Sunday , December 17 2017
Home / مضامین / دیکھو اپنا دیس

دیکھو اپنا دیس

 

کے این واصف
این آر آئیز کے مختلف مسائل کے ساتھ ایک مسئلہ یہ بھی ہے وہ لمبا عرصہ ملک سے باہر رہنے کی وجہ سے اپنے اقدار و روایات سے اپنی روایتی تہذیب و تمدن سے اپنے رسم و رواج سے دور ہوتے جاتے ہیں۔ خصوصاً ان کی نئی نسل جو یہاں پروان چڑھ رہی ہے وہ اپنے وطن کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ انہیں اپنی تہذیب و روایات کا پتہ ہوتا ہے ، نہ ہمارے رسم و رواج کا علم ہوتا ہے ، نہ انہیں اپنے بزرگوں کی یا جدی رشتوں کی قربت کا شرف حاصل ہوتا ہے ۔ یہ بچے یہاں اتنی بندشوں اور حصاروں میں پلتے ہیں کہ انہیں گھر سے باہر کی دنیا کا تک کا اچھی طرح علم نہیںہوتا۔ یہاں ان کی ایک محدود دنیا ہوتی ہے ۔ یہ بچے یہاںاسکول کی تعلیم مکمل کر کے اعلیٰ تعلیم کیلئے وطن لوٹتے ہیں تو انہیںاپنے وطن کے ماحول سے ہم آہنگ ہونے میں خاصہ وقت لگ جاتا ہے۔

ہندوستان ایک قدیم تہذیب ہے۔ اس کا اپنا ایک شاندار ماضی اور اس کی ایک عظیم تاریخ ہے۔ جس کی کہانی ہمارے شہروں میں کھڑی تاریخی عمارتیں سناتی ہیں لیکن ان کی کہانیاں سننے کیلئے ہمیں ان تک جانا تو ضرور پڑے گا اوراس کام کیلئے بہت کم ہندوستانی تیار ہوتے ہیں ۔ اس سلسلے میں حکومت ہند نے ’’دیکھو اپنا دیس‘‘ کے نام سے ملکی سیاحت کو فروغ دینے کا ایک پروگرام بنایا ہے جو ان دنوں ملک میں جاری ہے ۔ سفارت خانہ ہند ریاض نے اس سلسلے میں ایک تصویری اور پینٹنگ کی نمائش کا اہتمام کیا تاکہ کم از کم ریاض میں مقیم این آر آئیز یہیں اپنے تاریخی ورثہ کو دیکھ سکیں۔ یعنی سفارت خانہ ہند ریاض نے دیس سے باہر رہنے والوں کیلئے ’’دیکھو اپنا دیس‘‘ کا اہتمام یہیں کردیا ۔ اس نمائش کے افتتاح سے قبل غیر رسمی گفتگو کے دوران سفیر ہند احمد جاوید نے کہا کہ تارکین وطن جو ملازمت کے سلسلے میں نقل مکانی کرتے ہوئے سمندر پار خلیجی ممالک میں آباد ہیں وہ کبھی ان ممالک میں جہاں وہ دو دو ، تین تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے مقیم ہیں خصوصاً سعودی عرب کے مذہبی طور پر اہم مقامات ، عرب کے تاریخی اور قدیم شہر دیکھنے کا اہتمام نہیں کرتے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہندوستانی تارکین اپنے وطن ثانی یعنی سعودی عرب بلکہ خود اپنے ملک کی سیاحت پر کبھی نہیں جاتے ۔ حالانکہ وہ ہزاروں میل کی مسافت طئے کر کے بسلسلہ روزگار یہاں ہیں مگر کبھی خود اپنے ملک کو دیکھنے دیگر ریاست نہیں جاتے اور اپنے تاریخی ورثہ سے یکسر ناواقف رہتے ہیں ۔ احمد جاوید نے کہا کہ سیاحت اور خصوصاً تاریخی مقامات کے دورے انسان کی معلومات میں اضافہ کرتے ہیں، انہیں اپنے ماضی سے جڑنے کا موقع فراہم کرتے ہیں ۔ اس سے ہمارا تاریخی ورثہ نسل در نسل ذہنوں میں منتقل ہوتا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ ان دنوں ہندوستان میں ’’دیکھو اپنا دیس‘‘ کے عنوان سے ٹورازم فیسٹول منایا جارہا ہے ۔ اس سلسلے میں قومی سطح پر طلباء کیلئے کوئیز پروگرامس ، تحریری مقابلے وغیرہ منعقد کئے جارہے ہیں۔ اس کا مقصد ملک کی سیاحت کو فروغ دینا اور نئی نسل کو اپنے تاریخی ورثہ سے واقف کرانا ہے ۔ ملک میں رہنے والی نئی نسل کسی حد تک اپنے تاریخی ورثہ سے واقف رہتی ہے ۔ مگر وہ بچے جو خصوصاً خلیجی ممالک میں پروان چڑھے ہیں وہ اپنے وطن ، اپنی تہذیب اور اپنے تاریخی ورثہ سے ناواقاف رہ جاتے ہیں۔ سفارت خانہ ہند ریاض نے ’’دیکھو اپنا دیس‘‘ ٹورازم فیسٹول کے سلسلے میں ریاض میں ایک فوٹو گرافی اور پینٹنگس کی نمائش کا اہتمام کیا تاکہ تارکین وطن اور خصوصاً اپنے انڈین اسکولس میں زیر تعلیم طلباء و طالبات اپنے تاریخی ورثہ سے واقف ہوسکیں۔ اس طرح سفار خانے ہند نے ملک سے دور رہنے والوں کو تصویروں کے ذریعہ ہندوستان کے اہم تاریخی عمارتیں اس تصویری نمائش میں دکھا دیں۔

سفارت خانے ریاض کی جانب سے اہتمام کردہ اس نمائش میں ہندوستان کی 16 مشہور تاریخی عمارتوں کی 40 سے زیادہ تصویریں رکھی گئی تھیں۔ یہ ساری تصویریں راقم الحرف (یعنی کے این واصف) کی لی ہوئی ہیں۔ میں نے اس سے قبل بھی سفارت خانہ ہند ریاض اور انڈین قونصلیٹ جدہ کے زیر اہتمام متعدد تصویری نمائشیں کی ہیں۔ نیز اس نمائش میں سعودی عرب کے آثار قدیمہ پر مشتمل پینٹنگس بھی پیش کی گئی تھیں ۔ یہ پینٹنگس محترمہ صبیحہ مجید کی بنائی ہوئی ہیں۔ صبیحہ کو یہ فن اپنے والدین سے ورثہ میں ملا ہے ۔ صبیحہ کے والد مجید صاحب (مرحوم) بین الاقوامی سطح پر معروف آرکیٹکٹ تھے ۔ راجستھان کے ضلع اودے پور سے تعلق رکھنے والی صبیحہ مجید نے جامعہ ملیہ اسلامیہ نیو دہلی سے Fine Arts میں گریجویشن کیا اور کوئی 15 سے اپنے شوہر (جو خود بھی ایک آرٹسٹ ہیں) ایاز صدیقی کے ساتھ ریاض میں مقیم ہیں۔

’’دیکھو اپنا دیس‘‘ پروگرام کے سلسلے میں منعقد اس نمائش کا افتتاح سفیر ہند برائے سعودی عرب عزت مآب احمد جاوید نے کیا جس کا اہتمام انٹرنیشنل انڈین اسکول ریاض کے وسیع آڈیٹوریم میں کیا گیا تھا ۔ فرسٹ سکریٹری سفارت خانہ ہند نے خیرمقدم کیا اور ’’دیکھو اپنا دیس‘‘ پروگرام پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ سفارت خانہ ہند کی جانب سے کے این واصف اور صبیحہ مجید کو سفیر ہند احمد جاوید کے ہاتھوں یادگاری مومنٹوز پیش کئے گئے ۔ اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر شوکت پرویز نے ہدیہ تشکر پیش کیا ۔ اس نمائش کو سفارت خانہ ہند مملکت کے دیگر شہروں بلکہ خلیجی ممالک میں پیش کرنے کا اہتمام کرے تو ہماری سیاحت کو فروغ مل سکتا ہے ۔
ملکی سیاحت کو فروغ دینے کیلئے مرکزی حکومت نے اس ٹورازم فیسٹول کا اہتمام کیا ہے جس میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو دعوت عام دی گئی ہے ۔ ہندوستان تاریخی عمارتوں کی دولت سے مالا مال ہے اور ہر ہندوستانی کو ان مقامات کا دورہ کرنا چاہئے ۔ حکومت ہند کی دعوت ’’دیکھو اپنا دیس‘‘ پر لبیک کہنا چاہئے ۔ مگر اس کے ساتھ ہی سیاحوں کے ذہن میں اس بات کا خدشہ بھی ابھرتا ہے کہ کیا ہم اس سیاحت کے دوران محفوظ رہیں گے ؟ کیونکہ آج ’’کرایہ کے شرپسند‘‘ مختلف بہانوں سے ریل گاڑیوں میں قتل کی وارداتیں کر رہے ہیں۔ کسی کو زد و کوب کر کے ماردیا تو کسی کو بے رحمی سے چلتی گاڑی سے باہر پھینک دیتے ہیں۔ کسی کو بیف کھانے کا شبہ ظاہر کر کے اسے گھر میں گھس کر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا۔ ایک طرف حکومت ہند ٹورازم کے فروغ کیلئے پروگرامس چلانے کی کوشش کر رہی ہے تو دوسری طرف حکومت کے ذمہ دار اور بی جے پی کے قائدین غیر ذمہ دارانہ بیانات جاری کرتے ہیں تو دوسری طرف بھڑکاؤ تقاریر کرتے ہیں۔ اترپردیش کے چیف منسٹر نے دنیا کے عجائبات میں شامل تاج محل سے متعلق ایک غیر ذمہ دارانہ بیان میں کہا کہ تاج محل ہندوستانی ثقافت سے میل نہیں کھاتا۔ نہ صرف یہ بلکہ پچھلے ہفتے ہندو انتہا پسندوں کے ایک گروپ نے تاج محل کے احاطہ میں پوجا کرنی شروع کردی ۔ انہیں پولیس نے بڑی مشکل سے باہر نکالا ۔ ملک بھر میں اس قسم کی شرانگیزیاں کرنے والے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کیلئے اپنی شرپسند حرکتوں کے ویڈیو بناکر سوشیل میڈیا پر جاری بھی کرتے ہیں۔ جس کا مقصد اقلیتوں میں خوف پیدا کرنا ہے ۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے سیکوریٹی ادارے ثبوت فراہم ہونے کے با وجود اس کا نوٹ لیتے ہیں، نہ مجرمین کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیا یہ نہیں جانتے کہ اس قسم کے ویڈیوز ملک کے امن و امان کو متاثر کرسکتے ہیں ۔ اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان شرپسند کو ارباب مجاز کی سرپرستی حاصل ہے۔

جس جگہ امن و امان نہیں ہوگا کیا وہاں سیاح آئیں گے ؟ سیاح اگر باہر نکلنے سے گھبرائیں گے تو ’’دیکھو اپنا دیس’‘ پروگرام کیسے کامیاب ہوگا ۔ ارباب مجاز کو پہلے اس محاذ پر توجہ دینی چاہئے ۔ ملک میں امن کی فضاء کو یقینی بنایا جائے گا تو نہ صرف ٹورازم کو فروغ ملے گا بلکہ ملک کی مجموعی ترقی کے راستے بھی ہموار ہوں گے ۔ ملک میں اضطراب ، بدامنی اور بے چینی کی کیفیت ہوگی تو صرف بربادی کے سواء کچھ نہیں ہاتھ آئے گا ۔

TOPPOPULARRECENT