Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / دہلی کے اے پی بھون میں ڈرامائی مناظر

دہلی کے اے پی بھون میں ڈرامائی مناظر

حیدرآباد /5 فروری (سیاست نیوز) اے پی بھون (دہلی) میں تلنگانہ اور سیما۔ آندھرا حامیوں کے درمیان ہاتھا پائی ہو گئی، جب کہ محمد علی شبیر، خاتون وزراء ڈی کے ارونا، سنیتا لکشما ریڈی اور ڈاکٹر جے گیتا ریڈی کو پولیس نے زبردستی ہٹا دیا۔ واضح رہے کہ اے پی بھون میں آج ڈرامائی مناظر دیکھے گئے، تلنگانہ اور سیما۔ آندھرا کے حامی تلنگانہ کی تائید و

حیدرآباد /5 فروری (سیاست نیوز) اے پی بھون (دہلی) میں تلنگانہ اور سیما۔ آندھرا حامیوں کے درمیان ہاتھا پائی ہو گئی، جب کہ محمد علی شبیر، خاتون وزراء ڈی کے ارونا، سنیتا لکشما ریڈی اور ڈاکٹر جے گیتا ریڈی کو پولیس نے زبردستی ہٹا دیا۔ واضح رہے کہ اے پی بھون میں آج ڈرامائی مناظر دیکھے گئے، تلنگانہ اور سیما۔ آندھرا کے حامی تلنگانہ کی تائید و مخالفت میں نعرے لگاتے ہوئے ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے اور ایک دوسرے سے ہاتھا پائی کی، جب کہ پولیس کی جانب سے بے دردی سے دھکا دینے کے سبب خاتون وزراء زخمی ہو گئیں۔ دریں اثناء رکن قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے کہا کہ بحیثیت چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کو علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے خلاف احتجاجی دھرنا منظم کرنے کا اخلاقی حق نہیں ہے، پہلے وہ چیف منسٹر کے عہدہ سے مستعفی ہو جائیں، اس کے بعد احتجاج کریں۔ وہ تینوں علاقوں کے چیف منسٹر ہیں،

تاہم سیما۔ آندھرا کی قیادت کرکے تلنگانہ عوام کی توہین اور پارٹی فیصلہ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اسی دوران ریاستی وزیر سنیتا لکشما ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر کے اشارہ پر پولیس عہدہ داروں نے ہمارے ساتھ غیر اخلاقی برتاؤ کیا، جس کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چیف منسٹر متحدہ آندھرا کی تحریک چلا رہے ہیں، جس کے بارے میں ہم ان سے دریافت کرنے والے تھے، تاہم متحدہ آندھرا کے حامیوں اور پولیس نے ہمیں دھکیل دیا، جب کہ چیف منسٹر نے اس غیر اخلاقی عمل پر مسکراہٹ بکھیرکر ہماری توہین کی ہے۔ ریاستی وزیر ڈی کے ارونا نے کہا کہ چیف منسٹر کا ریاست کی تقسیم کے خلاف دھرنا غیر اخلاقی اور غیر دستوری ہے، جب کہ متحد رہنے کے لئے تینوں علاقوں کے عوام اور عوامی نمائندوں کا اتحاد و اتفاق ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT