Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / دینی مدارس میں غیر ملکی اساتذہ کی سرگرمیوں پرحکومت کی نگرانی

دینی مدارس میں غیر ملکی اساتذہ کی سرگرمیوں پرحکومت کی نگرانی

گڑگاؤں 13 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج کہاکہ وہ بعض دینی مدارس کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے جہاں غیر ملکی اساتذہ نوجوان طلبہ کی ذہنیت سازی کرتے ہوئے اُنھیں جہادی نظریات کا حامل بنارہے ہیں۔ مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے ایک تقریب کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم ہر سرگرمی پر نگرانی رکھے ہوئے ہیں۔ وہ بنگل

گڑگاؤں 13 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے آج کہاکہ وہ بعض دینی مدارس کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے جہاں غیر ملکی اساتذہ نوجوان طلبہ کی ذہنیت سازی کرتے ہوئے اُنھیں جہادی نظریات کا حامل بنارہے ہیں۔ مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے ایک تقریب کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم ہر سرگرمی پر نگرانی رکھے ہوئے ہیں۔ وہ بنگلہ دیشی شہریوں کی مغربی بنگال کے دینی مدرسہ میں طلباء کو تعلیم دینے کی اطلاعات کے بارے میں سوال کا جواب دے رہے تھے۔ یہ دینی مدرسہ بردوان میں ہے۔ راجناتھ سنگھ سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا دینی مدارس میں غیر ملکیوں کے تقرر کا سروے کیا گیا ہے۔ بردوان کے دینی مدرسہ کے اساتذہ ممنوعہ دہشت گرد تنظیم جماعۃ المجاہدین بنگلہ دیش سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ مبینہ طور پر نوجوان طلبہ کو جہادی نظریہ پر مائل کررہے ہیں۔ وزارت داخلہ کو سراغ رسانی محکموں کی جانب سے جو خفیہ رپورٹ پیش کی گئی ہے، اُس سے پتہ چلتا ہے کہ دینی مدارس جہاں ہندوستانی اساتذہ تعلیم دیتے ہیں جہادی یا علیحدگی پسندی کی سرگرمیوں یا نظریات میں ملوث نہیں ہیں۔

رپورٹ میں بنگلہ دیشی اور پاکستانی اساتذہ والے دینی مدرسوں کو خطرہ کی گھنٹی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے دینی مدرسے نوجوان ذہنوں کو سرگرمی سے بنیاد پرست بناتے ہیں۔ اُنھوں نے واضح کردیا کہ جمہوریت میں تشدد کی اور بے قصور افراد کی ہلاکتوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اُنھوں نے نکسلائٹس سے اپیل کی کہ تشدد ترک کردیں اور اصل دھارے میں شامل ہوجائیں۔ اُنھوں نے نکسلائٹس سے یہ اپیل سی آر پی ایف کے 75 ویں یوم تاسیس تقریب کے موقع پر کی۔ اُنھوں نے کہاکہ ماؤزے تنگ کا نظریہ جس پر ہندوستان میں سی پی آئی (ماؤسٹ) عمل پیرا ہے، خود چین میں بھلایا جاچکا ہے جہاں ایک کمیونسٹ مملکت کی اُنھوں نے بنیاد رکھی تھی۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوستان میں نکسلائٹس خود اپنے بے قصور ابنائے وطن کو اِس نظریہ پر عمل کرتے ہوئے ہلاک کررہے ہیں۔ چنانچہ وہ نکسلائٹس سے اپیل کرتے ہیں کہ تشدد ترک کردیں۔

ہماری جمہوری اقدار کافی مستحکم ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ جمہوریت کے ذریعہ طاقت تبدیل کریں، بندوقوں کے ذریعہ نہیں۔ اُنھوں نے سی آر پی ایف ارکان عملہ کی متاثرکن پریڈ کی سلامی لینے کے بعد اپنی تقریر میں نکسلائٹس سے اپیل کی۔ مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر اور جھارکھنڈ میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے دوران ضرورت پڑنے پر مزید نیم فوجی فورسیس روانہ کرنے کا تیقن دیا ہے۔ مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے کہاکہ سی آر پی ایف اور ریاستی پولیس موجود ہے اور اگر ضرورت ہو تو مزید فوجی روانہ کئے جاسکتے ہیں۔ وہ ایک تقریب کے موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ تاہم اُنھوں نے یقین ظاہر کیاکہ جموں و کشمیر اور جھارکھنڈ میں رائے دہی مکمل طور پر پرامن ہوگی۔ عسکریت پسندی سے متاثرہ جموں و کشمیر اور نکسلائٹس سے متاثرہ جھارکھنڈ میں 25 نومبر سے 20 ڈسمبر تک 5 مرحلوں میں رائے دہی کا پروگرام ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT