Friday , June 22 2018
Home / سیاسیات / دہلی میں حکومت سازی میں مرکز کو کوئی جلدی نہیں

دہلی میں حکومت سازی میں مرکز کو کوئی جلدی نہیں

نئی دہلی 16 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی حکومت ایسا لگتا ہے کہ دہلی میں تشکیل حکومت کے سلسلہ میں کسی طرح کی جلد بازی میں نہیں ہے کیونکہ وزارت داخلہ نے دہلی کے لیفٹننٹ گورنر کی جانب سے صدر جمہوریہ کو روانہ کردہ مکتوب پر انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی اختیار کی ہے ۔ لیفٹننٹ گورنر نے صدر جمہوریہ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے دہلی میں بی جے پی

نئی دہلی 16 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی حکومت ایسا لگتا ہے کہ دہلی میں تشکیل حکومت کے سلسلہ میں کسی طرح کی جلد بازی میں نہیں ہے کیونکہ وزارت داخلہ نے دہلی کے لیفٹننٹ گورنر کی جانب سے صدر جمہوریہ کو روانہ کردہ مکتوب پر انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی اختیار کی ہے ۔ لیفٹننٹ گورنر نے صدر جمہوریہ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے دہلی میں بی جے پی کو تشکیل حکومت کا موقع دینے کی اجازت طلب کی ہے ۔ ذرائع نے کہا کہ لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ کے مکتوب پر وزارت داخلہ میں کسی طرح کا تبادلہ خیال نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کسی طرح کی قانونی رائے لینے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ صدر جمہوریہ کو بھی کسی رائے سے واقف نہیں کروایا گیا ہے ۔ ذرائع نے ادعا کیا کہ ایسا لگتا ہے کہ وزارت داخلہ میں اس مسئلہ پر کوئی جوش و خروش نہیں ہے ۔ یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ چونکہ بی جے پی یہاں ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کیلئے درکار ارکان اسمبلی کی تائید نہیں رکھتی اس لئے بھی مرکزی قیادت میں یہاں حکومت سازی کی سمت پیشرفت میں دلچسپی کا فقدان ہوسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ضمنی انتخابات کے آج جاری ہوئے نتائج میں پارٹی کی شکست بھی دہلی میں درکار تعداد کے بغیر حکومت سازی کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتی ہے ۔ 70 رکنی دہلی اسمبلی میں بی جے پی نے 31 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی تاہم اس کے تین ارکان اسمبلی ہرش وردھن ‘ رمیش بدھوری اور پرویش ورما نے استعفی پیش کردیا ہے کیونکہ وہ لوک سبھا کیلئے منتخب ہوگئے ہیں۔ وزارت داخلہ کے ارادوں کو ظاہر کرتے ہوئے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے گذشتہ جمعہ کو کہا تھا کہ وزارت داخلہ کا لیفٹننٹ گورنر کی جانب سے صدر جمہوریہ کو روانہ کردہ رپورٹ میں کوئی رول نہیں ہے اور حکومت سازی کیلئے کس کو مدعو کیا جانا ہے اس کا فیصلہ لیفٹننٹ گورنر ہی کرینگے ۔ دہلی میں لیفٹننٹ گورنر کی جانب سے مکتوب کی روانگی کے بعد کچھ سیاسی سرگرمیاں دیکھی گئی تھیں لیکن بعد میں یہ بھی ٹھنڈی پڑ گئیں۔

TOPPOPULARRECENT