Saturday , November 25 2017
Home / ہندوستان / دہلی میں ضبط شدہ دستاویزات کی واپسی سے اِنکار

دہلی میں ضبط شدہ دستاویزات کی واپسی سے اِنکار

سی بی آئی کے استدلال پر عام آدمی پارٹی کا طنز
نئی دہلی۔ 21 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی نے آج سی بی آئی کے استدلال کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ دہلی سیکریٹریٹ میں دھاوے کے دوران ضبط شدہ دستاویزات کی اشد ضرورت ہے اور کہا ہے کہ ایجنسی نے یہ استدلال وزیراعظم کے دفتر کی ایماء پر پیش کیا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اشوتوش نے سی بی آئی کے دھاوے اور ابتدائی تحقیقات کے پس پردہ دہلی حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خصوصی عدالت نے کل سی بی آئی کو یہ ہدایت دی کہ چیف منسٹر اروند کجریوال کے پرنسپال سیکریٹری راجندر کمار کے دفتر پر دھاوے کے دوران ضبط کردہ بعض دستاویزات واپس کردیئے جائیں۔ عدالت کے اس حکم سے عام آدمی پارٹی کے موقف کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس کے باوجود سی بی آئی کا استدلال ایک ’’بھونڈا مذاق‘‘ ثابت نہیں ہوتا؟ جبکہ سی بی آئی نے پرنسپال سیکریٹری راجندر کمار کے خلاف نام نہاد تحقیقات کیلئے ضبط شدہ دستاویزات پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ 7 ریس کورس روڈ سے کوئی اعلیٰ عہدیدار یا وزیراعظم دفتر سے یہ مضحکہ خیز سلسلہ جاری رکھنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ عآپ لیڈر نے الزام عائد کیا کہ مرکز اپنے دستوری اختیارات کا بے جا استعمال کرتے ہوئے دہلی حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ درحقیقت سی بی آئی کی کارروائی میں اروند کجریوال اصل نشانہ ہیں۔ واضح رہے کہ سی بی آئی آج خصوصی عدالت کی ہدایت کیخلاف دہلی ہائیکورٹ سے رجوع ہوئی ہے اور یہ استدلال پیش کیا کہ اہم دستاویزات کسی کو بھی نہیں دیئے جاسکتے جس کا کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے، جبکہ گواہوں سے ہنوز پوچھ تاچھ نہیں کی گئی لہٰذا ضبط کردہ دستاویزات کی اشد ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT