Monday , September 24 2018
Home / اداریہ / دیناکرن کی کامیابی

دیناکرن کی کامیابی

اس خموشی سے اُبھرتے ہیں مرے لب پہ سوال
پھر تری تلخی ٔ گفتار سے جی ڈرتا ہے
دیناکرن کی کامیابی
ٹاملناڈو میں آل انڈیا انا ڈی ایم کے سے خارج کردہ لیڈر ٹی ٹی وی دیناکرن نے آر کے نگر حلقہ کے ضمنی انتخاب میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ یہ کامیابی ریاست میں سیاسی اتھل پتھل کا باعث بھی بن سکتی ہے ۔ جس وقت سے برسر اقتدار جماعت کے دو گروپس میں ‘ جو چیف منسٹر پلانی سوامی اور سابق چیف منسٹر پنیرا سیلوم کی قیادت میں کام کر رہے تھے ‘ اتحاد ہوا ہے اس وقت سے ٹی ٹی وی دیناکرن کو پارٹی میں نظر انداز کردیا گیا تھا اور عملی طور پر انہیں پارٹی سے خارج کردیا گیا تھا ۔ دیناکرن پارٹی کی معزول کردہ جنرل سکریٹری ششی کلا سے قربت رکھتے ہیں۔ انہوں نے پارٹی قیادت کی دعویداری پیش کرتے ہوئے اپنے عزائم صاف کردئے تھے ۔ تاہم پلانی سوامی اور پنیرا سیلوم کے گروپس کے مابین اتحاد اور ریاست میں حکومت کی ذمہ داریوں کی تقسیم کے بعد سے انہیں نظر انداز کردیا گیا تھا ۔ اسی وقت سے دیناکرن کو نشانہ بنانے کی کوششیں بھی ہونے لگی تھیں لیکن دیناکرن اپنے موقف پر اٹل رہے تھے اور انہوں نے پارٹی کی قیادت کو چیلنج کیا تھا ۔ آر کے نگر کے انتخابات کو اس لئے کافی سیاسی اہمیت حاصل تھی کیونکہ اسمبلی میں اس حلقہ کی نمائندگی آنجہانی چیف منسٹر جئے للیتا کرتی تھیں۔ برسر اقتدار گروپ جئے للیتا کا حقیقی جانشین ہونے کا دعویدار ہے جبکہ یہی دعوی دیناکرن بھی کرتے ہیں۔ اسی دعوی کی وجہ سے دیناکرن کو پارٹی سے باہر کردیا گیا تھا ۔ اب جئے للیتا کے حلقہ انتخاب سے اپنی کامیابی کے بعد دیناکرن کے حوصلے بلند ہوسکتے ہیں اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان کی کامیابی در اصل برسر اقتدار انا ڈی ایم کے اور اپوزیشن ڈی ایم کے کیلئے بھی مشکلات کا باعث بن سکتی ہے ۔ دیناکرن کی کامیابی میں ان کی اکثریت بھی اہمیت کی حامل ہے ۔ انہوں نے اپنے مخالفین پر 40 ہزار سے زیادہ اکثریت سے کامیابی درج کروائی ہے ۔ انہیں جملہ 89 ہزار ووٹ ملے تھے ۔ اس سے انہیں عوام کی تائید کا بھی اندازہ ہوتا ہے ۔ دیناکرن کا اس حلقہ میں مقابلہ برسر اقتدار انا ڈی ایم کے اور اپوزیشن ڈی ایم کے سے تھا ۔ انہوںنے بحیثیت آزاد امیدوار کامیابی حاصل کی تھی ۔ ان کی کامیابی کئی اعتبار سے سیاسی اہمیت کی حامل کہی جاسکتی ہے ۔
دیناکرن پر رائے دہندوں کو رشوتیں دینے اور دولت کا استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے ۔ انتخابی نتائج کے بعد اپوزیشن ڈی ایم کے نے اپنے تبصرہ میں کہا تھا کہ آر کے نگر حلقہ میں دولت جیت گئی ہے ۔ مخالفین چاہے جوکچھ بھی کہتے رہیں اور دولت کا استعمال اگر ہوا بھی ہے تو اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عوام نے انہیں ووٹ دیا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بھی اندیشے ہیںکہ خود انا ڈی ایم کے کا کیڈر بھی ان کے حق میں کام کر رہا تھا ۔ عوام میں وہ ایک جدوجہد کرنے والے لیڈر کے طور پر ابھر رہے تھے ۔ اس کے علاوہ عوام میں یہ تاثر بھی تقویت پارہا ہے کہ چیف منسٹر پلانی سوامی اور ڈپٹی چیف منسٹر پنیرا سیلوم کی قیادت اب تک کمزور ہی قرار پائی ہے ۔ ان دونوں کے تعلق سے کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے مرکزی حکومت کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے ہیں اور اس کی گود میں جا بیٹھے ہیں۔ خود انا ڈی ایم کے کیڈر میں پارٹی قائدین کے تعلق سے ناراضگی پائی جا رہی تھی ۔ جس طرح سے پارٹی نے مرکز سے قربتیں بڑھانے کی کوشش کی ہے اس سے پارٹی حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہو رہا تھا کہ اگر اس طرح کی چاپلوسی کاسلسلہ جاری رہا تو پارٹی کا وجود ہی خطرہ میں پڑ جائیگا ۔ عوام اور خود پارٹی کارکنوں نے اسی خیال کے پیش نظر پارٹی کے موجودہ قائدین کو جھٹکا دینے کا فیصلہ کیا تھا ۔ اب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ جھٹکا دور رس سیاسی اثرات کا حامل ہوسکتا ہے ۔ دیناکرن کی سیاسی اہمیت پہلے حالانکہ زیادہ نہ رہی ہو لیکن آر کے نگر جیسے باوقار حلقہ سے بھاری اکثریت سے کامیابی سے ان کی سیاسی اہمیت میں زبردست اضافہ ہوسکتا ہے ۔
دیناکرن اور ششی کلا جئے للیتا کی وراثت کے دعویدار رہے ہیںاور آر کے نگر کے حلقہ سے کامیابی ان کے دعوی کو تقویت دینے کا باعث بھی بن سکتی ہے ۔ یہ قیاس آرائیاں ابھی سے شروع ہوگئی ہیں کہ دیناکرن جب اسمبلی میں جائیں گے تو برسر اقتدار انا ڈی ایم کے کے قائدین میں ہلچل پیدا ہوسکتی ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ پارٹی کے کچھ ارکان اسمبلی جو پلانی سوامی اور پنیرا سیلوم سے خوش نہیں ہیں و ہ اپنی وفاداریاں دیناکرن سے وابستہ کرسکتے ہیں۔ یہ ایسے اندیشے ہیں جو چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر کی نیند اڑاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈی ایم کے کیڈر کے حوصلے بھی اس نتیجہ سے پست ہوسکتے ہیں اور عین ممکن ہے کہ اس کے بھی ناراض قائدین دیناکرن سے قربتیں بڑھانے کی کوشش کریں ۔ علاقائی جماعتوں کی سیاست کیلئے مشہور ٹاملناڈو میں دیناکرن کی کامیابی سے نئی سیاسی صف بندیوں کا امکان پیدا ہوگیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT