Sunday , September 23 2018
Home / ہندوستان / دہلی ہائیکورٹ کے احاطہ میں بغیر اجازت مسجد کی تعمیر

دہلی ہائیکورٹ کے احاطہ میں بغیر اجازت مسجد کی تعمیر

نئی دہلی ۔ 11 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے آج مرکزی حکومت سے کورٹ کامپلکس کی تعمیر پر جاری کردہ احکامات اور متعلقہ ریکارڈ طلب کئے ہیں تاکہ یہ پتہ چلایا جاسکے کامپلکس کے احاطہ میں کوئی مسجد موجود تھی۔ جسٹس پردیپ نند راجوگ اور پرتیبھا رانی پر مشتمل بنچ نے وزارت شہری ترقیات اور لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفیسر کو ہدایت جاری کی ہیں جب

نئی دہلی ۔ 11 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے آج مرکزی حکومت سے کورٹ کامپلکس کی تعمیر پر جاری کردہ احکامات اور متعلقہ ریکارڈ طلب کئے ہیں تاکہ یہ پتہ چلایا جاسکے کامپلکس کے احاطہ میں کوئی مسجد موجود تھی۔ جسٹس پردیپ نند راجوگ اور پرتیبھا رانی پر مشتمل بنچ نے وزارت شہری ترقیات اور لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفیسر کو ہدایت جاری کی ہیں جبکہ ایک درخواست گزار نے یہ دریافت کیا کہ ہائیکورٹ کے احاطہ میں کسی فرقہ کے افراد اپنے مذہبی عقائد پر عمل آوری کرسکتے ہیں۔ عدالت اپنی ہدایت میں کہا کہ دہلی ہائیکورٹ کی تعمیر کیلئے جو اراضی مختص اور منظور کی گئی ، اس سے متعلق احکامات اور ریکارڈ پیش کئے جائیں اور اصل لے آؤٹ پلان بھی داخل کیا جائے ۔ مرکزی حکومت کے نمائندہ وکیل انیل سونی نے وزارت شہری ترقیات اور لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفیسر کی پیروی کرتے ہوئے عدالت کی نوٹس قبول کرلی اور عدلیہ کی ہدایت کی تعمیل سے اتفاق کیا۔ عدالت نے اس کیس کی آئندہ سماعت کی تاریخ 25 مارچ مقرر کی ہے ۔ ہائیکورٹ کی یہ ہدایت مفاد عامہ کی ا یک درخواست پر جاری کی گئی ہے جس میں درخواست گزار اجئے گوتم نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ ہائیکورٹ کے احاطہ میں واقع ایک مسجد میں عرصہ دراز سے مذہبی سرگرمیاں انجام دی جارہی ہے جس کیلئے عدالت کے حکام یا دیگر محکموں سے کوئی اجازت حاصل نہیں کی گئی ہے ۔ لہذا عدالت سے مسجد میں عبادت پر پابندی اور اس کو مسمار کرنے کی ہدایت جاری کرنے کی استدعا کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT