Friday , September 21 2018
Home / سیاسیات / دیسی مسائل پر بیرون ملک مودی کی لب کشائی

دیسی مسائل پر بیرون ملک مودی کی لب کشائی

وزیراعظم ملک میں خاموش تماشائی اور بیرون ملک حساس لیڈر،شیوسینا کی شدید تنقید
ممبئی 20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) شیوسینا نے آج وزیراعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کی کہ وہ دیسی مسائل کے تعلق سے بیرونی سرزمین پر لب کشائی کررہے ہیں اور کہاکہ وہ برطانیہ سے خالی ہاتھ واپس ہورہے ہیں جس نے مفرور بزنسمین وجئے مالیا کو پناہ دے رکھی ہے۔ ادھو ٹھاکرے زیرقیادت پارٹی نے کہاکہ کسی کو کانگریس یا گاندھی فیملی سے گہری نفرت ہوسکتی ہے لیکن بیرونی سرزمین پر دیسی مسائل کے تعلق سے بولنا کسی کو بھی زیب نہیں دیتا۔ علاقائی پارٹی نے کہاکہ مودی کو اپنے پیشرو منموہن سنگھ کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ لب کشائی کرنا چاہئے۔ سینا نے پارٹی ترجمان ’سامنا‘ کے اداریہ میں کہاکہ سابق پی ایم منموہن سنگھ نے مودی کو زیادہ سے زیادہ اظہار خیال کرنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ اُنھیں بولتے رہنا چاہئے۔ اُنھوں نے یہ بھی کہاکہ جب وہ وزیراعظم تھے تب مودی کا اُن کے لئے مشورہ اب خود اُن کے لئے بھی موزوں اور قابل اطلاق ہے۔ سابق وزیراعظم کے حوالے سے کہا گیا کہ مودی کو وہی مشورے پر عمل کرنا چاہئے جو خود اُنھوں نے دیا تھا۔ جب وہ برسر اقتدار تھے کہ زیادہ سے زیادہ لب کشائی کیا کریں۔ سینا نے کہاکہ منموہن سنگھ کا دیا گیا مشورہ بہت مناسب ہے۔ سوائے بھکت (مودی کے حامی) جو ہوا میں اُڑ رہے ہیں، سارے ملک کا یہی احساس ہے جو سابق وزیراعظم نے کہا ہے۔ تاہم جو کچھ منموہن سنگھ نے کہا وہ صرف آدھا سچ ہے۔ مودی ہندوستان میں ’’ماؤنی بابا‘‘ (خاموش تماشائی) بن جاتے ہیں لیکن بیرون ملک بولنے لگتے ہیں۔ مرٹھی روزنامہ نے کہاکہ مودی شاید ایسا سوچتے ہیں کہ خود اپنے ملک میں لب کشائی کرنا ٹھیک نہیں کیوں کہ یہاں کے واقعات سے اُن کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ مودی پر طنز کرتے ہوئے سینا نے کہاکہ اگر کوئی پی ایم کو بات کرتے دیکھنا چاہتے ہیں تو ملک کا دارالحکومت لندن، نیویارک، ٹوکیو، پیرس یا کچھ اور ہونا چاہئے۔ اگر ایسا ممکن نہیں جیسا کہ فلموں میں ہوتا ہے، کوئی قومی دارالحکومت کا سیٹ بیرونی مقام کی تصویروں میں تعمیر کیا جانا چاہئے۔ پی ایم نے ہندوستان میں پیش آئے ریپ کیسوں کے تعلق سے لندن میں بات کی ہے، یہ اُن کے حساس ذہن کا حصہ ہے۔ وہ جذباتی ہیں اور ناانصافی کے خلاف اُن کے ذہن میں چنگاری اُٹھتی ہے اور ہم اِن چنگاریوں کو بیرونی سرزمین پر شعلوں میں تبدیل ہوتے دیکھ رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT