Sunday , September 23 2018
Home / مذہبی صفحہ / دینی مدارس و جامعات ،اکابرین کی نظر میں

دینی مدارس و جامعات ،اکابرین کی نظر میں

 

ایک عرصہ سے دینی مدارس و جامعات پر حکومت کی نگاہِ بد لگی ہوئی ہے ۔ وقفہ وقفہ سے ان مدارس و جامعات کے بارے میں وزارت داخلہ اور ملک کی پولیس بے بنیاد بیانات دیتے رہتی ہے۔ آنے والے دن ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں اور دینی مدارس و جامعات اور دینی جماعتوں کیلئے اور اسلامی ثقافت ، تہذیب و تمدن کیلئے سخت ترین ہوں گے ۔
یاد رکھیں ! تحفظ ایمان کا واحد ذریعہ دینی تعلیم ، یہ دینی مدارس ہی اُمت مسلمہ کی تمام مذہبی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں ،اسلام کی زندگی کے نشان ہیں یہ انہیں مدارس کی برکت اور انھیں علماء کی محنت کا نتیجہ ہے ۔ ۱۸۵۷ء کا انقلاب ہو یا ۱۹۴۷ء کا نہ صرف یہ کہ اسلام ہندوستان میں زندہ رہا بلکہ روز بروز طاقتور ہوتا گیا ۔ مدارس اسلامیہ کے قیام کا بنیادی مقصد کتاب و سنت کی اشاعت ، اسلامی تعلیم و شریعت کا تحفظ مادی و سیاسی آفات سے لوگوں کو آگاہ کرنا اور دشمنوں کی مکاریوں سے ملت کو محفوظ رکھنا ہے ۔ واقعہ یہ کہ برسوں سے دینی مدارس اور مسلمانوں کو مشتبہ بنانے کا پروپگنڈہ ’’سنگھ پریوار‘‘ کی طرف سے کیا جاتا رہا ہے اور انھیں دیش دروہی بنیاد پرست اور دہشت گرد کہا جاتا رہاہے حالانکہ آج تک کسی مدرسہ سے کوئی ہتھیار برآمد نہیں ہوا اور نہ ہی اس کی دہشت گردی کا اظہار ہوا ہے اور نہ ہی مدرسہ کے معلمین ، متعلمین اور منتظمین نفرت انگیز تقریریں کیں نہ قومی آہنگی کے خلاف کوئی کارروائی انھوں نے کی ۔ درج ذیل میں دینی مدارس و جامعات کے بارے میں اکابرین اُمت کے خیالات درج کئے جارہے ہیں : : قاری ایم ایس خان

مفکر اسلام مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ
مدرسہ کا کام یہ ہے کہ وہ ایسے انسان پیدا کرے جو اس پست سطح سے بلند ہوں کہ کوئی ان کی قیمت لگائے ، آج دنیا نیلام کی منڈی کے سواء کچھ نہیں ہے کہاں کے اصول اور کہاں کے معیار ، ہم تو یہ دیکھ رہے ہیں کہ دنیا ایک بازار ہے اس میں ہر ایک اپنا جنس ہنر اور اپنی جنس کمال ہاتھ پر رکھے ہوئے بیچنے کیلئے آیا ہے ۔ لیکن ہم اس نقطہ نظر کو تسلیم نہیں کرتے ۔ ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ دنیا محض ایک بازار ہے ، ایک منڈی ہے ، یہاں جو آئے مال لے کر آئے اور پیچھے صرف مسئلہ قسمت کا ہے۔البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ کسی کو بیچنے میں دیر لگ جائے جو اس لئے نہیں کہ اس کو اپنا جنس کمال اور اپنا جنس مذہب اور اپنا جنس اخلاق زیادہ عزیز ہے ۔ بلکہ اس کے لئے منہ مانگے دام نہیں مل رہے ہیں۔ میرے نزدیک مدرسہ کا صرف ایک کام ہیکہ وہ ایسے حقانی اور ربانی علماء پیدا کرے جو دنیا کو جو ضمیر کاسودا کررہی ہے سرزنش کرسکیں ، اس سے کہہ سکیں کہ انسان کاضمیر اس سے بہت زیادہ قیمتی ہے کہ وہ روز بکے ، روز نیلام پر چڑھے اور ایک عہدہ پر بک جائے ۔ایک عہدہ ، ایک کرسی ، ایک خوشنودی ، ایک تبسم کو خریدلے ۔ مدرسہ کا کام یہ ہے کہ وہ ایسے باضمیر ، باعقیدہ، ایسے باایمان ، ایسے باحوصلہ ایسے باہمت فضلاء پیدا کرے کہ جو اس ضمیر فروشی ، اصول فروشی ، اور اخلاق فروشی کے دور میں روشنی کے مینار کی طرح قائم رہیں کہ وہ کہیں نہیں جاتا اپنی جگہ پر کھڑا ہے راستہ بتاتا ہے جیسے قبلہ نما کہ آپ کہیں ہوں وہ آپ کو قبلہ بتادے گا ، ہندوستان میں بتائے گا دوسرے ملک میں بتائے گا پہاڑ رکھیں تو بتائے گا یہ عالم کی شان ہے کہ وہ ہر زمانہ میں ہرجگہ قبلہ نما ہے ۔ جو علماء ملک میں اسلام کی بقاء و تحفظ کیلئے کام کررہے ہیں وہ ان ہی مدارس اسلامیہ کی دین ہے اور جو تنظیمیں ادارے ، کمیٹیاں قائم ہیں ۔ اُمت کی اصلاح اور ان کی سیاسی و اخلاقی رہنمائی اور علمی و تصنیفی خدمات انجام دی جارہی ہیں وہ صرف اور صرف مدارسِ اسلامیہ ہی کا اثر ہے ۔
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ
’’اس میں ذرہ برابر بھی شبہ نہیں کہ اس وقت علومِ دینیہ کے مدارس کا وجود مسلمانوں کیلئے ایسی بڑی نعمت ہے کہ اس سے فوق متصور نہیں ۔ دنیا میں اگر اسلام کے بقاء کی کوئی صورت ہے تو یہ مدارس ہیں کیوں کہ اسلام نام ہے خاص اعمال و عقائد کاجس میں دیانت ، معاملت ، و معاشرت اور اخلاق سب داخل ہیں اور ظاہر ہے کہ عمل موقف ہے علم پر اور علوم دینیہ کی بقاء ہرچند کہ فی نفسہ مدارس پر موقوف نہیں مگر حالات وقت کے اعتبار سے ضرور مدارس پر موقوف ہے ‘‘۔
علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ
یہ مدرسے جہاں بھی ہوں جیسے بھی ہوں ان کو سنبھالنا اور چلانا مسلمانوں کاسب سے بڑا فریضہ ہے ۔ ان عربی و دینی مدارس و جامعات کا اگر کوئی دوسرا فائدہ نہیں تو یہی کیا کم ہے کہ یہ غریب طبقوں میں مفت تعلیم و طعام اور رہائش کا ذریعہ ہے ۔ مدارس و جامعات کا ذریعہ ہیں اور ان سے فائدہ اُٹھاکر ہمارا طبقہ کچھ اور اونچا ہوتا ہے اور اس کی اگلی نسل کچھ اور اونچی ہوتی ہے اور یہی سلسلہ جاری رہتا ہے۔
حکیم الامت حضرت قاری طیب رحمۃ اللہ علیہ
سیرت دو چیزوں سے بنتی ہے قوتِ علم ، قوتِ اخلاق ، ان ہی دونوں قوتوں سے آدمی تمام مخلوقات پر فائق ہوتا ہے پس یہ مدارس دینیہ ان ہی دو چیزوں کو پیدا کرنے کیلئے قائم کئے گئے ہیں اگریہ مدارس دینیہ نہ ہوں تو انسانیت دنیا سے ختم ہوجائیگی ۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لاکھوں روپئے خرچ ہوتے ہیں لیکن وہاں انسانیت نہیں سکھائی جاتی صرف صورت انسانی بنائی جاتی ہے لیکن ان ٹوٹے پھوٹے مکانوں میں جن کا نام مدرسہ اور خانقاہ ہے حقیقتِ انسانیت سکھائی جاتی ہے اس لئے علم دین کا سیکھنا ہرمسلمان مرد اور عورت پر فرض کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر اسرار احمد رحمۃ اللہ علیہ
’’یہ واقعہ ہے کہ اﷲ کے دین کے تحفظ اور اسے اپنی اصل ہیئت پر برقرار رکھنے اور توہمات و بدعات کا شکار ہونے سے بچانے کے اعتبار سے دینی مدارس بلاشبہ اسلام کے قلعے ہیں اور انہی کے ذریعہ نہایت نامساعد حالات میں قال اﷲ تعالیٰ اور قال الرسول صلی اﷲ علیہ و سلم کی صدائیں گونجتی رہی ہیں اور نہ صرف علم دین کے نسلاً بعد نسل منتقل ہونے کا سامان ہوتا رہا ہے بلکہ ہمارے معاشرے میں عبادات وغیرہ کا نظام کم از کم اپنے بیرونی ڈھانچے کی حد تک بلا کم و کاست برقرار ہے ۔ ضرورت ہے کہ اب یہ مراکز علمیہ کچھ اور پیش قدمی کریں اور ایسی جامع شخصیتوں کی تیاری کااہتمام کریں جو مسلمانوں کی صرف دینی ہی نہیں دنیوی قیادت کی ضرورتیں پوری کرسکیں ‘‘ ۔
مولانا شبلی نعمانی رحمۃ اللہ علیہ
دینی مدارس ایک بڑی خدمت انجام دے رہے ہیں ، عام لوگوں میں نماز ، روزہ کا جو چرچا ہے مساجد میں جو رونق ہے ، دیہات اور قصبات میں جس قدر لوگ اسلام سے آشنا ہیں سب انہیں مدارس کا فیض ہے ۔

TOPPOPULARRECENT