Tuesday , July 17 2018
Home / اداریہ / دہلی میں ہلاکت خیز آلودگی

دہلی میں ہلاکت خیز آلودگی

ہوا سکون کی عنقا ہے کیا کیا جائے
بغیر سانس کے جینا ہے کیا کیا جائے
دہلی میں ہلاکت خیز آلودگی
ملک کے دارالحکومت دہلی کی حالت ان دنوں انتہائی ابتر ہے ۔ یہاں لوگوں کو سانس لینے میں بھی احتیاط سے کام لینا پڑ رہا ہے کیونکہ دہلی کی فضا میں جو آلودگی پھیل گئی ہے وہ انتہائی درجہ تک پہونچ گئی ہے اور کھلی ہوا میں سانس لینا تک مضر صحت ہوگیا ہے ۔ ایسا نہیںہے کہ دہلی میں آلودگی کوئی نیا مسئلہ ہے ۔ یہ ابتداء سے ایک سنگین مسئلہ رہا ہے لیکن افسوس اس بات کا رہا ہے کہ اب تک اس مسئلہ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی اس آلودگی پر قابو پانے کیلئے کوئی ایسے اقدامات کئے گئے جن سے عوام کو کوئی راحت نصیب ہوسکتی تھی ۔ بے ہنگم ٹریفک ‘ منصوبہ سے عاری تعمیرات ‘ ٹاؤن پلاننگ شعبہ کی لا پرواہی ‘ صنعتوں کالا متناہی سلسلہ اور ایسی بے شمار وجوہات ہیں جن کی وجہ سے آج دہلی کی فضا سانس لینے کے قابل بھی نہیں رہ گی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی میں اسکولس کو تعطیلات کا اعلان کردیا گیا ۔ اگر یہی صورتحال کچھ اور دن برقرار رہتی ہے تو عوام کو گھروں سے نکلنے سے گریز کرنے کا مشورہ بھی دیا جانا ضروری ہوسکتا ہے ۔ اب حکومت کی جانب سے گاڑیوں کے چلانے پر کچھ تحدیدات عائد کی جار ہی ہیں۔ یہ کوئی مستقل حل نہیں ہوسکتا ۔ یہ محض ایک وقتی اور عارضی اقدام ہوسکتا ہے ۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے ایک جامع منصوبہ تیار کرنے کی ضرورت ہے اور اس میں ہر اس شعبہ کا احاطہ کرنے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے آلودگی کی شرح میں اضافہ درج کیا جا رہا ہے ۔ حفظات صحت اور عوام کو راحت سے زیادہ اہمیت کسی چیز کو نہیں دی جانی چاہئے ۔ صنعتوں کا قیام اور تعمیرات کو خاص طور پر اس معاملہ میں ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے ۔ ان شعبہ جات میں ایسی شرائط لاگو کرنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ آلودگی پھیلنے نہ پائے بلکہ اس پر قابو پانے میں بھی مدد مل سکے ۔ کچھ ماہ پہلے بھی تقریبا ایسی ہی صورتحال پیدا ہوئی تھی اور تجرباتی طور پر وہاں کچھ اقدامات کئے گئے تھے ۔ ان کی وجہ سے وقتی طور پر راحت ضرور مل گئی تھی لیکن اس کے بعد اس سنگین مسئلہ کو یکسر فراموش کردیا گیا ۔ ہر سیاسی جماعت یا حکومت صرف خود نمائی میں مصروف ہے اور اس سنگین مسئلہ پر کسی نے بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی ۔ اگر اسی وقت سے کچھ احتیاطی اقدامات کئے جاتے تو شائد اب صورتحال اتنی سنگین نہ ہوتی ۔
ایسا بھی نہیں ہے کہ صرف دہلی میں ایسا ہو رہا ہے یا صرف ہندوستان میں ہی یہ مسئلہ درپیش ہو رہا ہے ۔ ہمارے پڑوسی ملک چین میں یہ مسئلہ سب سے سنگین رہا ہے ۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں تو آلودگی کی شرح انتہاء کو پہونچ چکی تھی ۔ وہاں آلودگی کی سطح کو دیکھتے ہوئے چار طرح کی وارننگ جاری کی جاتی ہے ۔ جب یہ مسئلہ وہاں سنگینی اختیار کرچکا تھا اس کے بعد سے چین میں بھی کچھ اقدامات کئے گئے جن کے نتیجہ میں وہاں فضائی آلودگی پر قابو پانے میں قدرے مدد ضرور ملی ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ چین میں یہ مسئلہ حل کرلیا گیا ہے کیونکہ وہاں بھی بے ہنگم ٹریفک اور بے طرح تعمیرات اور مینوفیکچرنگ یونٹس کے قیام کا ایک لا متناہی سلسلہ سا چل رہا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ انتہائی گنجان آبادی والے ان دونوں ممالک ہندوستان اور چین میں دیگر مسائل کو ترجیح دیتے ہوئے حفظان صحت اور آلودگی کی شرح پر قابو پانے کے اقدامات پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی ۔ چین میں تو یہ صورتحال ہوگئی تھی کہ وہاں فضائی آلودگی کی وجہ سے ہر سال شرح اموات میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوگیا تھا ۔ا ب چین میں ایسے کچھ اقدامات کئے جا رہے ہیں جن کے نتیجہ میں آلودگی سے جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ ہوسکے اور مستقبل میں آلودگی کی شرح کو ایک حد کے اندر رکھنے میں مدد مل سکے ۔ اس کے علاوہ دنیا کے دوسرے ممالک اور شہروں میں بھی یہ مسئلہ وقتا فوقتا سامنے آتا رہا ہے ۔ چین میں تو ایک موقع پر تقریبا تمام بڑے پراجیکٹس پر کام کو روکنے پر مجبور ہونا پڑا تھا کیونکہ اس وقت کھلی ہوا میں سانس لینا بھی مضر ہوگیا تھا ۔
دہلی ہندوستان کا دارالحکومت ہے اور یہاں کی صورتحال انتہائی سنگین ہوگئی ہے ۔ اس صورتحال کو اگر فوری قابو میں نہیں کیا گیا اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کے موثر اقدامات پر فوری توجہ نہیں دی گئی تو صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہوسکتی ہے ۔ مرکزی وزارت ماحولیات اور خود حکومت دہلی کو بھی اس سلسلہ میں ایک دوسرے سے اشتراک کی ضرورت ہے ۔ ماہرین ماحولیات سے تجاویز حاصل کی جاسکتی ہیں۔ آلودگی کی وجوہات بننے والے شعبوں کیلئے رہنما خطوط جاری کئے جاسکتے ہیں۔ ان کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ بعض صورتوں میں سخت فیصلے بھی کرنے کی ضرورت ہے ۔ جب تک ایسے فیصلے نہیں کئے جاتے اس وقت تک حکومتوں کی سنجیدگی پر سوال پیدا ہوتے رہیں گے ۔ آلودگی کی اس انتہائی سنگین صورتحال پر فوری توجہ کے ساتھ تدارک کے اقدامات کو اولین ترجیح دینے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT