Monday , December 18 2017
Home / ہندوستان / ’’دیوالی کا تہوار ہفتہ کو ختم ہوگا لیکن معاشی دیوالیہ کا کیا ہوگا‘‘

’’دیوالی کا تہوار ہفتہ کو ختم ہوگا لیکن معاشی دیوالیہ کا کیا ہوگا‘‘

’’اچھے دن کی جھوٹی امید پیدا کرنے والی حکومت کو سبق سکھانے عوام تیار ہوجائیں ، سامنا کا اداریہ

ممبئی ۔ /18 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکز اور مہاراشٹرا میں بی جے پی کے زیرقیادت این ڈی اے کی ایک اہم حلیف جماعت شیوسینا نے مرکز سے آج استفسار کیا کہ ’’اچھے دن کہاں ہیں ؟؟ ‘‘ اور کہا کہ دیوالی کا تہوار ہفتہ کو ختم ہوجائے گا لیکن ’’معاشی دیوالیہ ‘‘ کا کیا ہوگا ۔ شیوسینا نے مرکز کے دو کلیدی پالیسی فیصلوں نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی مذمت کی اور کہا کہ عوام کو چاہئیے کہ وہ اپنے جذبات وہ احساسات سے کھلواڑ کرنے والی حکومت کو سبق سکھانے کیلئے تیار ہوجائیں ۔ ادھو ٹھاکرے کی جماعت شیوسینا کے ترجمان مرٹھی روزنامہ ’’سامنا‘‘ نے اپنے اداریہ میں لکھا کر ’’ملک میں آج ایسی صورتحال ہے کہ ہر طرف جھوٹ پھیلایا جارہا ہے ۔ چنانچہ عوام کو چاہئیے کہ وہ انہیں جھوٹی امیدیں دلاتے ہوئے ان کے جذبات اور احساسات سے کھلواڑ کرنے والی حکومت کو سبق سکھانے کیلئے تیار ہوجائیں ‘‘ ۔ سامنا نے مزید لکھا کہ ’’دیوالی تہوار کے موقع پر لکشمی پوجا کے دوران عوام کو یہ دعائیں کرنا چاہئیے کہ نوٹ بندی کا آدم خور پھر کبھی کوئی تباہی نہ مچائے اور ان (عوام) کی محنت سے کمائی ہوئی دولت نہ چھین لے ‘‘ ۔ شیوسینا نے کہا کہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے ساری معیشت کو لڑکھڑا کر رکھ دیا ۔ تعمیراتی شعبہ اور تاجرین گزشتہ 11 ماہ سے گاہکوں کا انتظار کررہے ہیں ۔ ادھو ٹھاکرے نے اداریہ میں لکھا کہ ’’دیوالی کا تہوار ہفتہ کو ختم ہوجائے گا ۔لیکن معیشت کا جو دیوالیہ ہوا اس کا کیا ہوگا ؟ دیوالی کے اچھے دن کہاں ہیں ؟؟ کسانوں کی خودکشیوں کا اختتام کیوں نہیں ہورہا ہے ؟ لوک شیڈنگ جو ماضی کی حکومت کی طرف سے مستقل طور پر ختم کردی گئی تھی آخر کیوں دوبارہ شروع ہوئی ہے ؟ شیوسینا نے مرکز سے سوال کیا کہ ’’ آخر کیوں وہ ناکام ہوگئے جو کہتے تھے کہ افراط زر کو کم کیا جائے گا ؟ تجارت اور صنعتیں کیوں ناکام ہورہی ہیں ؟ ۔ بیروزگاری کیوں بڑھ رہی ہے ؟ ہمیں پٹاخے پھوڑنے اور ہمارے اپنے تہوار منانے سے کیوں روکا جارہا ہے ؟ ۔ ایسے ہی کئی سوالوں نے عوام کو بے بسی کی حالت میں مبتلا کردیا ہے ‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT