Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / دیپا کرماکر کانا کامی کے باوجودناقابل فراموش مظاہرہ

دیپا کرماکر کانا کامی کے باوجودناقابل فراموش مظاہرہ

اولمپکس میں دیپا نے ہارکر بھی سارے ہندوستان کادِل جیت لیا ، 2020 ء ٹوکیو اولمپکس میں گولڈمڈل کا حصول اگلا ہدف

ریوڈی جنریو۔15اگست (سیاست ڈاٹ کام)ریو اولمپک کھیلوں میں ہندوستان کو پہلی بار خواتین والٹ کے فائنل تک لے جانے والی دیپا کرماکر اگرچہ کانسی تمغہ سے ذرا سا چوک گئی ہوں لیکن انہوں نے اپنے اس کارکردگی سے کروڑوں لوگوں کا دل جیت لیا ہے۔ دیپا نے شکست کے بعد ایک ٹویٹ کر ملک سے اپنی ہار کی معافی بھی مانگی، جس کے جواب میں کئی سارے سیلبرٹیز نے ان کی حوصلہ افزائی کی۔23 سالہ دیپا اولمپکس کے لئے کوالیفائی کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون جمناسٹ بنی تھیں۔ واضح رہے کہ آزادی کے بعد 11 ہندوستانی مرد جمناسٹو نے اولمپکس میں (1952 میں دو، 1956 میں تین اور 1964 میں تین) حصہ لیا ہے لیکن ہندوستانی خواتین کے لئے اولمپک میں یہی پہلی بار تھا۔ ریو اولمپکس 2016 خواتین والٹ کے فائنل میں انتہائی معمولی فرق سے چوتھے نمبر پر رہیں دیپا نے ملک سے معافی مانگی لیکن سوشل میڈیا پر لوگوں نے انہیں انتہائی مثبت ردعمل کااظہار کیاہے۔۔ امیتابھ بچن، مادھوری دکشت، ریتک روشن، اسمرتی ایرانی، ہرشا بھوگلے وغیرہ تمام دیپا کا حوصلہ بڑھاتے نظر آئے۔ ہندوستانی جمناسٹ دیپا کرماکر ریو اولمپکس میں والٹ فائنل میں برونز میڈل چوک جانے سے مایوس نہیں ہیں اور اس کی بجائے انہوں نے ٹوکیو میں 2020 میں ہونے والے کھیلوں میں گولڈ میڈل جیتنے کو اپنا ہدف بنایا ہے۔دیپا اتوار کے اپنے شاندار کوشش سے پرامید تھیں۔ انہوں نے بعد میں کہا، میں نے اس اولمپک سے کبھی تمغہ کی امید نہیں کی تھی لیکن چوتھے مقام پر آنا بہت اچھا ہے۔ باکسنگ، کشتی میں چوتھے نمبر پر آنے سے ہی آپ کو کانسی کا تمغہ مل جاتا ہے لیکن مجھے نہیں ملے گا۔ میں تمغے کے کافی قریب پہنچ گئی تھی۔ چار سال بعد میرا مقصد گولڈ میڈل کا حصول ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرا پہلا اولمپک تھا لیکن مجھے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں ٹوکیو 2020 میں اپنا بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرونگی۔ میں نے اپنے پہلے اولمپکس میں چوتھے مقام پر رہنے کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا۔انہوں نے کہا کہ ایمانداری سے کہوں تو میں نے کبھی تمغہ کی امید نہیں تھی۔ میرا پہلا ہدف دو والٹ میں اپنا اسکور بہتر کرنا تھا اور میں اس میں کامیاب رہی۔ میں نے جو کچھ سیکھا تھا میں نے وہ کیا۔ جن دو والٹ میں میں مظاہرہ کرتی ہوں ان میں اس سے بہترا سکور نہیں بنایا جا سکتا ہے۔دیپا کو پروڈنووا والٹ کے لیے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ اگر اس میں وہ نیچے اچھی طرح سے اترتی تو تمغہ جیتنے کا امکان بڑھ جاتی۔ دیپا پہلے پاؤں پر کھڑی ہوئی لیکن اس کے بعد توازن کھو بیٹھی اور اس نے کچھ پوائنٹس گنوا دئے۔ انہوں نے پروڈنووا میں 15.266پوائنٹس بنائے۔انہوں نے کہا کہ یہ پروڈنووا میں میرا سب سے زیادہ اسکور ہے۔ اس سے پہلے میں نے 15.1کا اسکور بنایا تھا۔ میں اپنی والٹ سے کافی خوش ہوں۔ میں نے اپنے ملک کے لئے تمغہ جیتنے کے لیے اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کی تھی۔دیپا نے کہا کہ اپنے پرسنل کوچ بشویشور نندی کی نگرانی میں بیرون ملک خاص تجربہ حاصل نہیں کرنے کے باوجود یہ بڑی کامیابی ہے۔اس چار فٹ 11 انچ طویل جمناسٹ نے کہا، جمناسٹک آسان نہیں ہوتا ہے۔ ہمارے پاس غیر ملکی کوچ نہیں ہے۔ میں نے اپنے کوچ اور سائی کی کوششوں سے یہ حاصل کر پائی۔ ہم نے بیرون ملک میں مشق نہیں کیا۔ ہمیں تیاریوں کے لیے صرف تین ماہ کا وقت ملا۔ سابق اولمپک چیمپئن کے ساتھ مقابلہ کرنا اور چوتھے مقام پر رہنا اچھا مظاہرہ ہے۔دیپا کے کوچ نندی نے کہا کہ اس جمناسٹ کی لینڈنگ بہتر ہو سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ اچھی طرح سے نیچے اتر کر کھڑی ہو جاتی تو پھر گولڈ میڈل مل جاتا۔ حالانکہ پہلا والٹ بہت اچھا تھا۔مگردیپا کرماکرنے اپنے اس مظاہرہ سے پورے ہندوستانیوںکا دل جیت لیاہے۔

TOPPOPULARRECENT