Wednesday , January 24 2018
Home / اداریہ / دیہی عوام کی حالت زار

دیہی عوام کی حالت زار

نظر ملتی ہے جلووں کو نشاں ملتے ہیں راہوں کو مگر شمع کو اپنی روشنی سے کچھ نہیں ملتا دیہی عوام کی حالت زار

نظر ملتی ہے جلووں کو نشاں ملتے ہیں راہوں کو
مگر شمع کو اپنی روشنی سے کچھ نہیں ملتا
دیہی عوام کی حالت زار
مرکز کی نریندر مودی زیر قیادت این ڈی اے حکومت ہندوستان کو ڈیجیٹل انڈیا بنانے کی مہم شروع کرچکی ہے جبکہ اس ہندوستان کا دیہی طبقہ شدید پسماندگی کا شکار ہے ۔ حالیہ سروے سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ دیہی ہندوستان برقی سے محروم ہے ۔ صاف ستھرا پانی ہنوز نصیب نہیں ہے ۔ خواندگی کا فیصد بھی سب سے کم ہے ۔ 180 ملین خاندانوں میں تقریبا 75 فیصد خاندانوں کی ماہانہ آمدنی صرف 5000 روپئے ہے ۔ 1931 کے بعد سے پہلی مرتبہ کروائے گئے اس سروے سے یہ توپتہ چل گیا ہے کہ ہندوستان میں سیاسی پارٹیوں نے حکمرانی کے فرائض کس بد نیتی سے انجام دی ہے ۔ دیہی ترقی کیلئے ہر سال قومی بجٹ تیار کرنے والی حکومتوں نے دیہی عوام کو ایک بہتر زندگی نصیب کرنے کی کوشش نہیں کی۔ سماجی علوم کی اس جدید دنیا میں اب سے ایک زندہ‘ ثابت شدہ اور قابل دید حقیقت ہے کہ دیہی ہندوستان کو اج کے جدید دور میں بھی کن مسائل سے دوچار ہونا پڑرہا ہے ۔ یہ سروے ہندوستانی سیاستدانوں کی آنکھوں کھولدینے کے لئے کافی ہے اگر کوئی انسانی دل رکھنے والا سیاستداں اس رپورٹ کا جائزہ لینا ہے تو اس کو صد افسوس ہوگا کہ ڈیجیٹل انڈیا کا خواب دیکھنا خود فریبی کے سواء کچھ نہیں ہے۔ سماجی معاشی اور ذات پات کی بنیاد پر کروائے گئے مردم شماری نے ہندوستان کی ترقی کی قلعی کھول دی ہے۔ تقریبا 80 سال بعد آنے و الی یہ رپورٹ برطانوی حکمرانی والے ہندوستان کی تصویر کو نمایاں کردیا ہے ۔ آزادی کے 68 سال بعد بھی ہندوستانی کا دیہی علاقہ ماضی کی تلخیوں میں ہی پھنسا ہوا ہے تو ان حکمرانوں کے منہ پر زبردست طمانچہ ہے جو دعوی کرتے ہیں کہ انہوں نے ہندوستان کو ترقی کی سمت سے جانے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ دیہی علاقوں کے عوام کا طرز زندگی افسوسناک حد تک ماضی کی طرح ہی ہے ۔ دیہی علاقوں میں رہنے والے ریفریجریٹر ‘فون ‘موٹر سیکل یا اراضی سے بھی محروم ہیں۔ روزگار کی نوعیت بھی وزیر اعظم روزگار یوجنا کی بھانڈہ پھوٹی نظر آرہی ہے ناخواندگی کی شرح افسوس ناک صورتحال پیش کررہی ہے ۔ دیہاتوں میں آبپاشی کے پراجکٹس شروع کرنے کی ہر سال اسکیمات کا اعلان ہوتا ہے اس کے باوجود دیہی ہندوستانی کی بڑی آبادی قدرتی بارش کی محتاج ہے ۔ صرف 25 فیصد آبادی ہی آبپاشی سے استفادہ کررہی ہے چند ریساتوں میں ہی یہ کام ہوا ہے جبکہ دیگر کئی ریاستیں دیہی عوام کو برقی سے محروم رکھے ہوئے ہیں ۔ اس رپورٹ سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ دیہاتوں میں رہنے والے عوام غربت کی نچلی سطح سے بھی نیچے زندگی گذارتے ہیں ۔ ہر حکومت نے دیہی علاقوں کی ترقی کیلئے کئی منصوبہ بنانے کا اعلان کیا ہے ۔ مختلف سرکاری پروگراموں کی فہرست جاری کی جاتی ہے لیکن رپورٹ سے یہی پتہ چلتا ہے کہ حکومتوں کے اعلانات صرف کاغذی پیرہن ہوتے ہیں۔ غربت اور افلاس تو دیہی علاقوں کا مقدر بن چکے ہیں اگر یہ مردم شماری نریندر مودی حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ نیتی آیوگ کی نظر سے گذرتی ہے تو وہ اپنے پیشرو کے پیدا کردہ تنازعات سے گریزکرنے کی کوشش کرے گا ۔ مودی حکومت نے دیہی عوام کی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے منصوبہ بندی کمیشن کو برخواست کر کے نیتی آیوگ قائم کیا ہے مگر یہ ادارہ بھی اپنی کارکردگی کے نام پر صفر مظاہرہ کرتے دکھائی دے تو حالات کی ستم ظریفی کے سواء کچھ نہیںکہلائے گی ۔ یہ سروے تمام پالیسی سازوں کے لئے ایک اہم دستاویز مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے کیلئے تازہ سروے کو ملحوظ رکھا جائے تو دیہی عوام کی بہتر خدمت کی جاسکتی ہے ۔ مرکز اور ریاستی دونوں حکومتوں کو دیہی سطح پر پالیسیوں اور اسکیمات کو روبہ عمل لانے کیلئے یہ رپورٹ ایک معاون دستاویز ثابت ہوگی۔ غربت کا خاتمہ اور پسماندگی کو دور کرنے کاایک منفرد موقع مل رہا ہے ۔تو حکومتوںکو اپنی غافلانہ حکمرانی سے باہر نکل آنا ہوگا ۔ ہندوستان میں جہاں مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار ضامن قانون رائج ہے وہاں دیہی عوام اپنی روز مرہ کی زندگی گدارنے میں مشکلات کاشکار ہیں تو پھر ہر دیہی خاندان کو سال کے 100 دن روزگاردینے کی مہم کا مقصد فوت ہوتا دکھائی دیتا ہے یا اس مہم و اسکیم پر عمل آوری میں ہونے والی کوتاہیوں کا پتہ چلتا ہے حصول اراضی بل پر ضد کرنے والی بی جے پی حکومت کو اراضی سے محروم دیہی عوام کی کیفیت کا احساس ہوجائے تو وہ کارپوریٹ گھرانوں کا دم چھلہ بننے کے بجائے دیہی عوام کے برہنہ جسم کو ڈھانکنے کی پالیسی بنانے پر مجبور ہوسکتی ہے لیکن حکومت کو شرم مگر تم کو نہیں آتی کے مصداق یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ اس سے کتنی غلطیاں سرزد ہورہی ہیں ۔ بد قسمت دیہی عوام اس وقت مرکز کی بی جے پی حکومت کے باعث مہیب سایوں کی لپیٹ میں ہیں۔

TOPPOPULARRECENT