Tuesday , November 21 2017
Home / Top Stories / دہلی میں ڈیزل ٹرکس کے داخلہ پر امتناع کی تجویز پر غور سے اتفاق

دہلی میں ڈیزل ٹرکس کے داخلہ پر امتناع کی تجویز پر غور سے اتفاق

صورتحال انتہائی سنگین، دارالحکومت کی ساری دنیا میں امیج متاثر، کجریوال کے منصوبہ کی تائید: سپریم کورٹ

نئی دہلی 10 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) آلودگی پر جاری مباحث کے دوران سپریم کورٹ نے آج قومی دارالحکومت میں صرف اشیائے مایحتاج کی منتقلی کو چھوڑ کر مابقی تمام ڈیزل ٹرکس کے داخلہ پر امتناع کی تجویز کا جائزہ لینے سے اتفاق کیا ہے۔ مرکز کو ہدایت دی کہ وہ تمام فریقین سے مشاورت کے بعد مشترکہ اقل ترین قابل قبول پروگرامس تیار کرے۔ عدالت کا یہ تاثر تھا کہ جب کوئی بیرونی سرکردہ شخصیتیں یہاں کا دورہ کرنے کے بعد آلودگی کا ذکر کرتی ہیں تو پشیمانی ہوتی ہے۔ دہلی حکومت کی جفت اور طاق نمبر پالیسی کی تائید کرتے ہوئے جس کے تحت یکم جنوری سے خانگی گاڑیوں کو ایک دن کے فرق سے چلانے کی اجازت رہے گی، چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اور جسٹس آر بانومتی پر بنچنے کہاکہ یہ ایک ’’ہنگامی اقدام‘‘ ہے۔ دہلی میں آلودگی کی بڑھتی سطح کو ’’انتہائی سنگین‘‘ قرار دیتے ہوئے بنچ نے اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہمہ رخی پالیسی کی تائید کی۔ انھوں نے کہاکہ آلودگی کی ناقابل برداشت حد کی وجہ سے دہلی پر ’’دنیا میں سب سے زیادہ آلودہ شہر‘‘ کا لیبل لگ رہا ہے۔

ہمیں اس وقت پشیمانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب بیرونی سرکردہ شخصیتیں دہلی کا دورہ کرتے ہوئے یہاں آلودگی کے بارے میں بات کرتی ہیں۔ اس ضمن میں بنچ نے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے دورہ کنندہ جج کی مثال دی جنھوں نے یہاں آلودگی کا ذکر کیا تھا۔ انھوں نے کہاکہ یہ ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے اور دنیا بھر میں ہماری ساکھ متاثر ہورہی ہے۔ بنچ نے سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے کی عبوری اقدام کے طور پر اس تجویز کا جائزہ لینے سے اتفاق کیاکہ دہلی میں چھ ہفتوں کے لئے تمام ڈیزل ٹرکس پر امتناع عائد کردیا جائے۔ اس کے بعد دیکھا جائے کہ آلودگی کی صورتحال میں کوئی نمایاں فرق واقع ہوا یا نہیں۔ ہریش سالوے 1984 ء میں ماہر ماحولیات ایم سی مہتا کی دائر کردہ مفاد عامہ کی درخواست میں عدالت کی بحیثیت معاون مدد کررہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ اشیائے مایحتاج کے ماسوا دیگر تمام ٹرکس پر 2001 ء کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق امتناع عائد کیا جانا چاہئے۔ بنچ نے کہاکہ اگر مرکز اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے تمام فریقین کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے تو ہمیں خوشی محسوس ہوگی۔ اس کے ذریعہ مشترکہ اقل ترین قابل قبول پروگرامس پیش کئے جاسکتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ اس مسئلہ کا کوئی واحد حل نہیں ہوسکتا۔ اس کے لئے ہمہ رخی لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے تین شہری اداروں کے منجملہ ایک کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہاکہ ڈیزل سے چلنے والی کاروں اور ٹرکس کے علاوہ تعمیراتی اشیاء اور کچرا نذر آتش کرنے سے بھی آلودگی ہورہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT