Saturday , September 22 2018
Home / Top Stories / دیہاتوں کی ترقی کیلئے کام کرنے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو مشورہ

دیہاتوں کی ترقی کیلئے کام کرنے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو مشورہ

نئی دہلی ۔ 07ستمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی نے آج دیہاتوں کی ترقی کے لئے دیہی ہندوستان اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان طاقتور روابط کی تائید کی اور کہا کہ دیہی ترقی کیلئے کورسیس شروع کئے جانے چاہئے ۔ انھوں نے کہاکہ ان کی وزارت تعلیمی اداروں کو دیہی ہندوستان کی ترقی کے پروگرام میں شامل کرنے

نئی دہلی ۔ 07ستمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی نے آج دیہاتوں کی ترقی کے لئے دیہی ہندوستان اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے درمیان طاقتور روابط کی تائید کی اور کہا کہ دیہی ترقی کیلئے کورسیس شروع کئے جانے چاہئے ۔ انھوں نے کہاکہ ان کی وزارت تعلیمی اداروں کو دیہی ہندوستان کی ترقی کے پروگرام میں شامل کرنے کی خواہاں ہے۔ انھوں نے کہاکہ آئندہ پانچ سال میں ہم چاہتے ہیں کہ تمام فنی ادارے دیہاتوں سے مربوط ہوجائیں اور ملک کی ترقی کیلئے کام کریں ۔ وزیراعظم نے تمام ارکان پارلیمنٹ سے خواہش کی ہے کہ اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں ایک ’آدرش گرام ‘ (مثالی نمونے کا دیہات ) تیار کریں ۔

اپنی یوم آزادی تقریر میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ فنی اداروں کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کریں گے تاکہ وہ دیہاتوں میں کام کریں اور اپنے مقصد کی تکمیل کیلئے سائنٹفک معلومات فراہم کریں۔ وہ ’’اُنت بھارت ابھیان ‘ ‘( ترقی یافتہ ہندوستان کیلئے مہم ) سے خطاب کررہی تھیںجس کا اہتمام آئی آئی ٹی دہلی نے کیا تھا ۔ انھوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد بنیادی ترقی اور دیہاتوں کی پیداواری ضروریات کی شناخت اور ایسے راستوں کا پتہ چلانا جس سے ان ضروریات کی تکمیل ہوسکے ، ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اعلیٰ فنی تعلیم کے ادارے آج دیہی ہندوستان سے دور کردیئے گئے ہیں۔ اس قسم کے پروگرام ذہنوں کو روشن خیال بنانے کا کام کریں گے ۔ بیرون ملک جانا اور بعد ازاں اپنے ملک واپس آکر دیہاتوں کی ترقی کیلئے کام کرنا روشن خیال ہندوستانیوں کا مقصد ہوگا ۔

انھوں نے کہاکہ اعلیٰ معیاری دیہی ترقی کے مراکز آئی آئی ٹیز میں مرکز کی مالی امداد کے ذریعہ شروع کئے جانے چاہئے ۔ انھوں نے کہاکہ اس طرح ہم تعلیمی اداروں کا ایک بڑا نٹورک قائم کرسکتے ہیں جو دیہی ٹکنالوجی کے پروگرام فراہم کرے گا ۔ یہ ادارے دیہاتوں کو درپیش مسائل سمجھ سکتے ہیں اور دیہات اعلیٰ تعلیمی اداروں کا ایک شعبہ بن کر ترقی کرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ پانچ ہزار تا چھ ہزار فنی تعلیمی ادارے دیہی ترقی کے پروگرام میں شامل ہوسکتے ہیں۔ 12 ، 13 سپٹمبر کو وائس چانسلر کے اجلاس میں سمرتی ایرانی نے کہاتھا کہ سنٹرل یونیورسٹیوں میں بھی ایسے ورکشاپ منعقد کئے جانے چاہئے ۔ انھوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو دیہاتوں کے ساتھ روابط قائم کرنے چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT