Wednesday , December 13 2017
Home / مضامین / دہلی میں ہمی بولا کریں امن کی بولی

دہلی میں ہمی بولا کریں امن کی بولی

رشیدالدین
پاکستان کی طرف مودی حکومت کا اچانک جھکاؤ
پس پردہ کونسی طاقتیں ؟

گزشتہ 10 دنوں میں ایسا کیا کرشمہ ہوگیا کہ ہند۔پاک کشیدگی ، دوستی میں بدلنے لگی اور باہمی تعلقات پر جمی ہوئی برف پگھلنے لگی ہے۔ دو ملک جو ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے اور بات چیت کیلئے تیار نہیں تھے، لیکن اچانک موسم نے ایسا مزاج بدلا کہ نہ صرف خوشگوار ملاقاتیں شروع ہوگئیں بلکہ جامع مذاکرات کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا۔ اتنا ہی نہیں وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ پاکستان کا اعلان کردیا گیا۔ جن ممالک کی سرحدوں پر بندوق کی گولیاں ایک دوسرے کی فوج کا تعاقب کر رہی ہیں، وہاں سفارتی سطح پر حالات اس قدر تیزی سے بدلے کہ موسم کی تبدیلی کو بھی مات دیدی۔ نریندر مودی حکومت جو سرحد پر گولی اور بات چیت کی بولی کو یکجا کرنے کیلئے تیار نہیں تھی اور اچانک کیوں یہی حکومت پاکستان پر وارے نیارے ہورہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ سرحد پر دراندازی کشمیر میں دہشت گرد حملوں کا سلسلہ ختم ہوگیا ، پھر بھی ہندوستانی قیادت کے منہ سے جہاں اکثر آگ نکلتی رہی تھی ، آج پھول برس رہے ہیں۔ ملک کے عوام صورتحال میں اچانک اس تبدیلی کا راز جاننا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن توکجا اقتدار میں آنے کے بعد بھی بی جے پی حکومت نے پاکستان کے ساتھ رویہ میں تبدیلی نہیں لائی ۔ سنگھ پریوار اور شیوسینا نے پاکستان سے مذاکرات کی ہمیشہ مخالفت کی لیکن اچانک دوستی کی فضاء ناقابل فہم اور باعث حیرت ہے۔ پڑوسیوں کے درمیان دوستی کی بحالی آسان ضرور ہے لیکن جب پڑوسی ہندوستان اور پاکستان ہوں تو یہ کام آسان نہیں۔

کون ہے اس پردہ زنگاری میں جس نے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر آنے کیلئے مجبور کردیا۔ ظاہر ہے کہ وہ ایسی طاقت ہوگی جس کے مفادات بیک وقت دونوں سے وابستہ ہیں اور ان دونوں کو اس طاقت کی ضرورت ناگزیر حد تک ہوگی۔ دونوں ممالک میں کشیدگی کے خاتمہ کی خواہش کسے نہیں لیکن ہندوستان نے اپنے اصولوں سے جس طرح انحراف کیا ہے، اس کی مثال حالیہ عرصہ میں شاید ہی ملتی ہو۔ نریندر مودی حکومت کا یہ دوہرا معیار نہیں تو کیا ہے ۔ دہشت گردی کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر بات چیت کی حامی بھردی گئی۔ نریندر مودی حکومت کا یہ فیصلہ نہ صرف بی جے پی کی پالیسی اور ایجنڈہ کے برخلاف ہے بلکہ قومی پالیسی میں بھی تضاد صاف طور پر جھلک رہا ہے۔ سرحد پار دہشت گردی ، دراندازی اور پاکستانی ہائی کمشنر کی جانب سے حریت قائدین سے ملاقات کے پس منظر میں نریندر مودی نے بعض بیرونی دوروں میں پاکستانی وزیراعظم کا سامنا کرنے سے گریز کیا تھا۔ ہندوستان نے اگست میں معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت سے دوری اختیار کرلی تھی لیکن 30 نومبر کو پیرس میں ماحولیات کانفرنس کے موقع پر دنیا نے مودی اور نواز شریف کی ملاقات کے جو مناظر دیکھے کسی کو یہ یقین نہیں ہورہا تھا کہ یہ دونوں  ہند۔پاک وزرائے اعظم ہیں۔ حریف کے بجائے حلیف ممالک کے قائدین کی طرح دونوں نے نہ صرف ملاقات کی بلکہ آپس میں سرگوشیاں کرتے نظر آئے۔ اس طرح پیرس دونوں ملکوں میں تبدیلی کا پلیٹ فارم ثابت ہوا۔

کیا وہاں کے خوشگوار موسم نے دونوں ممالک کے قائدین کے دماغ میں ناراضگی کے جذبات کو ختم کردیا یا پھر کوئی تیسری طاقت ڈور ہلا رہی ہے۔ پیرس میں ملاقات کے فوری بعد بنکاک میں مشیران قومی سلامتی نے جامع مذاکرات کا خاکہ تیار کیا۔ تیسرے مقام پر مشیران قومی سلامتی کی ملاقات خود اس بات کا اشارہ ہے کہ درپردہ کوئی تیسری طاقت دونوں ممالک کے درمیان فریق کے طور پر کام کر رہی ہے ۔ اب تو معتمدین خارجہ کی آئندہ ماہ دہلی میںملاقات کا اعلان ہوگیا اور عمران خان نے نریندر مودی سے ملاقات کی ہے۔ جامع مذاکرات کا احیاء تو ٹھیک ہے لیکن دہشت گردی کے ساتھ کشمیر مسئلہ پر بات چیت سے اتفاق چونکا دینے والا ہے اور یہ ہندوستان کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے ۔ اس قدر اہم فیصلہ سے قبل حکومت کو چاہئے تھا کہ قوم کو اعتماد میں لیتی۔ اس فیصلہ سے مسلح افواج کے حوصلوں پر کاری ضرب لگے گی جو سرحد کی حفاظت کیلئے وطن پر جان نچھاور کر رہے ہیں۔ کشمیر خالص ہندوستان کا داخلی معاملہ ہے ، اس پر دوسرے ملک سے کس طرح بات چیت کی جاسکتی ہے؟ پارلیمنٹ کی قرارداد موجود ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو واپس لینے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ برخلاف اس کے کشمیر کے اپنے حصہ پر پاکستان سے بات چیت کا فیصلہ دور رس نتائج کا حامل ہوسکتا ہے ۔

قومی موقف اور بی جے پی کا منشور بھی یہی ہے کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان سے بات چیت نہیں کی جاسکتی لیکن بی جے پی نے صاف طور پر اپنے ایجنڈہ سے انحراف کردیا ہے۔ بی جے پی کو چاہئے کہ وہ اس موقف کی وضاحت کرے یا پھر اپنے ایجنڈہ کو تبدیل کرنے کا اعلان کرے۔ پیرس میں مودی ۔نواز شریف کی ملاقات کے بعد دس دن بدن حالات جس تیزی سے بدلتے دکھائی دے رہے ہیں اور دونوں ممالک کی قیادتوں کا لہجہ جس طرح تبدیل ہوا ہے ، آخر اس کا راز کیا ہے؟ پاکستان نے خیرسگالی اور امن کا ایسا کیا مظاہرہ پیش کیا کہ ہندوستانی حکومت نے 26/11 ممبئی حملہ ، سرحدوں پر فوج اور عام شہریوں کی ہلاکت کو فراموش کردیا۔ جس وقت پیرس میں مودی۔نواز شریف ملاقات جاری تھی ، کشمیر میں فوجی چوکیوں پر حملے بھی جاری تھے۔ کشمیر ہندوستان کی دیگر ریاستوں کی طرح ایک ریاست ہے اور وہاں کی صورتحال کا پاکستان کی مجموعی صورتحال سے تقابل کریں تو بہتر نظر آئے گی۔ کانگریس دور حکومت میں بی جے پی کا موقف فوج کشی کے ذریعہ مقبوضہ کشمیر کی بازیابی تھا لیکن اقتدار میں آتے ہی دوہرا معیار۔ کیا پاکستان نے 26/11 ممبئی حملوں کے ماسٹر مائینڈ حافظ سعید اور ذکی الرحمن لکھوی کے خلاف کارروائی کی ہے ؟ ہندوستان کے لاکھ دباؤ کے باوجود وہ آزاد ہیں اور ہر بار کی طرح اس بار بھی پاکستان نے صرف مقدمہ میں تیزی پیدا کرنے کا تیقن دیا ہے ۔ یوپی اے دور میں پاکستان سے مذاکرات کی مخالفت کرنے والے آج اصولوں سے منحرف کیوں ہوگئے؟ اگر کانگریس حکومت ہوتی تو اس پر ملک کی سلامتی سے سودے بازی کا الزام عائد کردیا جاتا لیکن حکومت کے اس یو ٹرن پر سنگھ پریوار کی زبان بھی گنگ ہے۔ آخر ملک کی خارجہ پالیسی پر کون کنٹرول کر رہا ہے ؟ 18 ماہ سے وزارت خارجہ کی ذمہ داری عملاً وزیراعظم نبھا رہے تھے لیکن پاکستان کے معاملہ میں سشما سوراج کو آگے کردیا گیا۔ عوام بھی دونوں ممالک میں پائیدار امن کے خواہاں ہیں لیکن دوستی برائے مفادات نہ ہو بلکہ دونوں ممالک کے قومی مفادات کو پیش نظر رکھا جائے۔ دوستی کا یہ دور موقتی ثابت نہ ہو۔ اس کے علاوہ پاکستان کو جوابی خیرسگالی کا مظاہر کرتے ہوئے مخالف ہندوستان طاقتوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے ، ورنہ صورتحال کے دوبارہ کشیدہ ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔

پاکستان سے اچانک رشتوںکی بحالی اور آئندہ سال وزیراعظم کے دورہ کے اعلان پر سیاسی مبصرین مختلف انداز میں تبصرے کر رہے ہیں۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ نریندر مودی نے اپنے ورلڈ ٹور مشن کی تکمیل کیلئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ مودی ان دنوں ورلڈ ٹور مشن پر ہیں اور شائد انہیں پڑوسی ملک پاکستان نہ جانے کا غم ستا رہا ہے۔ لہذا آئندہ سال سارک چوٹی کانفرنس کے نام پر دورہ پاکستان کا اعلان کیا گیا اور اس کی راہ ہموار کرنے ابھی سے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ دورہ پرامن انداز میں مکمل ہوجائے۔ مودی کے دورہ پاکستان کو کامیاب کرنے کیلئے ہوسکتا ہے کہ یہ عارضی طور پر کشیدی کم کرنے کی حکمت عملی ہو۔ کشیدہ ماحول کی صورت میں پاکستان کا دورہ ممکن نہیں ہوپائے گا اور کم وقت میں زائد ممالک کے دورہ کا مودی کا ریکارڈ بھی ادھورا رہ جائے گا۔

پاکستان سے اچانک تعلقات میں بہتری اور نریندر مودی کے دورہ پر سنگھ پریوار اور شیوسینا کا ردعمل ابھی سامنے نہیں آیا ہے۔ مذاکرات کی سختی سے مخالفت کرنے والی شیوسینا کیا حکومت کی تائید سے دستبرداری اختیار کرلے گی؟ یہ عجیب اتفاق ہے کہ اٹل بہاری واجپائی کے بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے وزیراعظم کا تعلق بی جے پی سے ہے۔ واجپائی نے 2004 ء میں سارک چوٹی کانفرنس میں شرکت کیلئے اسلام  آباد کا دورہ کیا تھا۔ اور مودی بھی 12 سال بعد اسی کانفرنس میں جائیں گے۔ این ڈی اے کے 18 ماہ کے دور میں مودی حکومت کے پہلے وزیر کی حیثیت سے سشما سوراج نے پاکستان کا دورہ کیا۔ وہ گزشتہ تین برسوں میں پاکستان کا دورہ کرنے والی پہلی وزیر خارجہ ہیں۔ 2012ء میں ایس ایم کرشنا نے یو پی اے حکومت کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے پاکستان کا دورہ کیا تھا ۔ اس طرح کانگریس کے مقابلہ میں بی جے پی کو پاکستان سے کچھ زیادہ ہی دلچسپی دکھائی دے رہی ہے۔ ظاہر ہے جس پارٹی کے سینئر قائدین کا تعلق پاکستان سے رہا ہو اس پارٹی کی اس ملک سے دلچسپی فطری ہے۔ نریندر مودی نے حلف برداری میں بھی نواز شریف کو مدعو کیا تھا ۔ لوک سبھا انتخابات کی مہم کے دوران مودی نے کہا تھا کہ پاکستان کو لو لیٹر لکھنے کے بجائے اس کی زبان میں جواب دینا چاہئے ۔ شائد مودی اپنے اس ڈائیلاگ کو بھول چکے ہیں ۔ بہار کی انتخابی مہم کے دوران امیت شاہ نے بی جے پی کی شکست کی صورت میں پاکستان میں پٹاخے چھوڑنے کی بات کہی تھی۔ اب پارٹی صدر کی حیثیت سے امیت شاہ بتائیں کہ کیا سشما سوراج آتشبازی کی کسی تقریب میں حصہ لینے کیلئے پاکستان تو نہیں گئی تھیں؟ پاکستان کی طرف مودی حکومت کے اچانک اس جھکاؤ پر وہ تنظیمیں اور قائدین بھی خاموش ہیں جو بات بات پر اپنے مخالفین کو پاکستان بھیجنے کی دھمکی یا جانے کی صلاح دیتے رہے ہیں۔ پاکستانی ٹورازم کے ان برانڈ ایمبسیڈرس کی مہم کا دوسروں پر تو کوئی اثر نہیں پڑا لیکن خود ان کی وزیر خارجہ پاکستان پہنچ گئیں۔ اس طرح کم از کم اس مہم کا حکومت کے وزیر پر اثر دکھائی دیا ہے۔ پاکستان کے نام پر مسلمانوں اور دیگر سیکولر افراد کو نشانہ بنانے والوں نے حالیہ عرصہ میں کئی اہم شخصیتوں کو پاکستانی قرار دے دیا۔ پاکستانی فنکاروں کو ہندوستان میں پروگرام کی اجازت نہیں دی گئی۔ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ محمود قصوری کے ہندوستانی میزبان کلکرنی کے منہ پر کالک پوت دی گئی۔ الغرض سیاسی مقصد براری کیلئے پاکستان کا نام لیکر کئی گل کھلائے گئے لیکن آج ان کی زبانیں کیوں خاموش ہیں جب خود حکومت کا جھکاؤ پاکستان کی طرف ہے۔ کیا پراوین توگاڑیہ ، سادھوی نرنجن جیوتی ، ساکشی مہاراج ، سادھوی پراچی اور یوگی ادتیہ ناتھ ،سشما سوراج کو پاکستانی قرار دیں گے؟ ظاہر ہے جب ان کے لوگ ہی پاکستان جانے لگیں تو پھر ان کا گوشہ نشین ہونا یقینی ہوگا۔ دونوں ملکوں میں جب باہمی تعلقات اس قدر تیزی سے استوار ہورہے ہیں تو پھر کرکٹ سیریز سری لنکا میں کیوں ہو؟ دونوں ممالک اپنی سرزمین پر میچس کا اہتمام کریں تاکہ عوام کے درمیان رشتہ مضبوط ہوسکے۔ ڈاکٹر راحت اندوری نے ہند۔پاک رشتوں پر کیا خوب تبصرہ کیا ہے   ؎
دہلی میں ہمی بولا کریں امن کی بولی
یارو کبھی تم لوگ بھی لاہور سے بولو

TOPPOPULARRECENT