Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / دیوالی کے موقع پر تجارت میں ریکارڈ کمی

دیوالی کے موقع پر تجارت میں ریکارڈ کمی

تجارتی برادری کے خدشات سچ ثابت، ملک کی معاشی صورتحال افسوسناک
حیدرآباد۔22اکٹوبر(سیاست نیوز) ملک میں دیوالی کی تجارت گذشتہ 10برسوں کے دوران سب سے ابتر رہی اور دیوالی تہوار کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ملک بھر کی دیوالی کی تجارت میں 40 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے جو گذشتہ 10برسوں میں انتہائی ابتر صورتحال سمجھی جا رہی ہے۔ دیوالی سے 10یوم قبل ملک بھر میں منصوبہ و غیر منصوبہ بند اخراجات و تجارت 50ہزار کروڑ تک کی ہوا کرتی تھی لیکن جاریہ سال اس میں 40فیصد تک کی گراوٹ نے تاجرین کے ہوش اڑا دیئے ہیں۔ تجارتی برادری نے دیوالی سے قبل بھی تجارتی مندی کا اعتراف کیا تھا لیکن اس بات کی توقع کی جا رہی تھی کہ دیوالی سے عین قریب صورتحال میں تبدیلی آئے گی لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ دیوالی کے دوسرے دن مجموعی کاروبار کا جائزہ لینے کے بعد تجارتی برادری اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ مجموعی تجارت میں 40فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے جوکہ گذشتہ 10 برسوں کے دوران کبھی ریکارڈ نہیں کی گئی تھی۔کانفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس کے مطابق ہندستانی عام کی قوت خرید میں ریکارڈ کی جانے والی اس گراوٹ کی کئی وجوہات ہیں جن میں کرنسی تنسیخ اور جی ایس ٹی کے علاوہ بیروزگاری کی شرح میں ہونے والا اضافہ بھی اہم وجہ ہے۔ کانفیڈریشن کے ذمہ دارو ںکا کہنا ہے کہ ملک میں سالانہ 40لاکھ کروڑ کا ریٹیل ٹرن اوور ریکارڈ کیا جا تا تھا اور اس اعتبار سے ماہانہ 3.5لاکھ کروڑ کا ٹرن اوور ہوا کرتا تھا لیکن گذشتہ چند ماہ کے دوران ہندستانی بازاروں میں دیکھی جانے والی مندی کے سبب صورتحال انتہائی ابتر ہوتی جا رہی ہے اور تجارتی برادری کے حالات خراب ہونے لگے ہیں۔ تاجرین کا کہناہے کہ ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے میں صنعتکار سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جو کہ غیر منصوبہ بند انداز میں ملک اور حکومت کی آمدنی میں اضافہ کرتے ہیں لیکن اب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کے عوام کی معاشی حالت بتدریج ابتر ہوتی جا رہی ہے ۔ تجارتی برادری کا کہناہے کہ جاریہ ماہ کے اواخر سے ’دیو اتھنی یکادشی‘ کی شروعات ہوگی جو کہ 14ڈسمبر تک جاری رہے گی یعنی اس مدت کے دوران ملک بھر میں شادیوں کا موسم ہوگا اور اگر شادیوں کے موسم کے دوران بھی تجارتی حالات میں تبدیلی نہیں لائی جاتی تو ایسی صورت میں ریٹیل تاجرین کی حالت تباہ ہوجائے گی اور ریٹیل تجارتی ادارے بھی تیزی سے ختم ہونے لگ جائیں گے جو کہ ملک کی معیشت کے لئے اچھی بات نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT