Wednesday , November 22 2017
Home / اضلاع کی خبریں / دیگلور میں اشیاء ضروریہ کی کا لا بازاری

دیگلور میں اشیاء ضروریہ کی کا لا بازاری

دیگلور ۔ 26 ۔ نومبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) دیگلور میں ان دنوں راشن کا تمام اناج ، تیل خوردنی ، دالیں کے علاوہ روغن گیاس کی کالا بازاری منظم طریقہ و طور سے بڑے بڑے ’’ معزز ‘‘ ممتاز رہنما کالا کوٹ والوں کی ملی بھگت سے عروج پر ہے ۔ غریب ، جھونپڑیوں میں ، مٹی کے گھروں میں رہنے والے مزدور و اوسط درجہ کے شہریان کو چولھا جلانے کیلئے ضروری شئے گیاس کا تیل ملنا تو دور ، ہر مہینہ دیگلور میں کم از کم بیس ہزار لیٹر مٹی کا تیل کالا بازاری ، پڑوسی ریاست تلنگانہ و کرناٹک میں بلاک سے فروختگی آئے دن عروج پر دکھائی دیتی ہے ۔ ہمارے نمائندہ نے صرف دیگلور شہر میں ( تعلقہ علحدہ ) جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ یہاں تقریباً 42 مسلمہ رئیٹلر لائسنس یافتہ گیاس کا تیل کے چلر فروخت کنندگان موجود ہیں ان میں سے بیشتر (چونکہ بڑے سفید پوش حضرات ) نے لائسنس معاشی اعتبار سے خرچ کر کے اثر و رسوخ کااستعمال کر کے ضلع کلکٹریٹ آفس سے حاصل کر لئے تھے ۔ بیشتروں نے ہر ماہ پانچ ہزار لیکر کسی دوسرے کو دوکان چلانے کیلئے دیدیا ہے یعنی چور پر مور والا یہ دھندہ یہاں چل رہا ہے ۔ اب یہ کرایہ دار کالر ٹائیٹ کر کے سارا گیاس کا تیل آٹورکشہ راں ، ٹرایکٹر ، لاریوں کیلئے ، خانگی بسوں والوں کو ، سیون سیٹروالوں کو کم از کم پچاس تا ساٹھ روپئے فی لیٹر سے فروخت کر کے اپنا کرایہ نکال رہے ہیں ۔ بعض راشن کے ڈیلرس ٹانکیوں میں سارا کا سارا گیاس کا تیل بھر لیکر ’’ پٹرول پمپ ‘‘ پر جس طرح گاڑیوں میں ایندھن بھرا جاتا ہے  تو یہ آٹوز میں ، لاریوں میں اسی طرح اُنڈیل کر منہ مانگے دام وصول کررہے ہیں ۔ اگر پہلے زعفرانی ، سفید راشن کارڈ ہولڈر ، ازراں فروش دوکاندار پر تیل دینے کیلئے دباؤ ڈالیں تو یہ بلاک میلرس ان غریب گاہکوں کو سناکر مقرر کردہ سرکاری فروختگی رقم سے بڑھ کم از کم پچیس روپئے فی لیٹر سے وہ بھی زیادہ سے زیادہ دو لیٹر دیتے ہیں ۔ گیہوں ، چاول ، خوردنی تیل اور دالوں کا تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ آیا یہ مال چالان بھرنے کے بعد سرکاری گودام سے تو یہ سارا مال باقاعدہ طور پر نکلتا تو ہے مگر یہ گاڑیاں ارزاں فروشی فروختگی کے مرکز ( را شن کی دوکان )پر تو پہنچتی نہیں ہیں وہ سیدھے مونڈھا بازار کا رخ کرتے دکھائی دیتے ہیں اور مونڈھا مارکٹ میں یہ سارے تھیلے جمع ہو کر ٹرکوں ( لاریوں ) سے راتوں میں پڑوسی ریاست تلنگانہ اسٹیٹ یا پھر کرناٹک جو یہاں سے صرف چار کیلو میٹر دور  منتقل کرتے ہیں ۔ اب تو قحط سالی ہے تو لوگ اچھے اچھے شہری اناج ، تیل کو ترس رہے ہیں ۔ مگر ڈیویژنل افسران رہنے کے باوجود یہاں ایسی کالا بازاری  ہورہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT