Saturday , November 18 2017
Home / مضامین / دین اور شریعت کا تحفظ ضروری پرسنل لا بورڈ کا صحیح موقف

دین اور شریعت کا تحفظ ضروری پرسنل لا بورڈ کا صحیح موقف

غضنفر علی خان
ہندوستانی حکومت نے اپنے تشکیل کردہ لا کمیشن کے ذریعہ تین طلاق اور ایک سے زیادہ شادیاں کرنے سے متعلق اسلامی شریعت کے طریقہ کار اور اسکے ابدی اصولوں کے بارے میں مسلمانوں اور ان کی تنظیموں سے ایک سوالنامہ کے ذریعہ رائے طلب کی ہے۔ اس کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ کسی بھی دور اور کسی بھی خطہ ارض کے مسلمانوں کو شرعی قوانین میں ترمیم یا تبدیلی کرنے کا حق نہیں اور کسی دوسری طاقت کو خواہ وہ حکومت ہی کیوں نہ ہو اس بات کا اختیار نہیں دیا گیا ہے ۔ یہ شرعی قوانین دنیاوی قوانین سے انہی معنوں میں الگ ہیں کہ یہ تمام ناقابل ترمیم و تبدیلی ہیں ۔ بھلا ہندوستانی مسلمانوں کو یہ اختیار کہاں سے مل سکتا ہے کہ وہ مسلم پرسنل لا میں تبدیلی کرے۔ اس سوالنامہ کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے یکلخت بہ یک آواز مسترد کرتے ہوئے سوالنامہ کا جواب دینے سے انکار کردیا ہے ۔ پرسنل لا بورڈ نے جو کچھ کیا وہ شریعت کے اصولوں اور قوانین کے عین مطابق ہے اور پوری طرح شریعت کے دائرہ میں ہے۔ انسانوں کے بنائے ہوئے قانون میں تبدیلی کی جاسکتی ہے لیکن جو قوانین اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بنائے ، ان میں کوئی طاقت ترمیم نہیں کرسکتی۔ ٹھیک اسی ابدی اصول کے تحت پرسنل لا بورڈ نے سوالنامہ کو مسترد کردیا ہے جس کے لئے بورڈ لائق مبارکباد ہے ۔ ہندوستانی حکومت لاکھ کوشش کرے وہ کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ قوموں کی زندگی میں ایسے مراحل آئے ہیں جبکہ کسی قوم کو بڑی سے بڑی قربانی دے کر اپنے دین کا تحفظ کرنا پڑتا ہے۔ آج وہی مرحلہ ہندوستانی مسلمانوں کو درپیش ہے۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کو جذبۂ عزیمت کا اظہار اور استعمال کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے ۔ سوالنامہ پر امت محمدیہ کا ایک ہی موقف ہے، نہ تو امت کوئی ترمیم کرسکتی ہے اور نہ کوئی حکومت کرسکتی ہے ۔ یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر مودی حکومت کو تعدد ازدواج اور طلاق ثلاثہ کو تبدیل کرنے کا اچانک خیال کیوں آگیا۔ کیا اس سے ملک میں خوشحالی آجائے گی ، ملک کی زرعی پیداوار میں اضافہ ہوجائے گا ۔ ہماری صنعتی ترقی ایک جست میں سارے مراحل طئے کر کے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوجائے گی۔ کیا دیگر برادران قوم کو اس سے کوئی فائدہ ہوگا یا ان کی کوئی ایسی مشکل ہے جو قانون شریعت میں تبدیلی کرنے سے ختم ہوجائے گی اور کیوں اچانک مودی حکومت کو اس کی ضرورت پیش آئی کہ سارے میڈیا ، اخبارات اور ٹی وی چیانلس پر اس مسئلہ کو اچھالا جارہا ہے ۔ کوئی تو معقول وجہ بتائی جانی چاہئے کہ آخر شریعت کو کیوں موضوع بحث بنایا جارہا ہے ۔

وزیراعظم یا ان کی پارٹی کے کسی لیڈر کابینہ کے کسی وزیر کو اس کی وجہ بتانی چاہئے ۔ بغیر کسی سبب نیند سے جاگ کر شریعت کے پیچھے پڑجانے کا آخر مقصد کیا ہے ۔ حکومت ہندوستانی مسلمانوں سے یہ توقع تو نہیں کرسکتی کہ وہ اپنی شریعت مظاہرہ میں کوئی نعوذ باللہ  نقص نکالے گی، اس کا تو یہ عین الیقین ہے کہ یہ فرمان خدا وندی ہے۔ اس بات پر ساری امت متفق ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں شریعت پر عمل کر کے امت کیلئے اپنا اسوہ حسنہ چھوڑا ہے ۔ حکومت کا مسلمانوں سے یہ کہنا کہ وہ شرعی قوانین میں تبدیلی کرے بالکل نامناسب اور  غیر واجبی مطالبہ ہے۔ حکومت ہندوستانی مسلمانوں سے وہ کرنے کو کہہ رہی ہے جو خود ہندوستانی مسلمانوں کے اختیار میں نہیں ہے ۔ شریعت اور اس کے قوانین تاابدیاازل غیر متبدل ہیںاور رہیں گے۔ پرسنل لا بورڈ آج تمام ہندوستانی مسلمان کا نمائندہ بنا ہوا ہے ۔ تمام مسلمانوں کو بلا لحاظ مسلک بورڈ عزیز ہے اور وہ اسکے کہنے پر عمل کریں گے ۔ مسلمانوں کے ذ ہن میں شبہات و شکوک ہیں کہ چند عائلی قوانین میں تبدیلی کا مطالبہ دراصل ملک میں یکساں سیول کوڈ کے لئے راہ ہموار کرنے کیلئے کیا جارہا ہے کیونکہ واضح طور پر کہا گیا ہے کہ (بی جے پی کے مخصوص لیڈروں نے) ایک ملک میں دو قوانین نہیں ہوسکتے ۔ سب کیلئے یکساں سیول کوڈ ہونا چاہئے ۔ یہ صورتحال نہ تو ما ضی میں کبھی رہی ہے اور نہ آج ہوسکتی ، نہ آئندہ کبھی ہوسکتی ہے کیونکہ ملک میں کئی مذہبی ، تہذیبی اکائیاں ہیں، ان کے اپنے اپنے سیول کوڈ ہیں۔ یہ اکائیاں مسلمانوں کے مقابلہ میں کم ترعددی موقف رکھتی ہیں۔ حکومت سمجھتی ہے کہ پہلے ملک کی سب سے بڑی اقلیت کو خدانخواستہ مجبور کرلیا گیا تو چھوٹی چھوٹی اکائیاں خود ہتھیار ڈال دیں گی لیکن ایسا نہیں ہوگا بلکہ ہراقلیت اپنے تشخص اور شناخت کیلئے اٹھ کھڑی ہوگی اور ملک میں نراج کی کیفیت پیدا ہوجائے گی ۔ مودی حکومت اپنے طور پر ایسے حالات پیدا کر رہی ہے جبکہ وہ خود ذمہ دار ہے ۔ کوئی ضرورت نہیں ملک کسی پرسنل لا میں تبدیلی کی بات کی جائے۔ ملک کو اس سے کہیں زیادہ سنگین مسائل درپیش ہیں۔ بی جے پی کی حکومت تمام محاذوں پر ناکام ہوگئی ہے ۔ وکاس یا ترقی سب کے لئے ان کا نعرہ کھوکھلا ثابت ہوا۔ سرجیکل اسرٹائیک کا نشہ اب رفتہ رفتہ کم ہورہا ہے ۔

اہم ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے کو ہیں۔ کوئی انتخابی موضوع نہیں ہے ۔ اس بوکھلاہٹ میں بی جے پی حکومت کبھی 3 طلاق اور ایک سے ز یادہ شادیوں کے مسئلہ کو اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے تو کہیں رام مندر کی تعمیر کا پروپگنڈہ کر رہی ہے ۔اگر مندر نہیں تو راماین پارک کی تعمیر کا تو سنگ بنیاد بھی رکھا جاچکا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر خود ایودھیا کے ہندو نوجوانوں نے کہا ہے کہ ’’رام مندر نہیں ہمیں روزگار اور ملازمتیں چاہئے ۔ رام مندر یا ایودھیا کی متنازعہ زمین پر رامائن پارک بنانے کا خیال اس وقت کیوں بی جے پی کو آیا ہے جبکہ ریاستوں میں اسمبلی چناؤ قریب آگئے ہیں جیسا کہ ان مسائل سے عوام کو دلچسپی نہیں رہی ۔ اسی طرح سے ملک کے عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ کسی مذہبی اقلیت کے مماثل قوانین کیا ہیں۔ انہیں (عوام) کو تو اپنی روزی روٹی کی فکر لاحق ہے ۔ عائلی قوانین میں مداخلت کرنے سے عوام کوکوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ بی جے پی یہ باور کرتی ہے کہ شریعت کے مسئلہ پر اکثریتی طبقہ کا ووٹ اس کو مل جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ شرعی قوانین سے عام ہندوستانی کو کوئی تعلق نہیں وہ تو بس اپنی زندگی بمشکل جیتا ہے ۔ اسے دو وقت کی روٹی مل جائے تو اس کی زندگی گزر جاتی ہے جو مسائل بی جے پی حکومت اٹھارہی ہے ، ان کا کوئی اطلاق ملک کے موجودہ حالات سے نہیں ہے ۔ یہ صرف مودی حکومت کے سرپر سوار مسلم دشمنی کا ہی شاخسانہ ہے ۔ اسی کے بیمار ذہن کی پیداوار ہے ورنہ ملک میں ہر باشندہ یہ خواہش کرتا ہے کہ تمام ہندوستانی باشندے اپنے اپنے طرز کی زندگی گزاریں۔ یہاں کسی ایک مخصوص عقیدہ کی حکومت نہیں ہے ۔ ہر طبقہ ، ہر فرقہ آزادانہ طور پر اپنے مذہبی عقیدے اور اصولوں پر عمل کرسکتا ہے ۔ جب سے بی جے پی اقتدار پر آئی ہے ایسے مسائل پیدا ہورہے ہیں، کہیں گاؤ رکھشک معصوم اور بے گناہوں کو سر بازار کوڑے مارتے ہیں تو دادری میں محمد اخلاق کو محض اس شبہ کی بنیاد پر ہلاک کردیا جاتا ہے کہ اس کے گھر میں گائے کا گوشت چھپا کر رکھا گیا ہے۔ کہیں احمد آباد میں ایک مسلم نوجوان کو محض بیل اور بچھڑا لے جانے کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے اور کبھی مسلم خاتون کو زد و کوب کر کے سزا دی جاتی ہے ۔ یہی طرز عمل جاری رہا تو بی جے پی اور اس کا ساتھ دینے والی طاقتوں کو بہت جلد ملک کے عوام اقتدار سے نکال باہر کریں گے ۔

TOPPOPULARRECENT