Friday , November 24 2017
Home / کھیل کی خبریں / دہلی کی پلے آف مرحلہ پر نظر ، آج پونے سے مقابلہ

دہلی کی پلے آف مرحلہ پر نظر ، آج پونے سے مقابلہ

وشاکھاپٹنم ، 16 مئی (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ڈیرڈیولز جنھیں گزشتہ میچ میں ممبئی انڈینس نے بری طرح ہرایا، عزم و حوصلہ جٹاتے ہوئے ایک اور کوشش کریں گے کہ پلے آف مرحلہ تک رسائی کی دوڑ میں برقرار رہیں، جب وہ انڈین پریمیر لیگ میں نچلی پوزیشن پر موجود رائزنگ پونے سوپرجائنٹس سے کل یہاں کھیلیں گے۔ دہلی والے اس سیزن کبھی نرم کبھی گرم دکھائی دیئے اور ظہیر خان کی ٹیم کو اپنی بے استقلال روش ترک کرنی پڑے گی کیونکہ ٹورنمنٹ اپنے فیصلہ کن موڑ کی بڑھ رہا ہے۔ 11 میچز میں چھ کامیابیوں کے ساتھ دہلی 12 پوائنٹس لے کر پانچویں مقام پر ہے اور وہ بلاشبہ کل کے میچ سے شروعات کرتے ہوئے بقیہ تینوں مقابلے جیتنا چاہیں گے تاکہ ناک آؤٹ مرحلے میں مقام مل جائے۔ دوسری طرف پونے کی قابل فراموش مہم ہوئی ہے اور وہ مسابقتی دوڑ سے خارج ہوچکے ہیں لیکن ایم ایس دھونی کی ٹیم دیگر ٹیموں کا کھیل بگاڑ کر اس ٹورنمنٹ کا اختتام بلند حوصلہ پر کرنا چاہے گی۔ گزشتہ روز یہاں ڈاکٹر وای ایس راج شیکھر ریڈی اے سی اے۔ وی ڈی سی اے کرکٹ اسٹیڈیم میں اپنے گزشتہ میچ میں دہلی والوں کو ممبئی انڈینس کے کرونل پانڈیا کے 37 گیندوں میں طوفانی 86 رنز نے بڑی زک پہنچائی۔ امیت مشرا اور کرس موریس کی اسپن جوڑی جو ابھی تک ترتیب وار 13 اور 11 وکٹس کے ساتھ دہلی کی طرف سے کامیاب ترین بولرز ثابت ہوئے ہیں، انھیں یقینی بنانا پڑے گا کہ وہ سوپرجائنٹس کو ردھم حاصل کرنے کا موقع نہ دیں۔ دہلی کیپٹن ظہیر خان نے اپنے کھلاڑیوں کا مجموعی طور پر اچھا استعمال کیا ہے اور 9 وکٹیں لے کر پیش پیش رہے ہیں، اور ممبئی کے خلاف ٹیم کی شکست میں بھی انھوں نے چار اوورز میں 23 رنز کے عوض ایک وکٹ لے کر سب سے کفایتی گیندبازی کی۔ وہ اختتامی اوورز میں بھی متاثرکن رہے ہیں اور کل اپنے کلیدی مقابلے میں اُن کا رول مزید اہم رہے گا۔ بیٹنگ میں دہلی کی صفوں میں بعض معیاری کھلاڑی ہیں جیسے کوئنٹن ڈی کاک، وکٹ کیپر بیٹسمن سنجو سامسن اور ٹاپ آرڈر کے کرون نائر۔ ٹیم مینجمنٹ کو یہی توقع رہے گی کہ وہ بھرپور مظاہرہ پیش کریں۔ پونے رنز کیلئے اجنکیا رہانے پر انحصار کرتا آیا ہے جبکہ کپتان دھونی نے اختتامی اوورز میں کچھ تیزی لانے کی کوشش کی لیکن دیگر بیٹسمنوں کی طرف سے کچھ خاص مدد نہیں ملی ہے۔ عثمان خواجہ، جارج بیلی، سوربھ تیواری اور آل راؤنڈر تھسارا پریرا نے کہیں کوئی میچ اچھا ضرور کھیلا مگر وہ استقلال سے عاری رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT