Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / دیوالی پر نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کا سایہ

دیوالی پر نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کا سایہ

سرکاری ملازمین کے بونس میں اضافہ اور بینک لون کے ذریعہ بازاروں میں رونق بڑھانے کی کوشش
حیدرآباد ۔ 18 ۔ اکٹوبر : ( ایجنسیز ) : نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے سایہ میں اس سال نوراتری کے موقع پر بازاروں میں اس طرح کے ’ گلزار ‘ نہیں دکھائی دئیے جیسے دیوالی کے پہلے آنے والے ان نوراتریوں میں گذشتہ سالوں میں دکھائی دیتے تھے ۔ چونکہ پہلے سے ہی اس کا اندیشہ تھا اس لیے مرکزی حکومت چوکس تھی ۔ اس کا پورا دھیان بازار میں پیدا ہونے والے رونق پر لگا ہوا تھا ۔ لیکن جب اندیشہ کے مطابق رونق نظر نہیں آئی تو اس سے پہلے کہ اپوزیشن جماعتیں حکومت پر تیکھا حملہ کرتیں ، مرکزی حکومت جنگی خطوط پر بازاروں میں رونق لانے میں جٹ گئی ۔ 21 ستمبر سے 3 اکٹوبر 2017 کے بیچ لگ بھگ سبھی بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں نے اپنے سرکاری ملازمین کے بونس یا مہنگائی بھتہ اور دیگر امور میں اضافہ کا اعلان کردیا ۔ ریلوے سے لے کر اے درجہ کے تمام پی ایس یو بھی اپنے ملازمین کے لیے ایسا ’ دیوالی گفٹ ‘ مہیا کرنے میں لگ گئے کہ جس سے بازار کی چمک دمک بڑھے ۔ دراصل ’ پھیکی دیوالی ‘ کا مطلب ہے عوامی سطح پر ’ نوٹ بندی ‘ اور ’ جی ایس ٹی ‘ کی زبردست ناکامی ، اس لیے آناً فاناً میں حکومت نے بازاروں کے لیے سرکاری ملازمین کے ذریعہ بازاروں میں رونق بڑھانے کی کوشش کی ۔ ریلوے سے لے کر تمام دوسرے مرکزی ملازمین کو بھی کسی نہ کسی روپ میں دیوالی کے پہلے موٹے طور پر ادائیگی کردی گئی تاکہ بازاروں میں چہل پہل لوٹ آئے ۔ اس طرح ان تمام ریاستوں اور مرکز نے مل کر دیوالی کے پہلے تقریبا 87000 کروڑ روپئے کی نقدی بازار میں جھونک دی ۔ یہ سب اس لیے تاکہ بازار میں رونق دکھائی دے اور ایسا لگے کہ سب کچھ ٹھیک ہے اور یہ سمجھ میں آئے کہ معاشی بحران نہیں ہے ۔ ان سب باتوں سے یہ تو طئے ہوگیا ہے کہ بھلے یہ دیوالی سب کے لیے روشن نہ ہو لیکن جہاں تک بازار کے ’ ٹرن اوور ‘ کی بات ہے تو اس سال بھی باقی سالوں سے پیچھے نہیں ہوگی ۔ اعداد و شمار کے لحاظ سے اس سال بھی خریداری کوئی بہت کم نہیں ہوئی ۔ گجرات انتخابات اور دیوالی کی خریدی کو دھیان میں رکھ کر جس طرح 2 لاکھ روپئے تک کے سونے کی خریدی کو بھی پیان کارڈ کے لزوم سے چھوٹ دیا گیا ہے اس سے بھی جم کر خریدی ہونے کے آثار بنے ہیں ۔ صرافہ بازاروں میں چھوٹ کے مد نظر گھروں میں ہونے والی شادیوں کے لیے بھی لوگ فائدہ اٹھائیں گے ۔ حکومت نے عین دیوالی کے موقع پر جس طرح سے جی ایس ٹی میں چھوٹ دی ہے اس سے دیوالی کی خریدی کے لیے ماحول بن گیا ہے ۔ ماحول بنانے کی اس جدوجہد میں بینک آف انڈیا بھی کود پڑا ہے ۔ اس دیوالی خریداری کے لیے پیسوں کی کمی نہ ہونے پائے اس کے لیے ایس بی آئی نے کئی خاص طریقے اپنائے ہیں ، مثال کے طور پر اگر آپ کوئی شئے خریدنا چاہتے ہیں لیکن آپ کے پاس پیسے نہ ہوں تو بھارتیہ اسٹیٹ بینک آپ کی مدد کرے گا ۔ بینک کے مطابق وہ تہوار سے جڑے آپ کے سبھی خرچ کے لیے لون دے گا ۔ ایس بی آئی فیسٹیول لون کے تحت آپ کو 5 ہزار روپئے سے لے کر 50 ہزار روپئے تک لون دے گا ۔ اس لون کو آپ کو 12 مہینوں کی ای ایم آئی کے ذریعہ لوٹانا ہوگا ۔ خاص بات یہ ہے کہ اگر آپ لون کی پوری رقم وقت سے پہلے واپس ادا کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو کسی طرح کا چارج بھی نہیں لگے لگا ۔ اگر آپ ملازمت پیشہ ہیں تو آپ کی تنخواہ کی بنیاد پر آپ کو لون ملے گا ۔ اس لون کے لیے اگر آپ درخواست دیتے ہیں تو آپ کو صرف ضروری دستاویز ہی فراہم کرنا ہوگا ۔ اس طرح دیکھا جائے تو حکومت نے دیوالی کے موقع پر رونق لانے کے انتظامات کئے ہیں تاکہ یہ سمجھا جائے کہ سب کچھ ٹھیک ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT