Thursday , September 20 2018
Home / ہندوستان / دیوبند میں اے ٹی ایس کا ایک مرتبہ پھر دھاوا ، 3 نوجوان زیرحراست

دیوبند میں اے ٹی ایس کا ایک مرتبہ پھر دھاوا ، 3 نوجوان زیرحراست

دیوبند۔3جنوری (سیاست ڈاٹ کام) انسداد دہشت گرد دستے( اے ٹی ایس) ٹیم کی دیوبند شہر میں مختلف مقامات پر چھاپہ ماری سے دن بھردہشت اور افراتفری مچی رہی ۔ اے ٹی ایس ٹیم نے فرضی دستاویز کی بنیاد پر پاسپورٹ تیار کرانے کے الزام میں دو سگے بھائیوں سمیت تین افراد کو حراست میں لیا ہے حالانکہ ذرائع کے مطابق ایک بھائی کے خلاف کسی طرح کا ثبوت نہ ملنے پر اے ٹی ایس ٹیم سبھی کو اپنے ساتھ میرٹھ لے گئی ہے۔ابتدائی تحقیق کے بعد تینوں میں سے ایک کو رہا کرنے کی بات سامنے آرہی ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق میرٹھ سے خاموش طریقے سے دیوبند پہنچی اے ٹی ایس کی ٹیم نے آج محلہ پٹھانپورہ ، مینا بازار، اندرا پارک پر واقع خانقاہ پولیس چوکی کے نزدیک ٹریول ایجنسی چلارہے نوجوان کو حراست میں لے لیا۔ اے ٹی ایس کی ٹیم کو دیکھ کر پورے شہر میں افراتفری مچی رہی، کافی وقت تک لوگ یہی سمجھتے رہے کہ یہ معاملہ 4سال قبل لوٹی گئی اے کے 47سے متعلق ہے لیکن ٹریول ایجنسی سے کمپیوٹر سمیت دیگر دستاویز کو ضبط کرنے کے سبب پولیس ذرائع سے معلوم ہوا کہ یہ معاملہ فرضی کاغذات پر محلہ پٹھانپورہ کے پتہ پر پاسپورٹ بنانے کے الزام میں گرفتاری کاہے، بتایا جاتا ہے کہ اے ٹی ایس نے مراد نگر سے بنگلہ دیش کے رہنے والے یوسف علی عرف نذر ل ولد حضرت علی کو گرفتار کیا اور اس کی نشاندہی پر ہی دیوبند میں چھاپہ ماری کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اے ٹی ایس کی ٹیم نے محلہ پٹھانپورہ کے رہنے والے احسان اور محلہ قلعہ کے رہنے والے محمد وسیم کو مینا بازار اور اس کے بھائی پرویز کو خانقاہ سے حراست میں لیا۔ اے ٹی ایس ٹیم نے تینوں مقامات سے کمپیوٹر ، پرنٹر سمیت وہاں پر موجود دیگر دستاویزات بھی اپنے قبضے میں لئے ہیں، خفیہ محکمہ کے ذرائع کے مطابق کہ پرویز کے پاس سے کوئی قابل اعتراضات چیز دستیاب نہیں ہوئی ہے جس کی بنیاد پر اسے جلد ہی رہا کیا جاسکتا ہے۔ پولیس کے مطابق اے ٹی ایس ٹیم اس کی تحقیق کررہی ہے اور تحقیق کے بعد ہی اگلی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ واضح ہو کہ تقریباً دو ماہ قبل محلہ پٹھانپورہ کے ایڈریس پر صاحب آباد میں واقع پاسپورٹ دفتر کو زین الدین نام کے نوجوان کے پاسپورٹ کے لئے درخواست دی گئی تھی ،بتایاجاتا ہے کہ پولیس نے اس معاملہ کی تحقیق کرکے پاسپورٹ کے دستاویز دفتر کو بھیج دیئے جس کے بعد علاقائی خفیہ ایجنسی نے جب اس کی تحقیق کی تو پاسپورٹ تیار کرنے کیلئے دیا گیا۔ یہ پتہ ہی نہ صرف فرضی تھا بلکہ اس میں دیئے گئے گواہوں کے ایڈریس بھی فرضی تھے جس کے بعد خفیہ محکمہ نے پاسپورٹ تیار کرنے والے افراد کی جانچ شروع کردی تھی۔

TOPPOPULARRECENT