Saturday , June 23 2018
Home / Top Stories / دیویانی کھوبر گاڑے کے خلاف مقدمہ خارج ‘جج کی رولنگ

دیویانی کھوبر گاڑے کے خلاف مقدمہ خارج ‘جج کی رولنگ

نیویارک 13 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستانی سفارتکار دیویانی کھوبر گاڑے کو آج راحت مل گئی جب امریکہ کی ایک عدالت نے ان کے خلاف ویزا دھوکہ دہی کا مقدمہ خارج کردیا ۔ جج نے کہا کہ دیویانی کو مکمل سفارتی استثنی بھی حاصل ہے ۔ دیویانی کی گرفتاری اور ان کی جامہ تلاشی کے نتیجہ میں ہند ۔ امریکی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی ۔ دیویانی کو عدال

نیویارک 13 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستانی سفارتکار دیویانی کھوبر گاڑے کو آج راحت مل گئی جب امریکہ کی ایک عدالت نے ان کے خلاف ویزا دھوکہ دہی کا مقدمہ خارج کردیا ۔ جج نے کہا کہ دیویانی کو مکمل سفارتی استثنی بھی حاصل ہے ۔ دیویانی کی گرفتاری اور ان کی جامہ تلاشی کے نتیجہ میں ہند ۔ امریکی تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوگئی تھی ۔ دیویانی کو عدالت سے راحت اپنی گرفتاری کے ٹھیک تین ماہ بعد حاصل ہوئی ہے ۔ ضلع جج شیرا شنیڈلین نے اپنے 14 صفحات پر مشتمل حکمنامہ میں کہا ہے کہ

اس بات میں کوئی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ سفارتکار کو جس وقت ہندوستانی سفارتی مشن برائے اقوام متحدہ میں سفارت کار کی حیثیت سے منظوری ملی اس وقت انہیں مکمل سفارتی استثنیٰ حاصل ہوگیا تھا ۔ اس رولنگ کے باوجود بھی امریکی پراسکیوٹرس کھوبر گاڑے کے خلاف تازہ کارروائی کرسکتے ہیں اور انہوں نے اس کارروائی کا اشارہ بھی دیدیا ہے ۔ مین ہاٹن امریکی اٹارنی پریت بھرارا کے ایک ترجمان جیمس مارگولن نے یہ اشارہ دیا ہے کہ کھوبر گاڑے کے خلاف تازہ کارروائی کی جاسکتی ہے ۔کھوبر گاڑے پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی گھریلو ملازمہ سنگیتا رچرڈ کی ویزا درخواست میں حکومت امریکہ سے غلط بیانی کی ہے ۔ کھوبر گاڑے کو جس وقت گرفتار کیا گیا تھا

اس وقت وہ نیویارک میں ڈپٹی قونصل جنرل تھیں ۔ دیویانی کے دو بچے اور ان کے شوہر فی الحال امریکہ ہی میں ہیں۔ اٹارنی کے دفتر کا تاہم عدالت میں ادعا تھا کہ کھوبر گاڑے کو 12 ڈسمبر کو جس وقت ویزا خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اس وقت انہیں استثنی حاصل نہیں تھا ۔ انہوں نے اپنی ملازمہ کی درخواست ویزا میں بھی غلط بیانی سے کام لیا تھا ۔ کھوبر گاڑے کے وکیل ڈانیل ارشاک نے امریکی جج کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا کہ اگر دیویانی کے خلاف کوئی تازہ مقدمہ درج کیا جاتا ہے تو یہ جارحانہ اور غیر ضروری عمل سمجھا جائیگا۔

TOPPOPULARRECENT