Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / دینی مدارس سے یوم جمہوریہ کو ترنگا لہرانے کی خواہش

دینی مدارس سے یوم جمہوریہ کو ترنگا لہرانے کی خواہش

آر ایس ایس کا متنازعہ بیان، دارالعلوم دیوبند کی سخت تنقید
لکھنو 12 جنوری (سیاست ڈاٹ کام)  آر ایس ایس کی ایک الحاق رکھنے والی تنظیم نے دینی مدارس سے خواہش کی ہے کہ یوم جمہوریہ پر اپنے احاطوں میں ترنگا لہرائیں۔ اس پر ممتاز دینی مدارس جیسے دارالعلوم دیوبند کی جانب سے سخت تنقید کی گئی ہے۔ بی جے پی کے مسلم راشٹریہ منچ نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی کو اِن تعلیمی اداروں کی حب الوطنی پر کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ دینی مدارس نے ایم آر ایم کی اپیل پر سخت تنقید کرتے ہوئے آر ایس ایس سے دریافت کیا ہے کہ کیا اُسے بھی دستور ہند اور قومی پرچم پر یقین ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے پریس سکریٹری اشرف عثمانی نے کہاکہ قومی پرچم لہرانے کا فیصلہ دینی مدرسوں کا انفرادی اختیار ہے لیکن تقریباً تمام دینی مدارس یوم آزادی اور یوم جمہوریہ مناتے اور اپنے احاطوں میں پرچم لہراتے ہیں۔

آر ایس ایس پر تنقید کرتے ہوئے اُنھوں نے جاننا چاہا کہ ملک کی جنگ آزادی میں سنگھ کا کیا حصہ رہا ہے؟ اُنھوں نے کہاکہ دینی مدرسوں نے جنگ آزادی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ آر ایس ایس صرف بھگوا پرچم کی پوجا کرتی ہے۔ سب سے پہلے اُسے اپنے ہیڈکوارٹرس پر اور دیگر دفاتر بھی ترنگا لہرانا چاہئے۔ اُس کے بعد دینی مدرسوں پر قومی پرچم لہرانے کی بات کرنی چاہئے۔ دریں اثناء مسلم راشٹریہ منچ نے وضاحت کی کہ اس مہم کے پس پردہ مذہبی تعلیمی اداروں کی حب الوطنی پر شک کرنا یا اِن کی جانچ کرنا نہیں تھا۔ ایم آر ایم کے قومی کنوینر محمد افضل نے کہاکہ ہم دینی مدرسوں سے 26 جنوری او 15 اگسٹ کو قومی پرچم لہرانے کی گزشتہ پانچ سال سے اپیل کررہے تھے چونکہ اس بار ہماری حکومت مرکز میں ہے اس لئے ہم اس تقریب کو بڑے پیمانے پر منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ منچ کو دینی مدرسوں کی حب الوطنی پر کوئی شک ہے یا اُنھیں اپنی اس مہم کے ذریعہ نشانہ بنانا چاہتی ہے۔ محمد افضل نے کہاکہ تمام شہریوں کو اہم قومی تقاریب کے موقع پر ترنگا لہرانا چاہئے۔ مسلم راشٹریہ منچ کے کارکن 26 جنوری کو مدرسوں کے احاطوں میں قومی پرچم لہرائیں گے۔ ایک مسلم ہونے کی وجہ سے ہم صرف دینی مدرسوں کی بات کررہے ہیں۔ مسلمان اپنے اپنے وطن سے محبت رکھتے ہیں اور ترنگے کو سلامی دیتے ہیں۔

ہند۔پاک مذاکرات پر غیر یقینی کے بادل
نئی دہلی ۔ 12 ۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ہند۔پاک معتمدین خارجہ سطح کی اسلام آباد میں بات چیت کیلئے اب بمشکل تین دن رہ گئے ہیں لیکن تجسس برقرار ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ ہندوستان شیڈول کے مطابق مذاکرات جاری رکھے گا یا اسے ملتوی کیاجائے گا ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات میں ہندوستان کے حصہ لینے کے بارے میں ہنوز فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ پٹھان کوٹ دہشت گرد حملہ کے بعد ہندوستان نے پاکستان سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اس میں ملوث رہنے والوں کے خلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائی کرے۔ اس نے معتمدین خارجہ سطح کی بات چیت کو اس مطالبہ سے مربوط کیا ہے۔ذرائع نے کہا کہ مجوزہ مذاکرات کو چند ہفتوں کیلئے ملتوی کرنے کا امکان ہے ۔ حملہ کے بعد ہندوستان نے پاکستان کو تمام انٹلیجنس اطلاعات فراہم کردی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT