Thursday , September 20 2018
Home / سیاسیات / دہلی کے مسلم علاقہ میں کرن بیدی کے دورہ پر احتجاج

دہلی کے مسلم علاقہ میں کرن بیدی کے دورہ پر احتجاج

نئی دہلی ۔ 6 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : چیف منسٹر کے عہدہ کے لیے بی جے پی امیدوار کرن بیدی نے آج مسلم اکثریتی علاقہ کھجوری خاص کے حلقہ کرشنا نگر میں دورہ کیا جس پر مقامی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انتخابات سے ایک دن قبل مہم چلانا ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ قومی دارالحکومت میں گھمسان انتخابی جنگ کی مہم کل اختتا

نئی دہلی ۔ 6 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : چیف منسٹر کے عہدہ کے لیے بی جے پی امیدوار کرن بیدی نے آج مسلم اکثریتی علاقہ کھجوری خاص کے حلقہ کرشنا نگر میں دورہ کیا جس پر مقامی لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انتخابات سے ایک دن قبل مہم چلانا ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی ہے ۔ قومی دارالحکومت میں گھمسان انتخابی جنگ کی مہم کل اختتام پذیر ہوگئی تھی ۔ ایک مقامی ووٹر نے استفسار کیا کہ وہ کس طرح یہاں کا دورہ کرسکتی ہیں ۔ جب کہ انتخابی مہم کل ختم ہوچکی ہے ۔ ان کے دورہ سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی ہوئی ہے ۔ مقامی لوگوں نے جب ان کی کار کو گھیراؤ کیا تو کرن بیدی کو مجبوراً وہاں سے نکل جانا پڑا ۔ گوکہ بی جے پی کے حامیوں نے بتایا کہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ بند کمرہ میں اجلاس منعقد کرنے کے لیے یہاں آئی ہیں بعد ازاں پولیس نے مداخلت کر کے احتجاجیوں کو منتشر کردیا ۔ تاہم حلقہ کرشنا کے عام آدمی پارٹی امیدوار مسٹر ایس کے بگا نے الزام عائد کیا کہ کرن بیدی آج صبح سے ہی سینکڑوں حامیوں کے ساتھ رائے دہندوں سے شخصی ملاقاتیں کررہی تھیں ۔ جب کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے مطابق ایک امیدوار چند ایک حامیوں کے ساتھ مقامی رائے دہندوں سے ملاقات کرسکتا ہے لیکن آج صبح سے مقامی لوگوں نے مسلسل ٹیلی فون پر یہ اطلاع دی کہ کرن بیدی سینکڑوں حامیوں کے ساتھ یہاں پر مہم چلا رہی ہیں ۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کرن بیدی ایک ریٹائرڈ آئی پی ایس آفیسر اور انتخابی ضابطہ اخلاق سے بخوبی واقف ہونے کے باوجود قانون شکنی کی ہے جو کہ سرکاری مشنری کے بیجا استعمال کی تعریف میں آتا ہے ۔ دریں اثناء دہلی کی سرحد پر ہریانہ کے بہادر گڑھ میں عام آدمی پارٹی اور بی جے پی حامیوں میں معمولی تصادم کے سبب ٹیکری بارڈر پر اضافی پولیس فورس متعین کردی گئی تاکہ دہلی کی سمت سے کوئی شرانگیزی نہ کی جاسکے ۔جبکہ دہلی پولیس کی خصوصی ٹیموں نے گذشتہ دو یوم کے دوران شراب کی 42000 بوتلیں ضبط کرلیں ۔ یہ شراب رائے دہندوں میں تقسیم کیلئے ذخیرہ کی گئی تھی۔ انتخابی اعلامیہ کی اجرائی کے بعد سے مہم کے اختتام تک 32,20,000 روپئے نقد اور 40آتشیں اسلحہ بھی ضبط کرلئے گئے۔جبکہ الیکشن کمیشن نے انکم ٹیکس، سرویس ٹیکس، پولیس اور ایکسائیز ڈپارٹمنٹ سے وابستہ عہدیداروں پر مشتمل دو درجن انتخابی مبصرین کا تقرر کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT