Thursday , June 21 2018
Home / ہندوستان / دینی مدارس صرف دین کے نہیں اردو کے بھی قلعے ہیں:پروفیسر ارتضیٰ کریم

دینی مدارس صرف دین کے نہیں اردو کے بھی قلعے ہیں:پروفیسر ارتضیٰ کریم

کشن گنج،9اپریل (سیاست ڈاٹ کام)قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضی کریم نے اردو کے فروغ میں مدارس کے کردار کے حوالے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ مدارس صرف دین کے قلعے نہیں بلکہ اردو کے بھی قلعے بن گئے ہیں۔ ان خیالات اظہار انہوں نے 22ویں کل ہند اردو کتاب میلہ کے تیسرے دن ‘ اردو کے فروغ میں مدارس کا کردار’ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں کیا۔انہوں نے کہاکہ اگرچہ بعض مدارس میں باضابطہ اردو نصاب میں داخل نہیں ہے لیکن مدارس میں ذریعہ تعلیم اردو ہی ہے اور سارے کام کاج اردو میں ہوتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مدارس نے بڑے بڑے اردو کے افسانہ نگار، ادیب، نقاد، ناول نگار اور شاعر پیدا کئے ہیں۔ لہذا مدارس کے اردو کے تئیں خدمات کو کسی طرح بھی کم کرکے نہیں دیکھا جاسکتا ۔کتابوں کی اہمیت و افادیت کے حوالے سے گفتگو کرتے انہوں نے کہا کہ آج کے صارفیت اور عالم کاری کے دور میں جس طرح انٹرنیٹ ، واٹس اپ اور موبائل کادبدبہ ہے ایسے ماحول میں کتابوں کی بقاء کا سوال پیدا ہوگیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ان سچائیوں کے باوجود کتابوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ساتھ ہی کتابوں سے قاری کا جذباتی رشتہ ہوتا ہے اور قاری ماضی کے دریچوں سے وہ تمام اسرار و رموزسے ہمکنار ہوکر حال میں جیتا ہے اور روشن مستقبل کے امکانات کو تلاش کرتا ہے ۔انہوں نے مزید کہاکہ کتابین ماضی کا اثاثہ اور حال کاسرمایہ اور مستقبل کے اساس ہیں۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے استاذ ڈاکٹر خالد مبشر نے کہا کہ اس دور میں جب کہ اردو کی زبوں حالی کا تذکرہ عام ہے اس کے باوجود اگر اردو زندہ ہے تو اس میں مدارس و مکاتب کا اہم کردار ہے ۔انہوں نے کہاکہ بیشتر جامعات کے شعبہ اردو میں پڑھنے والے مدارس کے طلبہ بھی ہی ہیں اور جامعات کے اساتذہ میں بھی مدارس کے فیض یافتہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ علی گڑ ھ مسلم یونیورسٹی کے اردو استاذوں میں پروفیسر ابولکلام قاسمی، پروفیسر ظفر ندوی ، پروفیسر ابوبکر عباد اور دیگر کے نام لئے جاسکتے ہیں جو نہ صرف اردو کے نقاد، ادیب، فکشن نگار ہیں بلکہ ادب میں اپنا نمایاں مقام بھی رکھتے ہیں۔قومی کونسل برائے فروغ اردو زبا ن کے 22واں کل ہند کتاب میلہ اس سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ کتاب میلے کے روح رواں انجینئر محمد اسلم علیگ نے اردو کے حوالے سے مدارس کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اگر مدارس نہ ہوتے ہندوستان میں اردو کا فروغ اتنے بڑے پیمانہ پر نہ ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ اردو کی کتابیں اور اخبارات پڑھنے والوں میں مدارس کے فارغین کی تعداد زیادہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ اگر مدارس نہ ہوتے اتنی بڑی تعداد میں اردو صحافی نہیں ہوتے اور اگر اتنی بڑی تعداد اردو اخبارات شائع ہوتے ہیں تو اس میں مدارس کے فضلاء کا کردار اہم ہے۔

TOPPOPULARRECENT