Thursday , December 13 2018

دینی مدارس … ’’جہاں کی خا ک سے انساں بنائے جاتے ہیں‘‘

محمد جسیم الدین نظامی
گذشتہ دو تین دہوںسے نہ صرف اندرون ملک بلکہ عالمی سطح پر یہ رجحان تیزی سے پروان چڑھا ہے کہ ’’ اگر آپ آسانی کے ساتھ شہرت ،دولت یاقیادت حاصل کرنے کے متمنی ہیں تو اس کا آسان نسخہ یہ ہے کہ آپ’’ اسلام یا اہل اسلام کے خلاف زہرافشانی اورالزام تراشی شروع کردیجئے ‘‘ آ پ جتنی شدت سے اپنی ذہنی خباثت کا اظہار کرینگے ،آپکی مقبولیت کا گراف اتنا ہی شدت سے بلندہوتارہے گا….المیہ یہ ہے کہ اس قسم کے ’’فوبیا‘‘یا بیماری کا شکار عموماً مخالفین اسلام ہوتے رہے ہیں،تاہم حالیہ عرصے میں’’مسلمانوںجیسے نام رکھنے والے افراد‘‘ میں بھی یہ مرض سرائت کرتا جارہا ہے۔ا س وبائی مرض کے تازہ ترین شکار ،اترپردیش شیعہ سنٹرل وقف بورڈ کے صدر نشین وسیم رضوی ہوئے ہیں، جن کے مطابق، ملک بھرمیں پھیلے ہوئے مدرسوں میں دہشت گردی کی تعلیم دی جاتی ہے … انکی فنڈنگ پاکستان اوربنگلہ دیش کے علاوہ بعض دہشت گرد تنظیمیں کرتی ہیں… شیعہ سنی دونوں طبقوں کے جذبات مجروح کرنے والی یہ حرکت بے مقصد انجام نہیں دی گئی … آپکو یاد ہوگا، جب سے یوپی میں بی جے پی حکومت قائم کی گئی ہے ،دینی مدارس کے خلاف لگاتار مذموم مہم چلائی جارہی ہے ۔دیگر تعلیمی اداروں کو چھوڑکرصرف دینی مدارس پر ہی سی سی ٹی وی کیمرے کی تنصیب کا لزوم… بایو میٹرک مشین سے حاضری… ویب پورٹل پرمدرسے متعلق معلومات کی فراہمی … یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کی ویڈیو ریکارڈنگ کی شرائط اسی سلسلے کی کڑی ہے… مزید ستم ظریفی یہ کہ، مدرسہ بورڈ میں پہلی بار کسی غیر اردو داں شخص’’ راہل گپتا ‘‘کو مدرسہ بورڈ کا رجسٹرار مقرر رکیاگیا ہے ۔جس نے یہ فرمان جاری کردیا ہے کہ اترپردیش کے تمام مدرسے اب مہانومی، دسہرہ، دیوالی، رکشا بندھن، بدھ پورنیما اور مہاویر جینتی جیسے ہندو تہوار کے موقع پر بھی لازمی طور پر تعطیل رکھیں.. مسئلہ یہ ہے کہ دینی مدارس پرٹیڑھی نظر رکھنے والے اور ان پردہشت گردی کے الزامات چسپا ں کرنے والے تاریخی حقائق سے اس قدر نابلد اوربے بہرہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش کرنے کی نہ صلاحیت رکھتے ہیںاور نہ ہمت صرف تعصب اورنفرت کی بنیاد پر کسی ’’مخبوط الحواس ‘‘ کی طرح جو دل میں آیا بڑبڑادیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دینی مدارس نہ صرف دین، اسلام کے بلکہ اپنے وطن کے بھی محافظ ہیں۔یہ مدرسوں کے ہی فارغین ہوتے ہیں جو معمولی تنخواہوں کے باوجود ایک اچھے معاشرہ کی تعمیر میں اپنی زندگیاں صرف کردیتے ہیں۔جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے ،ملک میں سب سے زیا دہ دہشت پسندانہ کارروائیاں غیر مسلموں نے انجام دی ہیں۔تھوڑی دیر کیلئے ماضی کا جائزہ لیجئے… کیااس حقیقت سے کوئی انکار کرسکتا ہے کہ ہندوستان میں جتنی بھی مزاحمتی یا باغی تنظیمیں وجود میں آئیں اوردہشت پسندکارروائیاں انجام دے رہی ان میںاکثریت ہندو ،عیسائی اور سکھ تنظیموںکی ہیں(سوائے کشمیرکے جہاں کشمیر کی آزادی کے نام پر مسلم تنظیموںنے ہتھیاراٹھایاہے)… یہ کو ن نہیں جانتا کہ ،ہندوستان کے 707اضلاع میں سے 100 سے زائد اضلاع میں نکسلزم ،ببرخالصہ ، ماؤنواز،الفاء ، آسام گناپریشد(پہلے بوڈو تحریک)، ناگاہتھیار بند گروہ،کرنی سینا،ایم سی سی،رنویر سیناجیسی کئی ایک مسلح تنظیمیں برسوں دہشت پسندانہ کارروائیوںمیں سرگرم ہیں..جبکہ ان تنظیموںمیں ایک بھی مسلم تنظیم شامل نہیں …کیا کوئی یہ ثابت کرسکتاہے کہ مزاحمت کے نام پر کسی ایک مسلم تنظیم نے بھی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھاکر بے قصور عوام کا قتل عام کیا ہو؟ …اب کوئی بتائے کہ 1940 میں ناگاہتھیار بند گرہ بناکر کر صرف 8برسوںمیں595بے قصور شہری 225سیکوریٹی جوانوںکا خون بہانے والے ہندوؤں اور عیسائیوںمیں سے کتنے افراد نے دینی مدارس سے دہشت گردی کی تعلیم حاصل کی تھی؟ … ہندوستان سے آزاد ی کے نام پر 1971 میں ’ ’اُلفا‘‘ کی بنیاد پڑی ..جس نے بعد میں ناگا باغیوں اورماؤنوازوں سے ہاتھ ملاکر ہزاروںافراد کوموت کے گھاٹ اُتاردیا۔آخر ان میں سے کتنے ہندؤوںنے دینی درسگاہوں میں جا کرقتل وغارت گری کے گُرسیکھے تھے؟ 80کی دہائی میں علحدہ ملک کے نام پر ’’خالصتان‘‘ کے نام سے پرتشدد تحریک چلائی گئی جس نے پورے ہندوستان میںدہشت پسندی کی نئی تاریخ رقم کی ۔صوبہ پنجاب کی اسی تحریک نے سابق وزیر اعظم شریمتی اندراگاندھی کو گولیوںسے بھون دیا تھا۔ اسکے بعد تو جیسے پورے ہندوستان کوہزاروںبے گناہوں کے خون سے لہو لہان کردیا گیا۔کیا اس تحریک سے ایک بھی مسلمان وابستہ تھااورکیا خالصتان تحریک سے وابستہ افرادنے کسی دینی مدارس میں تربیت حاصل کی تھی؟ ایل ٹی ٹی ای جس نے 80کی دہائی میں ہندوستان اورسری لنکا دونوں جگہ ہزاروں بے گناہوں کا خون بہا یا اورجس نے 1991 میں خود کش دھماکے ذریعہ سابق وزیراعظم راجیوگاندھی کے چتھڑے اڑادئے تھے۔کیا اُسنے کسی دینی مدرسے میں زانوئے ادب تہہ کیا تھا؟ ظاہر ہے ان میں نہ توکوئی مسلمان شامل تھا او ر ناہی دینی مدارس کا کوئی فارغ التحصیل سب کے سب ہندو عیسائی یا سکھ تھے مگر اسکے باوجود کو ئی بھی ان دہشت پسندانہ کاررائیوںکو انکے مذہب یا مذہبی تعلیم سے نہیں جوڑتا۔کوئی بھی میڈیا ’’ ہندو دہشت گری ،عیسائی دہشت گردی یا سکھ دہشت گردی‘‘ جیسے الفاظ اداکرنے کی جراء ت نہیں کرتا …اٹھتے بیٹھتے رات دن بس’’ برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر‘‘وسیم رضوی ،ساکشی مہاراج، او ر اس قبیل کے دوسرے افراد کی قوت بصارت تب کیوںجواب دے جاتی ہے ؟جب بیف کے نام پر اخلاق کو مار مارکر لہوںلہان کردیا جاتاہے انکی زبانیں اس قت گنگ کیوںہوجاتی ہیں، جب نہتے اور بوڑھے پہلوخان کو سرعام مار مارکر ہلاک کردیا جاتاہے.. وسیم رضوی جیسے لوگوں کی قوت گویائی اس وقت کیوں سلب ہوجاتی ہے جب دینی مدرسے میں پڑھنے والا حافظ جنید کو چلتی ٹرین میں چاقو مارمارکر خون سے نہلادیا جاتاہے یہ لوگ اس وقت اندھے بہرے اورگونگے کی تصویر کیوںبن جاتے ہیں ۔ جب لوجہاد کے نام پر افراز الاسلام کو ایک وحشی درندہ تڑ پاتڑپا کر موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے ، زندہ شخص کو جلاتا ہے ،پھراس کا ویڈیو بناکر ’’دیش بھگتی ‘‘ کی راگ الاپتاہے ؟ آخر یہ دہشت گردی نہیں توکیا ہے؟یہ درندے آخر کس درسگاہ سے تعلیم یافتہ ہیں؟کیا انہیں بھی دینی مدارس میں تربیت فراہم کی گئی ہے؟ کرسی اورعہدے کی یہ کیسی بے جا ہوس ہے، کہ فرقہ پرست تنظیموں کی طرف سے کھلے عام اسلحہ چلا نے کی ٹریننگ انکی آنکھوکی شہتیر نہیں بنتا لیکن مفلوک الحال مدرسوں میں قال اللہ وقال الرسول پڑھنے والے غریب مسلمان انہیں دہشت گرددکھائی دے رہے ہیں۔ میرے بھائی سچ یہی ہے کہ ،کسی مذہب میں دہشت گردی کی تعلیم نہیں دی گئی ہے اس لئے کسی کے انفرادی عمل کیلئے کسی مذہب کو موردالزام نہیں ٹہرا یا جاسکتا۔جہاں تک دینی مدارس کے نصاب کاتعلق ہے ،یہاں کے نصاب میں کوئی ایسی کتاب نہیں جس سے دہشت گردی کی اجازت سمجھ میں آتی ہو، کوئی عبارت ایسی نہیں جو بے گناہ شہریوں اورمعصوم بچوں کی جان لینے پر اْکساتی ہو، کوئی سطر ایسی نہیں جو ملک اورابنائے وطن کے خلاف کام کرنے کے ’’فضائل ‘‘بتاتی ہویہ مدارس تو اک بہتر معاشرے کی تعمیر کیلئے بدعنوانی، حرام خوری، بے حیائی، فحاشی سے اجتناب کادرس دیتے ہیں۔ قتل وغارت گری، نفرت اور تشدد کے برعکس، انسانوںتو انسان جانوروںکے ساتھ بھی حسن سلوک کی تعلیم دیتے ہیں اورانسان کوانسان بنانے کا کام انجام دیتے ہیںاسی لئے تو کسی نے کہا ہے ۔
یہ مدرسہ ہے ،تیرا میکدہ نہیںساقی
یہاں کی خاک سے انساں بنائے جاتے ہیں

Top Stories

TOPPOPULARRECENT