دینی مدارس کے طلبہ کے لیے آن لائن تدریس ، نوجوان مفتی کی کوشش

آن لائن دینی کورس کو بیرون ریاست تک وسعت دینے کا عزم ،انٹرنیٹ ، تبلیغ دین اور تدریس کا اہم ذریعہ ، مفتی خواجہ معز الدین طاہر سے بات چیت

آن لائن دینی کورس کو بیرون ریاست تک وسعت دینے کا عزم ،انٹرنیٹ ، تبلیغ دین اور تدریس کا اہم ذریعہ ، مفتی خواجہ معز الدین طاہر سے بات چیت

حیدرآباد ۔ 5 ۔ جون : ساری دنیا ایک عالمی گاوں میں تبدیل ہوچکی ہے ۔ انفارمیشن ٹکنالوجی نے فاصلوں کو مٹا دیا ہے ۔ ہندوستان کے دور دراز کے کسی گاؤں میں بیٹھ کر آپ انٹر نیٹ کے ذریعہ سات سمندر پار برسرکار یا مقیم کسی رشتہ دار سے نہ صرف ربط کرسکتے ہیں بلکہ گھنٹوں دوبدو بات چیت بھی کرسکتے ہیں ۔ انٹر نیٹ نے زندگی کے ہر شعبہ میں انقلاب برپا کردیا ہے ۔ کہتے ہیں کہ انٹرنیٹ ساری دنیا میں اخلاقی اقدار میں گراوٹ کا باعث بنا ہوا ہے ۔ اس سے معاشرہ میں بیہودگی بے شرمی و بے حیائی پھیل رہی ہے ۔ لیکن انٹرنیٹ کے بارے میں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اس کا بہتر اور مثبت انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ دین کی تبلیغ و اشاعت درس و تدریس ، وعظ و نصیحت ، نیکیوں کو پھیلانے اور برائیوں کے خاتمہ کے لیے انٹرنیٹ کا بھر پور استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ا ب ہمارے علماء دین کے قلعوں یعنی دینی مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ اور اساتذہ کمپیوٹر سے کماحقہ واقفیت حاصل کررہے ہیں اور انٹرنیٹ کے ذریعہ مختلف ویب سائٹس کو استعمال کرتے ہوئے اپنا پیام دوسروں تک پہنچا رہے ہیں ۔ دینی مدارس کے فارغ التحصیل ایسے طلبہ بھی ہیں جو بڑی کامیابی کے ساتھ کمپیوٹر سنٹرس چلا رہے ہیں ۔ موبائیل فونس ، کمپیوٹرس وغیرہ کی درستگی کے مراکز چلا رہے ہیں یہ لوگ کمپیوٹر ہارڈویر میں ماہر ہیں ۔ ہماری ملاقات ایک ایسے ہی نوجوان عالم سے ہوئی جنہوں نے ریاست کے دور دراز مقامات پر مقیم طلباء وطالبات کے لیے آن لائن تعلیمی کورس شروع کیا ہے ۔ ہم مفتی خواجہ معز الدین طاہر ندوی کی بات کررہے ہیں ۔ 28 سالہ اس نوجوان نے جو شہر کے ممتاز عالم مولانا حافظ محمد خواجہ نذیر الدین سبیلی ناظم جامعہ عائشہ نسواں مادنا پیٹ کے فرزند اکبر ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ جامعہ عائشہ نسواں کے دونوں ریاستوں آندھرا اور تلنگانہ میں 34 برانچس ہیں ۔ صرف شہر کی مین برانچ میں 1600 طالبات تعلیم حاصل کررہی ہیں جن میں سے دارالاقامہ میں 900 طالبات مقیم ہیں ۔

دور دراز کے دیہاتوں اور ٹاونس میں مقیم طالبات تک رسائی مشکل ہورہی تھی وہاں کے لیے قابل ترین اساتذہ کا انتظام بھی ایک چیلنج بن گیا تھا ایسے میں ہم نے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہوئے اسکائپ کے ذریعہ عالم کا کورس کرنے والی طالبات کو پڑھانے کا انتظام کیا چونکہ گاؤں میں انٹرنیٹ کی بہتر سہولتیں نہیں ہیں ۔ ایسے میں اسکائپ پر بار بار رکاوٹیں پیدا ہورہی تھیں ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے انہوں نے ایک آسان طریقہ یہ نکالا کہ ریلائنس نے ریلائنس سے ریلائنس 300 روپئے میں مفت کالس کی اسکیم کا اعلان کیا تھا چنانچہ جب بھی اسکائپ میں رکاوٹ پیدا ہوتی وہ فون کے ذریعہ سبق پڑھاتے اور دوسرے مقامات پر موجود طالبات موبائیل فون کے قریب اسپیکر لگادیتی ۔ اس طرح آن لائن تعلیم کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ ندوۃ العلماء کے فارغ التحصیل مفتی طاہر ندوی نے مزید بتایا کہ آن لائن تدریس سے ان ماں باپ کو بِڑی آسانیاں ہوئیں جو اپنی لڑکیوں کو شہر بھیجنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے ۔ سب سے پہلے ورنگل میں کالج کے کچھ طلبا کے ساتھ یہ تحریر کیا گیا اس کے بعد کڑپہ ریلوے کدور میں واقع عائشہ نسواں کی شاخ میں انٹرنیٹ کنکشن حاصل کرتے ہوئے آن لائن تدریس کا انتظام کیا گیا ۔ مفتی طاہر ندوی کے مطابق وہ آن لائن عالم کورس پڑھاتے ہیں ۔ جس میں ترجمہ قرآن ، فقہ حنفی ، عربی قواعد صرف و نحو ، اصول فقہ ، اصول حدیث کا احاطہ کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ورنگل ، کرنول ، کڑپہ میں آن لائن تدریس کا سلسلہ جاری ہے ۔ امید ہے کہ آن لائن درس و تدریس کے اس عمل کو دیگر ریاستوں اور بیرون ملک تک وسعت دی جائے گی ۔ فی الوقت 50 طالبات اس آن لائن کورس سے استفادہ کررہی ہیں ۔ مدراس یونیورسٹی سے ایم اے عربک کرنے والے مفتی طاہر ندوی نے بتایا کہ وہ چار بھائی ہیں جن میں سے دو عالم ہیں اور تیسرے بھی عالم کا کورس کررہے ہیں ۔ ان کے خیال میں دینی مدارس کے اساتذہ طلبہ اور ریسرچ اسکالرس کو انفارمیشن ٹکنالوجی سے ضرور استفادہ کرنا چاہئے ۔ کیوں کہ آج انٹرنیٹ کے ذریعہ اپنی بات اپنا نقطہ نظر آپ دنیا کے کسی بھی کونے تک بآسانی پہنچا سکتے ہیں ۔ یہ اللہ کے بندوں کو دین کی دعوت دینے کا بھی موثر ذریعہ ہے ۔ اگرچہ مختلف سائٹس پر علماء کے خطابات بہت زیادہ ہے لیکن آن لائن تدریس کے سلسلہ میں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ دینی مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ انٹرنیٹ کا بہتر انداز میں استعمال کرتے ہوئے انگریزی اور دیگر زبانوں پر عبور حاصل کرسکتے ہیں ۔ بہر حال ہمارے شہر میں علماء انٹرنیٹ کا بہت ہی بہتر انداز میں استعمال کررہے ہیں اور اس رجحان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے اس لیے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم مسلمانوں کو شرعی مسائل سے لے کر دین اسلام کے بارے میں معلومات بہم پہنچانے کی شدید ضرورت ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT