Saturday , November 18 2017
Home / ہندوستان / دیناکرن حامی 19 ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دینے کا مطالبہ

دیناکرن حامی 19 ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دینے کا مطالبہ

چیف منسٹر سے استعفیٰ کا مطالبہ، بی جے پی قائد کی چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر ٹاملناڈو سے ملاقات
چینائی ۔ 24 اگست (سیاست ڈاٹ کام) نظرانداز کردہ نائب صدر انا ڈی ایم کے ٹی ٹی وی دیناکرن کے حامی 19 ناراض ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی اور انہیں نااہل قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے چیف گورنمنٹ وھپ نے آج پارٹی دشمن سرگرمیوں کا ناراض ارکان اسمبلی پر الزام عائد کرتے ہوئے انہیں نااہل قرار دینے کا مطالبہ کیا جبکہ باغی ارکان اسمبلی نے ان کے بیان کو دھمکانے کے مترادف قرار دیا۔ تیز رفتار ردعمل میں اسپیکر کی دھنپال نے ارکان اسمبلی کو نوٹس جاری کردی جو پڈوچیری کی ایک تفریح گاہ میں مقیم ہیں۔ پڈوچیری روانگی سے قبل انہوں نے ریاستی گورنر سی ایچ ودیاساگر راؤ سے ملاقات کرکے چیف منسٹر کے پلانی سوامی پر اعتماد کے فقدان کا اظہار کیا تھا۔ اسپیکر نے ان تمام ارکان سے اندرون 7 دن جواب داخل کرنے کی خواہش کی ہے۔ تاہم باغی ارکان اسمبلی نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک ’’منصوبہ بند ناٹک‘‘ قرار دیا۔

انہوں نے گورنر سے مطالبہ کیا کہ چیف منسٹر کو ایوان میں خط اعتماد حاصل کرنے کی ہدایت دی جائے۔ دریں اثناء پڈوچیری کے ایس ایس پی اور تحصیلدار نے تخریبی مقام کا جہاں 18 ارکان اسمبلی عارضی طور پر قیام کئے ہوئے ہیں، صورتحال کا اندازہ کرنے کیلئے دورہ کیا۔ اپوزیشن ڈی ایم کے اور دیگر پارٹیاں انا ڈی ایم کے کی صفوں میں پھوٹ پڑنے کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر سے ایوان میں خط اعتماد حاصل کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں۔ دریں اثناء مزید پولیس جمعیت تعینات کردی گئی ہے تاکہ تفریحی مقام کے باہر صیانتی انتظامات کو یقینی بنایا جاسکے۔ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پلانی سوامی پر زور دیا گیا کہ تمام مفادات رکھنے والوں سے مشاورت کے ذریعہ سیاسی بحران کی یکسوئی کی جائے اور تعطل کا خاتمہ کیا جائے۔ دریں اثناء بی جے پی کے قومی سکریٹری ایچ راجہ نے آج چیف منسٹر کے پلانی سوامی سے سکریٹریٹ میں ملاقات کی۔ انہوں نے ڈپٹی سی ایم او پنیرسلوم اور وزیر برائے سرکاری زبان ٹامل اور ٹامل ثقافت کے پانڈیا راجن سے بھی ملاقات کی۔ بعدازاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک خیرسگالی ملاقات تھی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ صرف دستور کی دفعات میں دستیاب سہولتوں کے چوکھٹے میں بات چیت کررہے تھے۔

TOPPOPULARRECENT