Wednesday , December 12 2018

دینی مدرسوںمیں عصری اور سنسکرت کی تعلیم کا چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کا منصوبہ

لکھنو۔18جنوری ( سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر یو پی یوگی آدتیہ ناتھ نے آج کہا کہ دینی مدرسوں کو بند کرنا کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔ انہوں نے اسلامی مدرسوں اور سنسکرت مدرسوں میں عصری تعلیم دینے پر زور دیا ‘ تاکہ طلبہ مسابقت میں حصہ لے سکیں ۔ آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ملک گمراہ افراد کی توانائی سے راشٹرنرمان میں استفادہ نہیں کرسکے گا ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ معیاری تعلیم اس مسئلہ کا حل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم دینی مدرسوں کی جدید کاری پر غور کرسکتے ہیں ۔ انہیں بند کردینا وقتی ترقی پر غور کرنے کے مترادف ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ سنسکرت اسکولوں کو بھی ہدایت دیں گے کہ روایتی تعلیم کے علاوہ انہیں کمپیوٹر ‘ انگریزی ‘ سائنس اور ریاضی کی تعلیم بھی دینا چاہیئے تاکہ چیلنجوں کا سامنا کرسکیں ۔ وہ اقلیتی وزرائے بہبود کے ایک اجلاس سے جس میں 9ریاستوں کے وزراء شرکت کررہے تھے جن میں ہریانہ ‘ ہماچل پردیش ‘ اتراکھنڈ ‘ جموں و کشمیر ‘ بہار ‘ دہلی اور پنجاب شامل تھے ۔ ان کے علاوہ مرکزی وزیر برائے اقلیتی اُمور مختار عباس نقوی ‘ صدر یو پی شیعہ وقف بورڈ وسیم رضوی بھی شامل تھے ۔ وسیم رضوی نے حال ہی میں وزیراعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر یو پی کو مکتوبات روانہ کرتے ہوئے مدرسوں کو بند کردینے کا مطالبہ کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT