Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / دیگلور تا بیدر روڈ کی جلد ہی قسمت کھلے گی!!ی

دیگلور تا بیدر روڈ کی جلد ہی قسمت کھلے گی!!ی

تعمیر سے متعلق مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ مسٹر نتن گڈکری کے احکامات
دیگلور /15 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ناندیڑ سے دیگلور بارڈر تک ہائی وے نمبر 6 کے منجملہ 80 کیلو میٹر روڈ کا کام بی او ٹی اسکیم کے تحت چھ رخی روڈ ناندیڑ تا نرسی اور نرسی تا دیگلور چار رخی ہائی وے کا کام مکمل ہو گیا ہے، جس کے باعث مسافرین، موٹر رانوں اور بس ڈرائیورس کو بہت بڑی سفری راحت ملے گی، تاہم آگے بیدر (کرناٹک) میں اس بین ریاستی سڑک کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ آزادی کے بعد سے اب تک یہاں کچھ بھی نہیں ہوا۔ یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ سب سے زیادہ بین ریاستی گاڑیوں کی آمد و رفت جس طرح دیگلور۔ حیدرآباد۔ اکولہ قومی شاہراہ پر رہتی ہے، اسی طرح بیدر۔ گلبرگہ۔ بنگلور شاہراہ پر بھی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ سکھ برادری کے افراد دور دراز سے گردوارہ کی زیارت کے لئے ناندیڑ آتے ہیں، جو بسوں، خانگی گاڑیوں اور ٹورسٹ بسوں کے ذریعہ دیگلور کے راستہ بیدر اور آگے کا سفر کرتے ہیں۔ بیدر میں واقع گرونانک گردوارہ (نانک جھرہ) کی زیارت کے بغیر سکھ برادری کا کوئی فرد واپس نہیں لوٹتا۔ یہ اہم بات حکومت مہاراشٹرا، محکمہ بی اینڈ سی کے اعلی عہدہ داران اور انجینئرس کو معلوم ہونے کے باوجود ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں، جب کہ دیلگور سے بیدر تک 90 کیلو میٹر کی مسافت طے کرنا ہے، جو انتہائی سخت مرحلہ سے گزرنے کے مترادف ہے۔ یہ ریاستی ہائی وے ہے، اگر دیگلور سے ہنے گاؤں کرناٹک کی سرحد تک صرف 33 کیلو میٹر چار رخی ہائی وے تعمیر کردیا جائے تو بادل گاؤں سے حکومت کرناٹک خصوصی توجہ دے کر بادل گاؤں، اوراد اور بیدر تک 60 کیلو میٹر چار رخی سڑک تعمیر کرچکی ہے، اب صرف 33 کیلو میٹر کے لئے حکومت مہاراشٹرا کی توجہ کی ضرورت ہے۔ بی جے پی کے ضلع صدر ناندیڑ رام پٹیل راتوڑی  گردوارہ انتظامی بورڈ ناندیڑ کی مسلسل نمائندگیوں کا لحاظ کرتے ہوئے اس 33 کیلو میٹر دیگلور تا بیدر ہائی وے ہنے گاؤں سرحد تک تعمیر کرنے کے لئے مرکزی وزیر برائے نیشنل ٹرانسپورٹ نتن گڈکری سے نمائندگی کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی ہے، چنانچہ مرکزی وزیر نے اس سلسلے میں محکمہ ٹرانسپورٹ (بی اینڈ سی ہائی وے) کو فی الفور احکامات جاری کردیئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT