Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / دیویندر گوڑ آئندہ ماہ راجیہ سبھا کی رکنیت سے سبکدوش

دیویندر گوڑ آئندہ ماہ راجیہ سبھا کی رکنیت سے سبکدوش

دوبارہ موقع فراہم کرنے صدر تلگودیشم چندرا بابو کو مکتوب
حیدرآباد ۔ 11 مارچ (سیاست نیوز) تلگودیشم پارٹی کے سینئر قائد و رکن پارلیمان (راجیہ سبھا) مسٹر ٹی دیویندر گوڑ اپنی میعاد کی تکمیل پر آئندہ ماہ راجیہ سبھا کی رکنیت سے سبکدوش ہوں گے۔ ایک اور مرتبہ انہیں راجیہ سبھا کے لئے موقع فراہم کرنے کی قومی صدر تلگودیشم پارٹی و چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو سے خواہش کی ہے اور اس سلسلہ میں ایک مکتوب تحریر کرکے مسٹر چندرا بابو نائیڈو کو روانہ کیا ہے۔ تحریر کردہ مکتوب میں مسٹر ٹی دیویندر گوڑ نے اپنے تحریر کردہ مکتوب میں بتایا کہ راجیہ سبھا کیلئے عوام کی جانب سے آنے والے قائد (شخصیت) کو ہی منتخب کرنے کی مسٹر چندرا بابو نائیڈو سے خواہش کی اور بتایا کہ ملک کے عوام سے متعلق مستقبل پر اثرانداز ہونے والے قوانین کو مرتب کرنے میں راجیہ سبھا کے ارکان کا اہم رول ہوتا ہے۔ لہٰذا اس انتہائی اہمیت کے حامل راجیہ سبھا کیلئے عوامی مفادات و بہتری کیلئے خدمات انجام دینے والوں کو ہی راجیہ سبھا کیلئے منتخب کروانے کی ضرورت پر مکتوب میں زور دیا۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں بتایا کہ صدرنشین ضلع پریشد، تین مرتبہ رکن اسمبلی اور دس سال تک کابینی وزیر کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے بعدازاں رکن راجیہ سبھا کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کا انہیں تلگودیشم پارٹی میں موقع فراہم ہوا۔ لہٰذا آئندہ بھی عوامی بہتری و مفادات کیلئے عوامی جمہوری نظام کو مزید مستحکم بنانے کیلئے وہ اپنی کوشش کو جاری رکھنے کا اپنے مکتوب میں اظہار کیا۔ بتایاجاتا ہیکہ قومی صدر تلگودیشم پارٹی و چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے راجیہ سبھا انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ریاستی وزراء مسٹر کلا وینکٹ راؤ اور وائی راما کرشنوڈو کے علاوہ پارٹی کے اہم قائدین کے ساتھ امراوتی میں منعقدہ ایک مشاورتی اجلاس میں راجیہ سبھا کی نشستوں کیلئے امیدواروں کے ناموں پر غوروخوض کیا اور اس بات کا فیصلہ کیا گیا کہ ریاست آندھراپردیش سے مخلوعہ ہونے والی تین راجیہ سبھا نشستوں کے منجملہ صرف دو نشستوں کیلئے ہی پارٹی امیدواروں کے ناموں کو قطعیت دی جائے گی۔ راجیہ سبھا کیلئے پرچہ نامزدگی کے ادخال کیلئے 12 مارچ ہی آخری تاریخ رہنے کے پیش نظر مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے دو ناموں کو قطعیت دینے پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT