Friday , November 24 2017
Home / ہندوستان / دہلی کا بدنام زمانہ تنور قتل کیس

دہلی کا بدنام زمانہ تنور قتل کیس

20سال کی قید کے بعد ملزم شرما کی پیرول پر رہائی
نئی دہلی۔/15ستمبر، ( سیاست ڈاٹ کام )سابق یوتھ کانگریس لیڈر سشیل شرما جوکہ اپنی بیوی نینا ساہنی کے سنسنی خیز قتل کے الزام میں گذشتہ 20سال سے جیل میں مقید ہیں ، دہلی ہائی کورٹ نے آج انہیں پیرول پر رہا کردیا۔عدالت نے کہا کہ بااختیار اتھاریٹی جب تک ان کی سزائے قید میں تخفیف اور مستقل رہائی کے بارے میں فیصلہ نہیں کرتی اس وقت تک وہ جیل کے باہر رہیں گے۔ جسٹس سدھارتھ مردول نے یہ کہتے ہوئے رہائی کا حکم دیا کہ چونکہ وہ گزشتہ 20سال سے جیل میں سزاء کاٹ رہے ہیں اور رہائی اب ان کا حق بن گئی ہے۔ دہلی حکومت نے بتایا ہے کہ سزائے عمر قید پر نظر ثانی کے بورڈ نے پہلے ہی یہ فیصلہ کرلیا ہے لیکن بااختیار اتھاریٹی کے پاس یہ مسئلہ معرض التواء ہے جس کے پیش نظر فیصلہ پر عمل آوری کی ہدایت دے دی گئی۔ ایڈیشنل اسٹانڈنگ کونسل برائے حکومت دہلی نے عدالت کو مطلع کیا ہے کہ شرما کی رہائی کا فیصلہ کرلیا گیا اور قطعی احکامات لیفٹننٹ گورنر کو جاری کرنا ہے۔ واضح رہے کہ یوتھ کانگریس لیڈر کو جس کیس میں سزائے قید ہوئی وہ تنورقتل کیس سے مشہور ہوا تھا۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کے قتل کے بعد ثبوت مٹانے کیلئے نعش کو ایک ہوٹل کے تندور ( بھٹی ) میں جلادیا تھا۔ سشیل شرما نے عدالت سے رجوع ہوکر یہ استدلال پیش کیا ہے کہ وہ جیل میں 20سال گذارے ہیں۔ سینٹنس ریویو بورڈ کے رہنمایانہ خطوط کے مطابق قبل از وقت رہائی کا استحقاق رکھتے ہیں۔ جبکہ یوتھ کانگریس لیڈر نے اپنی بیوی کے کردار پر شک کرتے ہوئے2جولائی 1995 کو اپنے لائسنس یافتہ ریوالور سے ماردیا اور نعش کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہوٹل کے تندور میںڈال کر جلادیا تھا۔ اگرچیکہ دہلی کی عدالت نے 2003میں انہیں موت کی سزا دی تھی لیکن سپریم کورٹ نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔شرما نے اس بنیاد پر رہائی کی درخواست پیش کی ہے کہ اس کی والدہ شدید علیل ہیں اور وہ اپنی والدہ کی خدمت کرنا چاہتا ہے۔ جس پر عدالت نے عرضی قبول کرتے ہوئے پیرول پررہائی کی منظوری دے دی ہے۔ توقع ہے کہ وہ بہت جلد بلا تعین مدت جیل سے رہا کردیئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT