Tuesday , August 21 2018
Home / شہر کی خبریں / دینی مدارس کے نام کروڑہا روپیوں کے اسکام کی تحقیقات سست روی کا شکار

دینی مدارس کے نام کروڑہا روپیوں کے اسکام کی تحقیقات سست روی کا شکار

تحقیقاتی ایجنسی پر سیاسی اثر و رسوخ ، خاطیوں کو بچانے کی کوشش ، عوام میں چہ مگوئیاں
حیدرآباد ۔22۔ نومبر (سیاست نیوز) سروا سکشھا ابھیان کے تحت دینی مدارس کے نام پر کروڑہا روپئے کی سرکاری رقومات کے غبن سے متعلق اسکام کی تحقیقات میں اچانک سست رفتاری سے عوام میں مختلف چہ مگوئیاں جاری ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسی پر سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اسکام میں ملوث خاطیوں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 2009 ء میں منظر عام پر آنے والے اس اسکام کی جانچ سی سی ایس کے حوالے کی گئی لیکن آج تک تحقیقات مکمل نہیں ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد دینی مدارس کے خاطی ذمہ داروں نے مقامی سیاسی جماعت کے ذریعہ حکومت کو اس بات کیلئے راضی کرلیا کہ کسی طرح تحقیقات کو طوالت دیتے ہوئے معاملہ کو برفدان کی نذر کردیا جائے۔ 200 سے زائد فرضی دینی مدارس اس اسکام میں ملوث رہے اور لاکھوں روپئے سرکاری رقومات کی لوٹ کھسوٹ میں ملوث افراد سیاسی قائدین کے اطراف دکھائی دے رہے ہیں اور بے خوف ہوکر کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ کوئی اور معاملہ ہو تو سی سی ایس اریسٹ وارنٹ کے ساتھ عام لوگوں کو حراست میں لیتی ہے لیکن سیاسی سرپرستی رکھنے والے سروا سکھشا ابھیان کے خاطیوں کے ساتھ رعایت باعث حیرت ہے۔ اس اسکام سے نہ صرف ہزاروں بچوں کو کمپیوٹر اور انگریزی تعلیم کے نام پر دھوکہ دیا گیا بلکہ ماہانہ دو ٹیچرس کی تنخواہ حاصل کی گئی۔ حکومت نے دینی مدارس میں کمپیوٹر اور انگریزی کی تعلیم کیلئے دو ٹیچرس کی تنخواہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ ہر ٹیچر کیلئے ماہانہ 1500 روپئے مقرر کئے گئے ۔ جن مدارس میں طلبہ کی تعداد 60 سے زائد ہوں وہاں تین ٹیچرس کی تنخواہ دی جارہی تھی ۔ ہر 30 طلبہ کیلئے ایک ٹیچر کا انتظام کرنا تھا۔ اسکام میں ملوث افراد نے محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کی ملی بھگت کے ذریعہ فرضی ناموں سے اسکول کے لیٹر پیاڈ تیار کئے اور طلبہ کی جھوٹی تعداد دکھاکر ماہانہ ٹیچرس کی تنخواہ حاصل کرتے رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ زیادہ تر مدارس فرضی تھے اور بعض میں طلبہ کی حقیقی تعداد سے زیادہ تعداد دکھائی گئی تھی۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو پابندی سے کمیشن دیا جاتا اور اسکولوں کو باقاعدگی سے چیک جاری کئے جاتے تھے۔ عہدیداروں کے اچانک معائنے پر جب فرضی اسکولوں کا پتہ چلا تو اس وقت کے کلکٹر حیدرآباد نوین متل نے معاملہ کی جانچ سی سی ایس کے حوالے کی۔ بتایا جاتا ہے کہ صرف ایک ہی شخص کی نگرانی میں 123 فرضی اسکول چلائے جارہے تھے اور اسکام میں ملوث مدارس کی تعداد 200 سے زائد بتائی گئی ہے۔ 2005 ء سے یہ اسکام جاری تھا۔ اسکام میں ملوث افراد نے گروپ کی شکل اختیار کرتے ہوئے اپنے اپنے حصہ میں 10 تا 15 فرضی اسکولوں کو شامل کرلیا تھا اور ٹیچرس کی تنخواہیں حاصل کر رہے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی جماعت نے حکومت کو خاطیوں کے خلاف کارروائی سے روکنے کی کوشش کی ہے جس کے بعد تحقیقات کی رفتار سست ہوگئی۔ کئی دینی مدارس کے ذمہ دار جو اسکام میں ملوث تھے ، وہ ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں اور اب حکومت کے بااثر افراد کے قریب دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے مدارس میں وقفہ وقفہ سے اہم قائدین کو مدعو کرتے ہوئے تحقیقاتی ایجنسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ سی سی ایس نے اسکام کے سلسلہ میں محکمہ تعلیم کے بعض عہدیداروں کو بھی گرفتار کیا اور وہ ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں۔ تلنگانہ حکومت کو اسکام کی جانچ میں شدت پیدا کرتے ہوئے خاطیوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT