Saturday , June 23 2018
Home / ہندوستان / دہلی ہائیکورٹ کے احاطہ میں واقع مسجد پر اعتراض

دہلی ہائیکورٹ کے احاطہ میں واقع مسجد پر اعتراض

نئی دہلی ۔ 4 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے آج اپنے رجسٹری سے کہا ہے کہ کورٹ کامپلکس سے متعلق لیز کی اصل دستاویزات حاصل کر کے پیش کیا جائے تاکہ یہ پتہ چلایا جائے۔ کامپلکس کے احاطہ میں کبھی مسجد واقع تھی۔ جسٹس پردیپ نندراج اور آر کے گوبا پر مشتمل بنچ نے یہ احکامات اس وقت جاری کئے جب ایک درخواست گزار نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ عدالت

نئی دہلی ۔ 4 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے آج اپنے رجسٹری سے کہا ہے کہ کورٹ کامپلکس سے متعلق لیز کی اصل دستاویزات حاصل کر کے پیش کیا جائے تاکہ یہ پتہ چلایا جائے۔ کامپلکس کے احاطہ میں کبھی مسجد واقع تھی۔ جسٹس پردیپ نندراج اور آر کے گوبا پر مشتمل بنچ نے یہ احکامات اس وقت جاری کئے جب ایک درخواست گزار نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ عدالت کے احاطہ میں کوئی برادری اپنے مذہبی عقائد پر عمل کرسکتی ہے ؟ عدالت نے اس معاملہ پر مزید سماعت 11 مارچ تک ملتوی کردیا جبکہ ایک شحص اجئے گوتم نے مفاد عامہ ایک درخواست پیش کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا کہ ہائیکورٹ احاطہ کے اندر واقع ایک مسجد میں ایک عرصہ سے مذہبی سرگرمیاں جاری ہیں

جس کیلئے عدالت کے حکام یا کوئی بااختیار اتھاریٹی سے اجازت حاصل نہیں کی گئی ۔ درخواست گزار نے عدالت سے یہ استدعا کی ہے کہ مسجد میں نماز کی ادائیگی پر پابندی اور اسے مسمار کردینے کے احکامات جاری کئے جائیں۔ کیونکہ یہ عدالت کے احاطہ میں سیکوریٹی کیلئے خطرہ بن گئی ہے اور یہ استدلال پیش کیا کہ اس مسجد کا کوئی تاریخی پس منظر نہیں ہے اور یہ حالیہ برسوں میں تعمیر کی گئی ہے۔ درخواست گزار نے یہ بھی ادعا کیا کہ قانون حق معلومات کے تحت انہوں نے گزشتہ سال 15 جنوری کو محکمہ آثار قدیمہ سے دریافت کرنے پر بتایا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کے احاطہ میں تاریخی اہمیت کا حامل کوئی ڈھانچہ یا قدیم مسجد واقع نہیں تھی جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دہلی ہائیکورٹ کی گیٹ نمبر 5 کے قریب مسلم برادری کے بعض افراد نے بغیر کسی اجازت کے ماضی قریب میں ایک عبادتگاہ کھڑی کردی ہے۔انہوں نے بتایا کہ قانون کے مطابق سرکاری دفاتر اور احاطوں کو کسی مذہب کی تبلیغ یا عبادت کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ مذکورہ درخواست گزار نے یہ مسئلہ 21 ڈسمبر 2013 ء کو ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا لیکن اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ م رکزی حکومت کے اسٹانگ کونسل انیل سونی ارکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT