Thursday , January 18 2018
Home / ہندوستان / دیہی عوام نے مہاراشٹرا تشدد کا الزام بیرونی افراد پر لگایا

دیہی عوام نے مہاراشٹرا تشدد کا الزام بیرونی افراد پر لگایا

تشدد پر اُکسانے کا بھیڑے پر بھونسلے کا الزام ۔ بھیما ۔ کوریگاؤں تشدد سے لاتعلقی کا این سی پی رکن پارلیمنٹ بھیڑے کا اظہار
پونے 5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بھیما ۔ کوریگاؤں دیہات جہاں مہاراشٹرا میں ذات پات پر مبنی تشدد ہوا تھا، یکم جنوری کے واقعات کا الزام مقامی دیہی عوام نے بیرونی افراد پر عائد کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ حفاظتی انتظامات ناکافی ہونے کی وجہ سے کثیر تعداد میں لوگوں کا ہجوم ہوگیا تھا جس کے نتیجہ میں بے چینی پیدا ہوگئی۔ سرپنچ بھیما کورے گاؤں سنیتا کامبلے نے کہاکہ دیہات کے تمام فرقے بشمول دلت اور مراٹھے پرامن طور پر زندگی بسر کررہے تھے۔ دیہی عوام نے جن افراد کو فسادات اور توڑ پھوڑ کی وجہ سے نقصان پہنچایا ہے اُن کے لئے ہرجانے کا مطالبہ بھی کیا۔ جاریہ ہفتے کے اوائل میں بھیما کوریگاؤں جنگ کی 200 ویں سالگرہ تقریب منائی جارہی تھی۔ اِس جنگ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی برطانوی فوجوں نے پیشوا کی فوج کو شکست دی تھی۔ اس سالگرہ تقریب میں تشدد کے واقعات پیش آئے جس میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ دائیں بازو کے گروپس پر تشدد کا الزام عائدکیا جارہا تھا۔ اس کے بعد دلت تنظیموں نے 3 جنوری کو مہاراشٹرا بند منایا جس کے دوران ممبئی اور ریاست کے دیگر علاقوں میں معمولات زندگی مفلوج ہوگئے۔

بند کے دوران پولیس پر حملے کئے گئے اور احتجاجیوں نے سرکاری اور خانگی جائیدادوں کو نقصان بھی پہنچایا۔ بھیما کوریگاؤں کے عوام نے آج ایک پریس کانفرنس منعقد کی اور پورے واقعہ کی تفصیلات بیان کیں جس کی وجہ سے ریاست میں ذات پات کی بناء پر اختلافات اُبھر آئے ہیں۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ بیرونی عناصر نے تشدد برپا کیا۔ دوکانوں اور مکانوں کو منہدم کیا اور نذر آتش کیا۔ دیہاتیوں نے راہول پتنگلے جس کی ہلاکت جھڑپوں کے دوران واقع ہوئی تھی، کے قریبی ارکان خاندان کو ایک کروڑ روپئے معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔ سنیتا کامبلے نے کہاکہ دیہات کے تمام طبقے بشمول دلت اور مراٹھے پرامن زندگی بسر کررہے تھے۔ مستقبل میں بھی وہ پرامن زندگی ہی بسر کریں گے۔ دیہات میں بے چینی بیرونی عناصر نے پیدا کی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہم امن کی اپیل کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جن افراد کی جائیدادوں جیسے دوکانوں، مکانوں اور گاڑیوں کو تشدد کے دوران نقصان پہنچا ہے اُنھیں معاوضہ ادا کیا جائے۔ ایک دیہاتی نے مقامی عہدیداروں پر لاپرواہی کا الزام عائد کیا اور کہاکہ یہ جاننے کے باوجود کہ لاکھوں لوگ بھیما کوریگاؤں جاریہ سال یکم جنوری کو آنے والے ہیں وہ کافی حفاظتی انتظامات کرنے سے قاصر رہے۔ جس کے نتیجہ میں تشدد کے واقعات پیش آئے۔ دریں اثناء این سی پی کے رکن پارلیمنٹ سمبھا جی بیڑے نے دعویٰ کیاکہ اُن کا پرتشدد واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اُنھوں نے سمست ہندو اگھاڑی کے ملند ا کبوٹے اور شیو پرتسشٹھان ہندوستان کے بانی پر الزام عائد کیاکہ اُنھوں نے جنو کی سالگرہ تقریب کے موقع پر جو بھیما کوریگاؤں میں منائی جارہی ہے، تشدد کی سازش ہوئی تھی۔ شیواجی کی نسل کے اوداین راجے بھونسلے نے کہاکہ بھیڑے پر تشدد کے لئے اُکسانے کا الزام ہے۔

TOPPOPULARRECENT