Thursday , December 14 2017
Home / ہندوستان / دینی مدرسوں کو حکومت یو پی کے احکام پر علماء میں انتشار

دینی مدرسوں کو حکومت یو پی کے احکام پر علماء میں انتشار

صرف دینی مدارس کو حکم جاری کرنے پر مولانا خالد رشید فرنگی محلی کا اعتراض

لکھنو۔13اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) یوپی کے دینی مدرسوں میں یوم آزادی تقاریب انعقاد اور ان کی ویڈیو گرافی کے لزوم پر پہلی بار علماء دین کی جانب سے ملاجلا ردعمل حاصل ہواہے ۔ علماء دین کے ایک گوشے کا نظریہ ہے کہ اس سے ’’شفافیت اور اعتماد‘‘ میں اضافہ ہوگا ۔ ایک اور گوشے کا خیال ہے کہ یہ ایک ’’ غیر معمولی حکم ‘‘ ہے اور اس سے اقلیتی طبقہ کی قوم پرستی پر شک و شبہ کا اظہار ہوتا ہے ۔ حکومت یو پی نے حال ہی میں دینی مدارس کو حکم دیاہے کہ وہ یوم آزادی تقریب منعقد کریں اور اس کی ویڈیو گرافی کریں۔ ریاستی وزیراقلیتی فلاح و بہبود لکشمی نارائن چودھری نے کہا کہ ترنگا لہرانے اور قومی ترانہ گانے کا انعقاد 8بجے کیا جانا چاہیئے ۔ اس کے بعد مجاہدین آزادی کو خراج عقیدت پیش کرنا چاہیئے جنہوں نے آزادی کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا ۔ طلبہ قوم پرستی کے گیت گائیں گے اور انہیں 15 اگست اور مجاہدین کی تاریخ سے واقف کروایا جائے گا ۔ علاوہ ازیں تہذیبی پروگرامس کا اہتمام بھی کیا جائے گا جن کا مرکزی موضوع قومی اتحاد ہوگا ۔ اسپورٹس کی سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی اور مٹھائیاں تقریب کے اختتام پر تقسیم کی جائیں گی ۔ اس مراسلہ میں اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام دینی مدارس کو احکام جاری کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ یوم آزادی تقریب اور اس کے تمام مذکورہ بالا پروگرامس پورے جوش و جذبہ کے ساتھ منعقد کئے جائیں ۔اس حکم پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کُل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ ہماری برادری 1947ء سے اب تک دینی مدرسوں میں یوم آزادی تقریب منعقد نہیں کرتی اور نہ قومی پرچم لہرایا جاتا ہے ‘ نہ قومی ترانہ گایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس حکم کے پس پردہ کیا بات ہے ۔ اگر آپ ( حکومت یوپی ) نے یہ حکم نامہ یا ہدایات تمام اسکولس ‘ کالجس اور تعلیمی اداروں کیلئے جاری کی ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن صرف دینی مدرسوں کیلئے ایسے احکام جاری کرنے کو ایک غیر معمولی حکم قرار دیا جاسکتا ہے ‘ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری حب الوطنی پر شک و شبہ کیا جارہا ہے ۔یو پی کے بی جے پی قائد رومناصدیقی نے اس حکم کا خیرمقدم کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT