Saturday , June 23 2018
Home / Top Stories / دیماپور دفعہ 144 برقرار، مقتول فرید خان کی نعش مسلم کونسل کے حوالے

دیماپور دفعہ 144 برقرار، مقتول فرید خان کی نعش مسلم کونسل کے حوالے

دیماپور 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ناگا لینڈ کے تجارتی شہر دیماپور میں عام حالات آہستہ آہستہ معمول پر آرہے ہیں جہاں پر ایک ملزم کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا تھا۔ تاہم دفعہ 144 (امتناعی احکامات) برقرار رہیں گے۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اکتیو سیما نے بتایا کہ امتناعی احکامات کے نفاذ کے علاوہ سرکاری انتظامیہ سے آئی آر بی کی 11 کمپن

دیماپور 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ناگا لینڈ کے تجارتی شہر دیماپور میں عام حالات آہستہ آہستہ معمول پر آرہے ہیں جہاں پر ایک ملزم کو موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا تھا۔ تاہم دفعہ 144 (امتناعی احکامات) برقرار رہیں گے۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اکتیو سیما نے بتایا کہ امتناعی احکامات کے نفاذ کے علاوہ سرکاری انتظامیہ سے آئی آر بی کی 11 کمپنیاں اور سی آر پی ایف کی 3 کمپنیاں نظم و ضبط کی برقراری کیلئے متعین کردی ہیں۔ اگرچیکہ آج سڑکوں پر موٹر گاڑیاں اور عوام دیکھے گئے لیکن احتیاطی تدابیر کے طور پر تجارتی اداروں کو بند رکھا گیا جبکہ 5 مارچ کے پرتشدد واقعہ کے سلسلہ میں ایک بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ اس واقعہ میں ہجوم نے عصمت ریزی کے ملزم کو دیماپور سنٹرل جیل سے کھینچ کر باہر لایا اور اسے برہنہ کرکے قلب شہر میں ایک کھمبے سے باندھ کر زدوکوب کرنے پر وہ ہلاک ہوگیا۔

ایڈیشنل ڈی جی پی نے بتایا کہ پولیس اس واقعہ کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کی کوشش میں ہے جنھوں نے ملزم کو بے رحمانہ طریقہ سے مار دیا اور تشدد بھڑکایا تھا۔ اُنھوں نے بتایا کہ پولیس کو ویڈیو کلپنگ دستیاب ہوگئے ہیں۔ حملہ آوروں کو بہ آسانی پکڑ لیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ حالات مکمل بحال ہونے تک دفعہ 144 برقرار رہے گا اور کسی ناخوشگوار واقعہ کی روک تھام کیلئے ہرممکنہ اقدامات کئے جائیں گے۔ دریں اثناء گوہاٹی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے آج یہ مطالبہ کیا ہے کہ ناگا لینڈ میںعصمت ریزی کے ملزم کو موت کے گھاٹ اُتار دینے کے واقعہ کی تحقیقات اور حملہ آور ہجوم کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا پروگرام کے ڈائرکٹر شیمر بابو نے کہاکہ مذکورہ واقعہ نظام انصاف رسانی میں سنگین کوتاہی کا نتیجہ ہے اور حکومت ناگا لینڈ کو چاہئے کہ حملہ آوروں میں سے ایک بھی بخشا نہ جائے اور انھیں ہر قیمت پر عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ بصورت دیگر یہ غلط پیام جائے گا کہ کوئی بھی شخص غم و غصہ کے اظہار کی آڑ میں قانون اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے

اور کسی کو بھی موت کے گھاٹ اُتار سکتا ہے۔ اُنھوں نے ناگالینڈ کے حکام سے مطالبہ کیا کہ قانون کی حکمرانی کو قائم کریں اور خواتین کے خلاف تشدد سے نمٹنے کیلئے مؤثر طریقہ اختیار کرے اور کسی کو بھی وحشیانہ سلوک کی اجازت نہ دی جائے۔ اس دوران چیف منسٹر آسام ترون گوگوئی نے آج کہا کہ دیماپور سنٹرل جیل کی حفاظت کیلئے سنٹرل سکیورٹی فورس ذمہ دار ہے۔ لیکن وہ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں یکسر ناکام ہوگئی ہے۔ اس جیل سے ایک ملزم کو زبردستی باہر لاکر ہجوم نے تشدد کیا تھا۔

اُنھوں نے چیف منسٹر ناگا لینڈ ٹی آر زیلانگ کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہاکہ اپنی ریاست میں آسام کے باشندوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے جبکہ مہلوک فرید خان کا تعلق آسام میں ضلع کریم گنج کے موضع بوسلہ سے تھا۔ چیف منسٹر آسام نے مرکزی وزیرداخلہ کو موسومہ ایک اور مکتوب میں یہ گزارش کی کہ عصمت ریزی کے ملزم کی ہلاکت کے ذمہ داروں کے خلاف مناسب کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ دریں اثناء ناگالینڈ کے حکام نے فرید خان کی نعش کو آج شام دیماپور مسلم کونسل کے حوالے کردیا۔ فرید کے بھائی بھی نعش حاصل کرنے کیلئے وہاں پہنچے۔ آسام کے مختلف مقامات بشمول کریم گنج میں فرید خان کے بہیمانہ قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے جس کے پیش نظر سکیوریٹی فورس کو سخت چوکس کردیا گیا۔ اس دوران مقتول کے بھائی جمال الدین خان نے دعویٰ کیا کہ میڈیکل رپورٹس سے معلوم ہوا کہ جس خاتون نے اُن کے بھائی کے خلاف ریپ کی شکایت درج کرائی، اُس پر کوئی جنسی زیادتی نہیں کی گئی۔ انھوں نے ’این ڈی ٹی وی‘ کو بتایا کہ اُن کے بھائی کو قربانی کا بکرا بنایا گیا اور ناگا گروپوں نے پھنسایا، نیز پولیس اس واقعہ میں ملوث ہے۔

TOPPOPULARRECENT