Friday , September 21 2018
Home / مضامین / دیکھئے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض

دیکھئے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض

کے این واصف
سعودی عرب میں برسرکار خارجی باشندوں کو نئے سال نے بے حد مایوس کیا کیونکہ پہلی تاریخ کے ہر اخبار کے صفحہ اول پر قیمتوں میں اضافے کی سرخیاں لگی تھیں۔ جی ہاں سعودی عرب میں ویلو ایڈڈ ٹیکس (VAT) اور پٹرول کی قیمت میں 80 فیصد اضافے کے فیصلے پر یکم جنوری 2018 ء سے عملدر آمد شروع کردیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق وزارت توانائی نے پٹرول کا نیا نرخنامہ جاری کردیا جس کے مطابق پٹرول 91 فی لیٹر 75 پیسے کے بجائے 1.37 ریال لیٹر کردیا گیا جبکہ پٹرول 95 کی قیمت 90 پیسے سے بڑھاکر 2.04 ریال کردی گئی ۔ (واضح رہے کہ یہاں دو قسم کے پٹرول فروخت ہوتے ہیں۔ ایک کو 91 اور دوسرے کو 95 کہتے ہیں ) ڈیزل کے نرخوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی جس سے حمل و نقل کی قیمتوں پر اثر کم پڑے گا ۔ دوسری جانب 90 ہزار سے زیادہ تجارتی اداروں نے 5 فیصد VAT کی وصولی بھی شروع کردی ۔ اس حوالے سے مقامی شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں نے شکایات کا بھی آغاز کردیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکار نے VAT 5 فیصد مقرر کیا ہے ، وصول کرنے والے ادارے اس سلسلے میں حالات سے ناجائز فائدہ اٹھاکر بسا اوقات زیادہ شرح کے ساتھ یہ ٹیکس وصول کر رہے ہیں۔ گزشتہ سال کی آخری ساعتوں کی بابت موصولہ رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ مملکت کے تمام بڑے شہروں کے مشہور تجارتی مراکز نے VAT کے نفاذ کے پیش نظر 2017 ء کے اختتام سے چند گھنٹے قبل تجارتی لین دین معطل کردیا تھا ۔ تجارتی مراکز کے دروازے صارفین کیلئے رات گیارہ بجے بند کردیئے گئے تھے کیونکہ VAT کے نفاذ کیلئے مشینوں میں تبدیلی کے پیش نظر سعودی عرب میں پہلی بار نئے عیسوی سال کے آغاز سے قبل تجارتی مراکز کے دروازے بند ہوگئے ۔ اس حوالے سے ایک اور رپورٹ میں پٹرول اسٹیشنوں کے مالکان اور کارندوں کی جانب سے استحصال کے واقعات بھی سامنے آئے ۔ مشترکہ نگران ٹیموں نے ان کے خلاف کارروائی کی اور انہیں بلا انقطلاع پٹرول فروخت کرنے کا پابند بتایا ۔ محکمہ زکوۃ اور دیگر ادارے VAT کے حوالے سے آگہی مہم بھی چلا رہے ہیں ۔ اس ضمن میں سعودی بینکوں نے اعلان کیا ہے کہ یکم جنوری 2018 ء سے 5 فیصد VAT لاگو کردیا گیا ۔ سائبر سے منسلک اجارۃ کے معاہدوں پر 5 فیصد VAT لیا جائے گا ۔ منافع کے بغیر باقی ماندہ قیمت پر ٹیکس وصول کیا جائے گا ۔ متعدد بینک اس سے قبل یہ وضاحتی بیان جاری کرچکے ہیں کہ VAT صرف چیک بک کے اجراء کی فیس ، اکاؤنٹ کی تفصیلات اور امانتی فنڈز جیسی بینک خدمات پر ہی وصول کیا جائے گا ۔ بینکوں نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ قرضوں اور ان کے منافع پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا ۔ علاوہ ازیں بینک اکاؤنٹ میں جمع رقم اور ترسیل زر پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔ ترسیل زر پر VAT نہ لگایا جانا خارجی باشندوں کے حق میں بہتر ہوا۔ ورنہ یہ لوگ جو چھوٹی چھوٹی رقم اپنے گھر روانہ کرتے ہیں اس پر اگر ٹیکس لگتا تو وہ لوگ بہت پریشان ہوجاتے ۔ بتایا گیا کہ یکم جنوری سے 90 ہزار ادارے VAT کی وصولی شروع کرچکے ۔ اسکول فیس پر VAT کی بات ابھی پوری طرح واضح نہیں ہوئی ۔ بے شک یہ بھی رقم کا لین دین ہے اور یہ بھی ایک سرویس کی تعریف میں آتا ہے ۔ شا ید اس پر بھی VAT لاگو ہو مگر یہاں رہنے والے غیر ملکیوں میں یہ بات گشت کر رہی ہے کہ اسکول فیس VAT سے مستثنیٰ رہے گی۔ اگر ایسا ہوا تو تارکین کو کچھ راحت حاصل ہوگی۔

بہرحال یکم جنوری سے پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا ، بجلی کے نرخ دگنے ہوگئے اور پہلی تاریخ سے VAT بھی لاگو ہوگیا ۔ پٹرول کی قیمت میں اضافہ ایک زنجیر کی طرح ہے۔ لہذا یہاں ہمارے نہ صرف پٹرول کے ماہانہ خرچ میں اضافہ ہوگا بلکہ بازار کی ہر شئے پر اس کا اثر پڑے گا کیونکہ ٹرانسپورٹ کی قیمتیں بڑھیں گی تو اشیائے صرف فیکٹری سے ہول سیل اور ہول سیل سے پرجون فروش یا خرد فروش تک پہنچنے کیلئے ٹرانسپورٹ چاہئے اور بڑھے ہوئے ٹرانسپورٹ کا خرچ اشیاء کی قیمت میں اضافے سے پورا کیا جائے گا ۔ پچھلے سال جولائی میں فیملی فیس لاگو ہوئی تھی جو پہلے سال سو ریال فی فیملی ممبر اور دوسرے سال دو سو ریال اور تیسرے سال اس کی بھی دگنی فیس ادا کرنی پڑے گی ۔ اب فیملی فیس کی اتنی کاری ضرب کے بعد کیا ، یہ خارجی باشندے پہلی جنوری سے ہوئے قیمتوں میں اضافے کو جھیل پائیں گے۔ آپ کہیں گے کہ مہنگائی کا اثر تو مملکت میں رہنے والے ہر شخص پر پڑے گا تو پھر ذکر صرف خارجی باشندوں کا کیوں ہورہا ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حکومت ’’حساب الموطین‘ پروگرام کے تحت ہر سعودی باشندے کے بینک اکاؤنٹ پر ماہانہ ایک ہزار ریال جمع کرائے گی ۔ یہ رقم مقامی باشندوں کو پوری طرح نہیں تو بڑی حد تک بڑی ہوئی مہنگائی کا مقابلہ کرنے میں مدد کرے گی ۔ دوسری بات کسی بھی ملازمت پر ایک خارجی جتنی اُجرت یا تنخواہ پاتا ہے ، اس ملازمت پرایک سعودی باشندہ اس سے بہت زیادہ تنخواہ حاصل کرتا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ہی ٹیکسی کے کرایہ میں اضافہ ہوگیا ۔ اب وہ سارے لوگ جو اپنی ملازمت یا کام کاج پر جانے کیلئے ٹیکسی استعمال کرتے ہیں، ان کیلئے مالی بوجھ میں اضافہ ہوگا اوران ملازم پیشہ افراد کا مہینے کا میزانیہ درہم برہم ہوجائے گا ۔ دوسرے یہ کہ یہاں پبلک ٹرانسپورٹ کا خاطر خواہ انتظام ہے بھی نہیں۔ ریاض میں میٹرو پراجکٹ زیر تعمیر ہے جس کے مکمل ہونے میں ابھی کافی وقت ہے اور موجودہ جو بس سرویس ہے اس کا دائرہ بہت محدود ہے ۔ وہ ہر علاقے میں نہیں جاتیں۔ لہذا ایسے افراد جن کے پاس اپنی ذاتی گا ڑی نہیں ہے وہ مجبوراً ٹیکسی استعمال کرتے ہیں ۔ اب آمدنی یا تنخواہ میں اضافے کے بغیر یہ چومکھی مہنگائی کا مقابلہ بھلا کیسے کیا جائے۔
سعودی عرب میں VAT کے لاگو ہوتے ہی بڑے شاپنگ مالس نے تو اپنے Cash مشینوں میں فوری طور پر تبدیلی کرتے ہوئے انہیں خودکار سسٹم سے جوڑ دیا جو کہ بل کی جملہ رقم پر VAT کا حساب جوڑ دے گا اور گاہک سے جملہ رقم وصول کرلی جائے گی ۔ چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا یا بڑا بل کیوں نہ ہو ۔ مگر مشکل تو ان چھوٹے بقالوں یا چھوٹی دکانوں پر آن پڑی ہے جن کے پاس حساب کی مشین کی سہولت مہیا نہیں ہے اور ایسے بقالے یا چھوٹی موٹی دکانیں مملکت میں ہزاروں کی تعداد میں ہیں جن کے پاس چھوٹی چھوٹی رقم کی خریداری کرنے والے ہی آتے ہیں۔ اب وہ دو ، چار ریال پر کس طرح VAT لگائیں گے اور اپنے گاہک سے وصول کریں گے ۔ دوسرے یہ کہ پہلی جنوری سے بقالوں پرایک اور پابندی عائد ہوگئی ہے ۔ نئے سال سے ایسے بقالے ہی قائم رہ سکیں گے جو 100 مربع میٹر سے زیادہ رقبہ پر ہوں۔ اس پابندی سے گلی محلوں میں قائم سارے بقالے اور چھوٹی دکانیں بند ہوجائیں گی جس سے خارجی باشندوں کی ایک بھاری تعداد بیروزگار ہوجائے گی اور صارفین کو بڑے بقالے ، سوپر یا ہائپر مارکٹس سے ہی اپنی ضروریات کا سامان خریدنا پڑے گا ۔ دور دراز قائم ان سوپر اور ہائپر مارکٹس آسانی سے وہی لوگ جا پائیں گے جن کے پاس اپنی سواری ہو۔ اگر ٹیکسی میں جاتے ہیں تو پھر اس کا خرچ الگ ان کے سر آئے گا ۔ بہرحال نئے سال نے ہم خارجی باشندوںکو کوئی اچھی خبر نہیں دی۔

ہم نے اپنے اس مضمون کا عنوان مرزا غالبؔ کے ایک مصرعہ کو بنایا ہے۔ پورا شعر اس طرح ہے ؎
دیکھئے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض
ایک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
غالبؔ کو برہمن نے آنے والے سال کے اچھا ہونے کی پیش گوئی کی تھی لیکن این آر آئیز کیلئے یہ سال نہ وطن میں اچھا ثابت ہوا نہ اس وطن ثانی میں ۔ خیر وطن ثانی میں تو ہم نے اچھے سال بہت دیکھے ۔ مگر وطن میں ہر آنے والا سال نئے مسائل ، نئی پریشانیاں لا رہا ہے اور ہمارے ’’برہمن‘‘ نے جو اچھے دن کا وعدہ کیا تھا وہ چار سال میں بھی پورا نہیں ہوا اور وہ ہر سال ختم ہونے سے قبل اس وعدے کو اگلے سال پر ٹال دیتا ہے۔ اب جبکہ 2019 ء کے چناؤ کا وقت قریب آنے لگا تو ہمارے برہمن نے اپنا ہدف بدل دیا اور اب کہہ رہا ہے کہ 2024 ء میں سارے مسائل ختم ہوجائیں گے اور ایک ’’نیا بھارت‘‘ جنم لے گا۔ جس میں ہر شخص کا اپنا مکان ہوگا اور ہر شخص کے بینک میں پیسہ ہوگا ۔ نوجوانوں کو روزگار مل جائے گا وغیرہ۔ اب ہماری حکومت کے اس بیان پر عوام غالبؔ کی زبان میں یہی کہہ سکتے ہیں کہ ’’دل کے بہلانے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے‘‘۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT