’دہلی کی ہدایت پر عمل کرتا تو اسمبلی تحلیل نہ کرتا ‘

کشمیر میں مرکز کے دباؤ میں کام کرنے کے الزام پر ستیہ پال کا جواب
جموں ؍ سرینگر ۔ 27 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکز کیلئے ممکنہ طور پر الجھن پیدا کرنے والے ریمارکس میں گورنر جموں و کشمیر ستیہ پال ملک نے کہا کہ اگر وہ دہلی کی طرف نظریں جمائے رکھتے تو وہ سجاد لون زیرقیادت حکومت بنا دیتے۔ اپوزیشن نے گورنر پر الزام عائد کیا ہیکہ وہ ریاست میں بی جے پی کی تائید والی حکومت قائم کرنے کیلئے مرکز کی طرف سے دباؤ میں ہے۔ ستیہ پال کے دعویٰ پر مرکز یا بی جے پی کی طرف سے فوری کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ گورنر نے کہا کہ تاریخ انہیں دیانتدار شخص کے طور پر یاد رکھتی اگر وہ سجاد لون کو حکومت تشکیل دینے کی دعوت دیتے۔ سجاد لون پیپلز کانفرنس کے لیڈر ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور نیشنل کانفرنس کے سربراہان محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ جو دونوں سابق چیف منسٹرس ہیں، انہوں نے گورنر کو سراہا کہ وہ دہلی کی طرف سے دباؤ میں نہیں آئے اور بی جے پی اور اس کے حامیوں کی حکومت تشکیل پانے نہیں دی۔ ستیہ پال نے 21 نومبر کی رات جموں و کشمیر اسمبلی کو یکایک تحلیل کردیا جبکہ پی ڈی پی نے کٹر حریف این سی اور کانگریس کی حمایت کے ساتھ تشکیل حکومت کا دعویٰ پیش کیا تھا۔ محبوبہ مفتی نے 87 رکنی اسمبلی میں 57 ایم ایل ایز کی تائید حاصل ہونے کی بات کہی تھی۔ اس کے فوری بعد تشکیل حکومت کیلئے ایک اور کوشش پیپلز کانفرنس کی طرف سے ہوئی جس نے بی جے پی اور دیگر پارٹیوں کے 18 لیجسلیٹرس کی تائید حاصل ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ گورنر نے دونوں دعوؤں کو قبول نہیں کیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT