Tuesday , January 16 2018
Home / شہر کی خبریں / دہلی میں غریب مسلم بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی مثالی کوشش

دہلی میں غریب مسلم بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی مثالی کوشش

تعمیر ملت ٹرسٹ تاریکی میں روشنی بکھیرنے میں مصروف، 14 برسوں تک ناکردہ گناہوں پر جیل میں رہنے والے محمد عامر کے حوصلے بلند

تعمیر ملت ٹرسٹ تاریکی میں روشنی بکھیرنے میں مصروف، 14 برسوں تک ناکردہ گناہوں پر جیل میں رہنے والے محمد عامر کے حوصلے بلند
حیدرآباد ۔ 15 ۔ دسمبر : ( نمائندہ خصوصی ) : مسلسل 14 برسوں تک ناکردہ گناہوں کی سزا میں قید و بند کی صعوبتیں برداشتہ کرنے کے باوجود اس کے عزم و حوصلوں میں متعصب پولیس اور ازکار رفتہ قانونی نظام کوئی کمی نہ کرسکے ۔ دہلی پولیس کے تعصب و جانبداری کا شکار ہونے کے بعد اس کی زندگی ایک بوجھ بن گئی تھی ۔ والد صاحب اپنے 19 سالہ بیٹے کو بے قصور ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے وکیلوں کی فیس نے انہیں ایک کامیاب تاجر سے پائی پائی کے لیے محتاج کردیا تھا اور اپنے بے قصور نور نظر کی رہائی کا خواب لیے وہ اس دنیا سے چل بسے ماں اپنے بیٹے کی رہائی کے لیے دعائیں کرتی رہی ۔ اس کی آنکھوں سے اس قدر آنسو بہے کہ اب تو اس نے رونا بھی بند کردیا تھا ۔ اس کی نظریں اپنے گھر کے دروازے کو تکتی رہتیں کہ شائد وہاں سے اس کا نور نظر داخل ہو کر اپنی ماں کے سینے سے لپٹ جائے اس کی گود میں سر رکھے 14 برس کی ظالمانہ جدائی کے درد و الم کو دور کرلے بہرحال 14 برسوں تک بنا کسی گناہ کے جیلوں میں بند رہنے کے بعد بالآخر قانون نے تعصب و جانبداری اور ظلم و بربریت کے مقابلے سچائی و نیکی کو فاتح قرار دیا اور ایک بے قصور کو رہائی نصیب ہوگئی ۔ قارئین ۔ ہم آج دہلی کے 35 سالہ نوجوان محمد عامر کی بات کررہے ہیں جنہیں 27 فروری 1998 میں دہلی پولیس نے دہشت گردی اور بم دھماکوں کے الزام میں اس وقت گرفتار کرلیا تھا جب ان کی عمر صرف 19 سال تھی یہ تمام الزام جھوٹے اور بدنیتی و تعصب پر مبنی تھے ۔ بہر حال صدر بازار دہلی کے رہنے والے اس نوجوان نے مایوسی کی بجائے امید کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ملت کے نونہالوں میں علم کی شمع روشن کرنے کا مقدس کام شروع کیا ہے ۔ اس سلسلہ میں اسے روزنامہ سیاست اور تعمیر چیارٹیبل ٹرسٹ اور فیض عام ٹرسٹ کا بھر پور تعاون حاصل ہے ۔ روزنامہ سیاست اور فیض عام ٹرسٹ نے جس طرح اترپردیش کے ضلع مظفر نگر کے مظلوم مسلمانوں کے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا بیڑا اٹھایا ۔ اسی طرح قدیم دہلی کے علاقہ پل بنگش میں بھی غریب مسلم طلباء وطالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا آغاز کیا چنانچہ دہلی کے ممتاز چارٹرڈ اکاونٹنٹ جناب عبدالحنان چاندانہ سے بات کرنے پر انہوں نے سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کو اپنی عمارت مفت دینے کا اعلان کیا تاکہ آس پاس کے غریب بچوں کو اردو کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر انگریزی بول چال کی بھی تعلیم دی جاسکے ۔ اس طرح جناب عبدالحنان کی عمارت میں تعمیر ملت تعلیمی سنٹر کا آغاز ہوگیا ۔ اب وہاں 250 بچے بچیاں تعلیم حاصل کررہی ہیں ۔ ان بچوں کو اردو کی بھی تعلیم دی جارہی ہے اور خوشی کی بات یہ ہے کہ غیر مسلم طلبہ بھی اردو بڑے شوق سے سیکھ رہے ہیں ۔ سیاست ملت فنڈ اور فیض عام ٹرسٹ کی جانب سے اس سنٹر کے لیے 5 ٹیچرس کا انتظام کیا گیا اور طلبہ کو کمپیوٹر کے ساتھ ساتھ انگریزی بول چال بھی سکھائی جارہی ہے ۔ اس سنٹر کو محمد عامر اور سرفراز جیسے نوجوانوں کی بے لوث خدمات حاصل ہیں ۔ اس طرح سیاست ملت فنڈ اور تعمیر چیارٹیبل ٹرسٹ قدیم دہلی کے غریب مسلمانوں میں علم کی روشنی پھیلانے کا کام کررہے ہیں ۔ محمد عامر کا جواب میں جو 35 برس کے ہوچکے کہنا ہے کہ قدیم دہلی میں غریب مسلمانوں کی اکثریت ہے ایسے میں ماں باپ اپنے بچوں کو معیاری تعلیم نہیں دلاسکتے ۔ ان حالات میں روزنامہ سیاست اور تعمیر چیارٹیبل ٹرسٹ نے غریب بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے سارے ملک میں ایک مثال قائم کی ہے ۔ محمد عامر کے مطابق اس طرح کے تعلیمی مراکز سارے دہلی اور اطراف و اکناف میں بھی قائم کئے جانے چاہئیں ۔ اس سے مزدور پیشہ مسلمانوں کے بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی میں غیر معمولی مدد مل سکتی ہے ۔ کچھ عرصہ قبل ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں ، مینجنگ ایڈیٹر ظہیر الدین علی خاں اور سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین اور ٹرسٹی رضوان حیدر نے تعمیر ملت تعلیمی سنٹر کا دورہ کرتے ہوئے بچوں اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی تھی ۔ سیاست نے اس سنٹر میں 5 اساتذہ کا اہتمام کیا ہے ۔ بہر حال محمد عامر ان نوجوانوں کے لیے ایک مثال ہے جو تعلیم یافتہ اور خوشحال ہونے کے باوجود ملت کی تعلیمی ترقی میں کسی قسم کا رول ادا کرنے سے قاصر ہیں ۔ ایک ایسا نوجوان جسے دہشت گردی کے تقریبا 20 مقدمات میں غلط انداز سے ماخوذ کیا گیا ہو جس نے اپنی زندگی کے قیمتی 14 برس ناکردہ گناہ کی سزا میں کاٹے ہوں جس کا باپ اپنے بیٹے کی رہائی کی امید لے کر چل بسا ہو اور ماں فالج میں مبتلا ہو کر مفلوج ہوگئی ہو ۔ اس نے مایوسی کو چھوڑ کر امید کی جانب سے سفر شروع کیا اور ایک ایسا سفر جہاں صرف علم کی روشنی ہی روشنی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT