Friday , June 22 2018
Home / سیاسیات / دہلی میں ہاؤزنگ سوسائٹی سے ایک مندر کو منتقل کردینے کی ہدایت

دہلی میں ہاؤزنگ سوسائٹی سے ایک مندر کو منتقل کردینے کی ہدایت

نئی دہلی ۔ 6 ۔ جولائی (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کی ایک عدالت نے ہاؤزنگ سوسائٹی احاطہ سے ایک مندر اور مورتیوں کو منتقل کردینے کی ہدایت دی ہے جبکہ درخواست گزاروں نے یہ شکایت ہے کہ مندر میں موسیقی کے آلات اور لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے ان کے آرام و سکون میں خلل پڑ رہا ہے ۔ عدالت نے کہاکہ شکایت کنندگان کو یہ حق ہے کہ بغیر کسی خلل اندازی کے پرامن ز

نئی دہلی ۔ 6 ۔ جولائی (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کی ایک عدالت نے ہاؤزنگ سوسائٹی احاطہ سے ایک مندر اور مورتیوں کو منتقل کردینے کی ہدایت دی ہے جبکہ درخواست گزاروں نے یہ شکایت ہے کہ مندر میں موسیقی کے آلات اور لاؤڈ اسپیکر کے استعمال سے ان کے آرام و سکون میں خلل پڑ رہا ہے ۔ عدالت نے کہاکہ شکایت کنندگان کو یہ حق ہے کہ بغیر کسی خلل اندازی کے پرامن زندگی گزاریں اور میونسپل کارپوریشن آف دہلی کو ہدایت دی کہ اندرون دو ماہ یہ مندر کسی دوسرے مقام پر منتقل کردیں اور شمال مغربی دہلی میں واقع کے این کاٹجو مارگ پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤز آفیسر سے کہا کہ اس کے احکامات پر عمل آوری کریں۔ ڈسٹرکٹ جج پردیپ چڈھا نے دھرو اپارٹمنٹ روہنی کے دہلی پردیش کوآپریٹیو گروپ ہاؤزنگ سوسائٹی کے ارکان کو ہدایت دی کہ مندر میں لاؤڈ اسپیکر اور موسیقی کے آلات کے استعمال کو فی الفوری بند کردیا جائے ۔ ڈسٹرکٹ جج نے کہا کہ مدعی علیہ کو میں یہ ہدایت دیتا ہوں کہ مندر کی منتقلی تک کسی بھی قسم کے موسیقی آلات یا لاؤڈ اسپیکر کیاستعمال فی الفور روک دیا جائے اور لاؤڈ اسپیکر یا موسیقی آلات (بھجن ) کے بغیر پوجا پاٹ کیاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ مدعی علیہ اس بات کو یقینی بنانے کے دو ماہ تک درخواست گزاروں کو کم سے کم زحمت دی جائے اور سوسائٹی کے باہر دوسری جگہ (اراضی) کاانتخاب کیا جائے ۔ علاوہ ازیں سوسائٹی اور اس کے ارکان پی این لوتھر اور ایس بی سنگھل کو ہدایت دی کہ شکایت کنندہ این سی جین جو کہ روہن سیکٹر 13 میں ایک اپارٹمنٹ کے مکینے ہیں، 50 ہزار روپئے ہرجہ و خرچہ ادا کریں۔ عدالت نے بتایا کہ مسٹر این سی جین ایک معمر شہری ہیں اور پرامن زندگی گزارنے اور پرسکون نیند لینے کا حق رکھتے ہیں جنہوں نے سیول جج کے فیصلہ کو ڈسٹرکٹ کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور یہ شکایت کی تھی کہ سیول جج نے مندر میں لاؤڈ اسپیکر اور موسیقی کے آلات استعمال سے سوسائٹی کو باز رکھنے کیلئے ان کی درخواست کو مسترد اور ہرجانہ عائد کنرے انکار کردیا تھا جبکہ صوتی آلودگی میں اضافہ کے ساتھ نقص امن کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ جین نے اپنی عرضی میں یہ بھی ادعا کیا تھا کہ سوسائٹی کے ارکان نے زیر زمین آلہ ذخیرہ (ریزروائر) اور فائر فانٹنگ ٹینک کے پلیٹ فارم پر قبضہ کرلیا ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مدعی علیہان نے ان کے فلیٹ کے قریب غیر قانونی طریقہ سے مندر تعمیر کردیا ہے جس پر پولیس آر ایم سی ڈی میں شکایت کی گئی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ انہوں نے بتایا کہ سوسائٹی کے دو ارکان ان کی نجی زندگی کے حق کو سلب کرنے کی کوشش کر رہے ہیںاور تعمیرات کی وجہ سے صوتی آلودگی کے ساتھ مکینوں کی سیکوریٹی کیلئے خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ ڈسٹرکٹ جج نے یہ نشاندہی کی کہ مختلف مذہبی اور دیگر تقاریب کیلئے اس مندر کا استعمال ہوں جسے کثیر تعداد میں بھکت اور دیگر افراد جب بھی کیرتن اور جاگرن منعقد کئے جاتے ہیں آتے ہیں، جس کے دوران واٹر ٹینک کی چھت سے کئی ایک بھکت چڑھ جاتے ہیں ۔ فلیٹس کے مکینوں کی نجی زندگی میں تانک جھانک کا اندیشہ رہتا ہے ۔ عدالت کی کارروائی کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ قوانین قومی دارالحکومت علاقہ دہلی (خصوصی دفعات) ایکٹ 2011 ء کے پیش نظر سیول جج نے راحت دینے سے معذرت ظاہر کی کیونکہ یہ ایکٹ ایم سی ڈی جیسے مقامی اداروں کو دہلی شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے اختیارات سے باز رکھتا ہے جس کی وجہ سے سیول جج نے مذکورہ ایکٹ کے مطابق غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی ہے۔ ایم سی ڈی کے وکیل نے بتایا کہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیںکیونکہ اس ایکٹ میں کارروائی کا اختیار نہیں دیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT