Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / دین کا داعی بننا اللہ کا انعام ، غیر مسلموں میں دعوت دین اہم فریضہ

دین کا داعی بننا اللہ کا انعام ، غیر مسلموں میں دعوت دین اہم فریضہ

سری رام سے برادر محمد سراج الرحمن بنے یو آئی آر سی کے داعی کے ہاتھ پر تقریباً 2000 افراد کا قبول اسلام یو آئی آر سی انسانوں کو حق کا راستہ بتانے میں مصروف

سری رام سے برادر محمد سراج الرحمن بنے یو آئی آر سی کے داعی کے ہاتھ پر تقریباً 2000 افراد کا قبول اسلام
یو آئی آر سی انسانوں کو حق کا راستہ بتانے میں مصروف

حیدرآباد ۔ 19 ۔ مئی : سری رام نے کبھی یہ سوچا تک نہیں تھا کہ وہ ایک دن دامن اسلام میں پناہ لے کر دعوت دین کے مقدس کام میں مصروف ہوجائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے کسی بندہ پر رحم کرتے ہیں اس پر مہربان ہوتے ہیں تو اسے ایمان کی دولت سے نوازتے ہیں ۔ دین کی فہم عطا کرتے ہیں چنانچہ وہ لوگ خوش نصیب ہیں جو اسلام کے داعی بن کر اللہ کے بندوں تک دین کا پیغام پہنچا رہے ہیں انہیں یہ بتا رہے ہیں کہ اس دین میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے ۔ دونوں جہانوں میں عزت اور جنت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو اس نعمت عظمیٰ سے نوازا ہے ان میں 27 سالہ سری رام بھی شامل ہیں جنہیں آج دنیا برادر محمد سراج الرحمن کے نام سے جانتی ہے اس نوجوان پر اللہ تعالیٰ نے کس قدر رحم و کرم فرمایا اور اپنے انعامات کی بارش کردی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام قبول کرنے کے بعد سے تاحال ان کے ہاتھ پر زائد از 2000 غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا ۔ ایک ملاقات میں برادر محمد سراج الرحمن نے جو یونیورسل اسلامک ریسرچ سنٹر کے جنرل سکریٹری بھی ہیں بتایا کہ ان کا تعلق ضلع نلگنڈہ کے علاقہ بھونگیر سے ہے اور وہ ایک کٹر ہندو گھرانے سے تعلق رکھتے تھے تاہم مقامی مسجد کے ایک امام صاحب نے جنہیں وہ راشد بھائی کہتے ہیں اپنے چند الفاظ سے ان کی زندگی ہی بدل ڈالی وہ الفاظ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سے متعلق تھے تب ہی سے انہوں نے قرآن مجید کا مطالعہ شروع کردیا ۔ اس کے برعکس ان کے گھر میں کٹر ہندو رواج پایا جاتاتھا ۔ بھائی ایپا گرو سوامی کی حیثیت سے برادری میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ۔ گھر میں ہمیشہ کسی نہ کسی نام پر پوجا پاٹ ہوتی لیکن محمد سراج الرحمن نے تقریباً ایک سال تک قرآن مجید اسلامی تعلیمات و سیرت النبیؐ کے مطالعہ کے بعد اسلام قبول کیا تو سارے گھر میں بھونچال سے آگیا ۔ ماں باپ بھائی اور خاندان کے دیگر ارکان نے بار بار یہی کہا کہ تم نے آخر اپنے باپ دادا کے مذہب کو خیر باد کہتے ہوئے دین اسلام کو اپنے دل سے لگانے کی ہمت کیسے کی ۔ اس اعتراض پر محمد سراج الرحمن کا ایک ہی جواب ہوا کرتا تھا کہ انہوں نے بڑی تحقیق کے بعد ہی اسلام قبول کیا ہے ۔ یہ ایسا مذہب ہے جس میں ایک خدا کی عبادت کی جاتی ہے ۔ شخصیت پرستی کی کوئی گنجائش نہیں ۔ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک ، پڑوسیوں کی مدد ، بیماروں کی عیادت ، مصیبت زدوں کی امداد ، یتیموں و یسروں کے ساتھ شفقت انسانیت سے محبت ، یہاں تک کہ درختوں اور جانوروں کا خیال رکھنے کی ہدایت دی جاتی ہے ۔ محمد سراج الرحمن نے جو ایک اور داعی برادر شفیع کے ساتھ مل کر یونیورسل اسلامک ریسرچ سنٹر قائم کیا مزید بتایا کہ اسلام قبول کرنے پر ابتداء میں انہیں کئی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمان کی جس دولت سے نوازا اس کے سامنے وہ پریشانیاں اور مصیبتیں زدہ کی مانند نظر آئیں ۔ برادر محمد سراج الرحمن نے ہندوؤں کی مقدس کتابوں بھگوت گیتا وید اپنشد رامائن اور دیگر مذہبی کتابوں کا تحقیقی انداز میں مطالعہ کیا ساتھ ہی سنسکرت پر عبور حاصل کرنے کے بعد اپنے ارکان خاندان کو بتایا کہ ہر مذہبی کتاب میں آقائے نامدار خاتم النبین حضرت محمد مصطفی ﷺ کا اسم مبارک آیا ہے ۔ ان کے دلائل پر قائل ہوتے ہوئے والد نے اسلام قبول کیا ۔ ماں نے بھی کلمہ پڑھ لیا ہے ۔ جب کہ بھائی اپنی ضد پر اڑا ہوا ہے ۔

محمد سراج الرحمن کے مطابق کھمم میں دعوت دین کے ایک پروگرام میں انہوں نے ایک خاندان کو دین کی دعوت پیش کی تھی چنانچہ اس خاندان کی ایک لڑکی سے ان کی شادی ہوئی اور اس جوڑے کو دو لڑکے ، ایک لڑکی ہے ۔ یو آئی آر سی کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یو آئی آر سی کے صدر برادر شفیع ہیں جب کہ برادر سید الیاس احمد بھی اپنے خطابات کے ذریعہ غیر مسلموں تک پیغام اسلام پہنچانے میں بہت آگے رہتے ہیں ۔ یو آئی آر سی کی ساری ٹیم کی کوششوں کو اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا فرمائی اور 5000 سے زائد غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا جب کہ عنبر پیٹ میں واقع یو آئی آر سی کے دفتر میں ہر روز دین اسلام کے ماننے کے خواہاں افراد کا تانتا بندھا ہوا ہوتا ہے ۔ جس میں آئی اے ایس ، آئی پی ایس عہدیداروں سے لے کر پیشہ وارانہ ماہرین ، دانشوروں اور تعلیم یافتہ افراد کی کثیر تعداد شامل ہے ۔ برادر محمد سراج الرحمن کے مطابق یو آئی آر سی داعیان کے بیانات کا یو ٹیوب کے ذریعہ 57 ممالک میں مشاہدہ کیا جاتا ہے ۔ یوٹیوب پر ان بیانات کو دیکھنے کے بعد 200 سے زائد افراد نے اس سنٹر سے ربط پیدا کرتے ہوئے اسلام قبول کیا ۔ ان کے مطابق مندروں ، گرجاگھروں ، جیلوں ، اسکولس ، کالجس میں بھی یو آئی آر سی کے داعی غیر مسلموں کو دین کا پیغام پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں جس پر غیر مسلم بھائیوں کا حوصلہ افزاء ردعمل حاصل ہورہا ہے ۔ اچھی داعی کے اوصاف کے بارے میں سوال پر برادر سراج الرحمن کا کہنا ہے کہ جذبہ سب سے اہم چیز ہے اور پھر معلومات بھی ضروری ہیں ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یو آئی آر سی اپنی گشتی لائبریروں کے ذریعہ بھی دعوت دین کا کام انجام دے رہا ہے ۔ یو آئی آر سی کے پی آر او جناب عبدالماجد عمران کے مطابق یو آئی آر سی 5000 داعیان کی تیاری کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ ہمارے غیر مسلم بھائیوں تک اسلام کا پیغام بھیج سکے ۔ ان کے مطابق یو آئی آر سی کے داعیان کو سعودی عرب ، دوبئی ، کویت ، بحرین اور دیگر ممالک بھی مدعو کیا جاتا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT