Wednesday , January 24 2018
Home / Top Stories / دہلی میں بی جے پی حکومت کے قیام کو صدر جمہوریہ کی منظوری

دہلی میں بی جے پی حکومت کے قیام کو صدر جمہوریہ کی منظوری

نئی دہلی 28 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی میں تشکیل حکومت پر ایسا لگتا ہے کہ غیر یقینی کیفیت جلد ختم ہوجائیگی جبکہ سپریم کورٹ نے اس مسئلہ کی ترجیحی بنیادوں پر یکسوئی کا اشارہ دیا ہے اس دوران صدر جمہوریہ نے دہلی کے لیفٹننٹ گورنر کی اس تجویز کو بھی قول کرلیا ہے کہ بی جے پی کو یہاں تشکیل حکومت کی دعوت دی جانی چاہئے ۔ چیف جسٹس ایچ ایل دتو کی

نئی دہلی 28 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی میں تشکیل حکومت پر ایسا لگتا ہے کہ غیر یقینی کیفیت جلد ختم ہوجائیگی جبکہ سپریم کورٹ نے اس مسئلہ کی ترجیحی بنیادوں پر یکسوئی کا اشارہ دیا ہے اس دوران صدر جمہوریہ نے دہلی کے لیفٹننٹ گورنر کی اس تجویز کو بھی قول کرلیا ہے کہ بی جے پی کو یہاں تشکیل حکومت کی دعوت دی جانی چاہئے ۔ چیف جسٹس ایچ ایل دتو کی قیادت والی ایک پانچ رکنی بنچ نے تاہم جمعرات کو عام آدمی پارٹی کی درخواست کی سماعت کا فیصلہ کیا ہے جس میں ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرنے کی استدعا کی گئی ہے ۔ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے مرکز اور لیفٹننٹ گورنر پر سرزنش کی ہے کہ انہوں نے حکومت سازی کے تعلق سے فیصلہ کرنے پانچ ماہ کا وقت لیا ہے ۔

آج ہوئی سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے یہ انکشاف کیا کہ صدر جمہوریہ نے لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ کی اس تجویز کو منظوری دیدی ہے کہ بی جے پی کو یہاں تشکیل حکومت کیلئے مدعو کیا جائے ۔ مرکز اور لیفٹننٹ گورنر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ جمہوریت میںصدر راج کو ہمیشہ کیلئے لاگو نہیں کیا جاسکتا ۔ عدالت نے فوری طور پر کارروائی نہ کرنے پر حکام سے بھی سوال کیا ہے ۔ بنچ نے سوال کیا کہ مرکزی حکومت عدالت میں اس مسئلہ پر سماعت سے عین قبل کیوں بیان دینے کی ضرورت محسوس کرتی ہے ۔ بنچ نے کہا کہ جب کبھی عدالت میں یہ مسئلہ سنوائی کیلئے آتا ہے مرکزی حکومت بیان جاری کردیتی ہے ۔ اس پر کیوں جلدی فیصلہ نہیں کیا گیا ؟ ۔ اس طریقہ سے کتنا وقت لیا جائیگا ۔ بنچ نے کہا کہ لیفٹننٹ گورنر کو جلد کوئی فیصلہ کرنا چاہئے تھا ۔ بنچ نے کہا کہ عدالت اپنی ذمہ داری کو پورا کریگی اور میرٹ کی بنیاد پر اس کی سماعت کی جائیگی ۔

بنچ نے کہا کہ جمہوریت میں عوام کو ایک حکومت رکھنے کا حق ہے اور عوام پر ایک گورنر کے ذریعہ حکومت نہیں کی جاسکتی ۔ صدر جمہوریہ کی جانب سے لیفٹننٹ گورنر کی تجویز کو منظوری دینے سے متعلق جو مکتوب روانہ کیا گیا ہے اس کو عدالت میں پیش کیا گیا جس پر عدالت نے کہا کہ یہ کام بہت پہلے کیا جانا چاہئے تھا ۔ فی الحال دہلی کی 70رکنی اسمبلی میں کسی بھی جماعت کو تشکیل حکومت کیلئے 34 ارکان کی تائید درکار ہے کیونکہ تین نشستیں خالی ہیں۔ بی جے پی یہاں واحد بڑی جماعت ہے جس کے 31 ارکان اسمبلی تھے تاہم اس کے تین ارکان اسمبلی رکن پارلیمنٹ بن گئے ہیں اور اسمبلی کی رکنیت سے استعفی پیش کردیا ہے ۔ مرکز نے عدالت سے قبل ازیں کہا تھا کہ وہ حکومت سازی پر اپنے موقف کو دیوالی کے بعد واضح کریگی ۔

TOPPOPULARRECENT