی تائید ہو تو اسے حکومت تشکیل دینا چاہئے ۔ انہوں نے لیفٹننٹ گورنر پر بھی دستور کے تحفظ کے بجائے مخصوص پارٹی کی حمایت کا ا لزام عائد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک پہلو ہے کہ دستور کا تحفظ کرنے کے بجائے لیفٹننٹ گورنر ایک سیاسی جماعت کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔ کانگریس نے بھی بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے دہلی اسمبلی انتخابات میں تاخیر کیلئے مختلف حربے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اروندر سنگھ نے کہا کہ ابتداء ہی سے ہمارا یہ موقف رہا ہے کہ بی جے پی انتخابات سے فرار اختیار کر رہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT