Tuesday , January 16 2018
Home / Top Stories / دہلی میں ریکارڈ 67.14 فیصد رائے دہی ، عام آدمی پارٹی کو قطعی اکثریت کی پیش قیاسی

دہلی میں ریکارڈ 67.14 فیصد رائے دہی ، عام آدمی پارٹی کو قطعی اکثریت کی پیش قیاسی

نئی دہلی ۔ 7 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : دہلی اسمبلی انتخابات میں آج 67.14 فیصد رائے دہندوں نے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ ملک کے دارالحکومت میں عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کے مابین ٹکر کا مقابلہ تھا اور یہاں کے نتائج قومی سیاسی منظر پر غیر معمولی اثرات مرتب کریں گے ۔ رائے دہی کا فیصد 2013 اسمبلی انتخابات میں 65.86 فیصد کے مقابلہ 1.28 فیصد زی

نئی دہلی ۔ 7 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : دہلی اسمبلی انتخابات میں آج 67.14 فیصد رائے دہندوں نے حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ ملک کے دارالحکومت میں عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کے مابین ٹکر کا مقابلہ تھا اور یہاں کے نتائج قومی سیاسی منظر پر غیر معمولی اثرات مرتب کریں گے ۔ رائے دہی کا فیصد 2013 اسمبلی انتخابات میں 65.86 فیصد کے مقابلہ 1.28 فیصد زیادہ رہا ۔ اپریل 2014 لوک سبھا انتخابات میں 65.07 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی تھی ۔ اسمبلی انتخابات ایک سال کے وقفہ سے دوسری مرتبہ منعقد ہوئے اور بی جے پی و عام آدمی پارٹی کے مابین سخت مقابلہ دیکھا گیا لیکن تمام اگزٹ پولس میں عام آدمی پارٹی کو اکثریت کی پیش قیاسی کی گئی ہے ۔ ایک اگزٹ پول میں 70 رکنی ایوان میں 53 نشستیں عام آدمی پارٹی کو ملنے کی توقع ظاہر کی گئی ۔ یہ انتخابات اس لحاظ سے اہمیت کے حامل ہیں کہ بی جے پی اگر کامیابی حاصل کرے گی تو اسے جاریہ سال بہار اور 2016 میں مغربی بنگال انتخابات میں حوصلہ مل سکتا تھا ۔ بی جے پی دہلی میں 16 سال سے اقتدار سے محروم ہے اور اس نے کامیابی کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا تھا ۔ انتخابات کو وزیر اعظم نریندر مودی کی کارکردگی پر ریفرنڈم بھی قرار دیا گیا لیکن بی جے پی نے اسے مسترد کردیا ہے ۔ چیف الکٹورل آفیسر چندر بھوشن کمار نے کہا کہ رائے دہی کا فیصد 67.14 رہا اور یہ دہلی اسمبلی انتخابات کی تاریخ میں ریکارڈ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رائے دہی بحیثیت مجموعی پرامن رہی ۔ جملہ 21 الکٹرانک ووٹنگ مشین کو تبدیل کیا گیا اور کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ۔ اروند کجریوال جنہوں نے عام آدمی پارٹی کی قیادت کی ، قطعی اکثریت ملنے کا یقین ظاہر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں ’ سچائی کی فتح ‘ ہوگی ۔ کجریوال نے کہا انہیں یقین ہے کہ عام آدمی پارٹی انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی اور دہلی میں حکومت تشکیل دے گی ۔ ان کے بی جے پی حریف کرن بیدی نے اگزٹ پولس کے نتائج کو مسترد کردیا ۔ بی جے پی چیف منسٹر امیدوار نے کہا کہ اگر ان کی پارٹی کو شکست ہوتی ہے تو وہ ’مکمل ذمہ دار ‘ ہوں گی ۔ آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جس میں کرن بیدی کافی تھکی ماندی دکھائی دے رہی تھیں ، بی جے پی سے اظہار تشکر کیا جس نے ان پر بھروسہ کیا ۔

انہیں یقین ہے کہ 3 بجے دن کے بعد ہونے والی ووٹنگ کا جائزہ لیا جائے تو ان تمام سروے کے نتائج بدل جائیں گے ۔ یہ تمام سروے نا مکمل ہیں اور 3 بجے دن تا 6 بجے شام کے انتخابی رجحان کو اس میں شامل نہیں کیا گیا ۔ شمالی مشرقی دہلی میں سب سے زیادہ 69.96 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ۔ جب کہ نئی دہلی میں سب سے کم 64.16 فیصد رائے دہی ہوئی ۔ نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری ، صدر کانگریس سونیا گاندھی پارٹی نائب صدر راہول گاندھی ، عام آدمی پارٹی لیڈر اروند کجریوال ، بی جے پی چیف منسٹر امیدوار کرن بیدی ، مرکزی وزراء ہرش وردھن اور منیکا گاندھی ، دہلی لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ اور دیگر نے اول وقت پہنچ کر حق رائے دہی سے استفادہ کیا ۔ ان کے علاوہ پرینکا گاندھی ، منیش سیسوڈیا ، شیلا ڈکشٹ اور دیگر بھی صبح پولنگ بوتھ پہنچ کر ووٹ دینے والوں میں شامل ہیں ۔ سونیا گاندھی سے جب انتخابات کے بارے میں پوچھا گیا ۔ انہوں نے جواب دیا ’ عوام جو چاہیں گے وہی ہوگا ‘ ۔۔

TOPPOPULARRECENT