Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / د100 دن کا ایکشن پلان فلاپ، اب سپنوں کے سوداگر کو 7 سال درکار

د100 دن کا ایکشن پلان فلاپ، اب سپنوں کے سوداگر کو 7 سال درکار

چارمینار راہرو پراجکٹ کا ذکر نہیں، شہر کو استنبول بنانے کا اعلان : راماراؤ

حیدرآباد۔/17جنوری، ( سیاست نیوز) وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے آج ’’ سپنوں کے سوداگر ‘‘ کی طرح شہر کی ترقی کے بارے میں عوام میں خواب تقسیم کرنے کی کوشش کی۔ حیدرآباد کی ترقی کے بارے میں مختصر مباحث میں کے ٹی آر نے 15 صفحات پر مشتمل بیان اسمبلی میں پیش کیا جو صرف خوش کن وعدوں اور عوام کیلئے جاگتی آنکھوں کے خواب کی طرح تھا۔ کے ٹی آر نے شہر کیلئے 24474 کروڑ روپئے پر مشتمل مختلف ترقیاتی اسکیمات کا اعلان کیا لیکن اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ موجودہ کمزور مالی موقف میں اس رقم کا کس طرح انتظام کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کے ٹی آر نے کئی سو کروڑ روپئے کے دیگر منصوبوں کا بھی خلاصہ کیا جس کے لئے رقم مرکز سے حاصل کی جائے گی۔ کے ٹی آر جب سے وزیر بلدی نظم و نسق کا قلمدان  سنبھال رہے ہیں حیدرآباد کے عوام کیلئے ان کے پاس سوائے سپنوں اور وعدوں کے کچھ نہیں۔ شہر کی ترقی کے بارے میں 15 صفحات پر مشتمل بیان کو دیکھیں تو ایسا محسوس ہوگا کہ حیدرآباد نہیں بلکہ عالمی معیار کا شہر استنبول ہے جس کا حکومت وعدہ بھی کررہی ہے لیکن بیان کی حقیقت کا جائزہ لیں تو اس میں سوائے اعلانات اور وعدوں کے کچھ نہیں تھا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ کے ٹی آر نے اپنے 100دن پر مشتمل ایکشن پلان کا بھی اس بیان میں کوئی تذکرہ نہیں کیا جس کے تحت وہ شہر کو ترقی یافتہ اور خوبصورت بنانا چاہتے تھے۔ شاید اس لئے انہوں نے 100 دن کے ایکشن پلان کو بیان میں شامل کرنے سے گریز کیا کیونکہ ان کا یہ پلان عمل آوری میں ناکام ثابت ہوا تھا۔ کے ٹی آر نے اپنے تفصیلی بیان میں پرانے شہر کی ترقی کا کوئی تذکرہ نہیں کیا اور خاص طور پر تاریخی چارمینار کے اطراف پیدل راہرو پراجکٹ کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ بیان میں پرانا شہر اور پرانے شہر کے پراجکٹ شامل نہیں تھے لیکن افسوس کہ پرانے شہر کی نمائندگی کرنے والے ارکان اسمبلی نے خاموشی اختیار کرلی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پرانا شہر اور مسلم آبادی والے علاقے گریٹر حیدرآباد کا حصہ نہیں ہیں کہ جہاں دیگر علاقوں کی طرح ترقی کی ضرورت ہے۔ کے ٹی آر نے پرانے شہر اور اس کی ترقی کو اپنے بیان میں شامل نہ کرتے ہوئے حکومت کی مخالف اقلیت پالیسی کا واضح ثبوت دیا ہے۔ حکومت کو دراصل پرانے شہر میں صحت و صفائی کے انتظامات، برقی اور پانی کی موثر سربراہی، سڑکوں کی توسیع، ناکارہ سڑکوں کی درستگی اور آلودگی سے پاک ماحول بنانے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ (
100 دن کا ایکشن پلان فلاپ( ایک طرف آئندہ سات تا آٹھ برسوں میں حیدرآباد کو عالمی معیار کا شہر بنانے کا دعویٰ کیاگیا تو دوسری طرف پرانے شہر کی ترقی کو بیان میں یکسر فراموش کردیا گیا۔ کیا پرانا شہر جوکہ اصلی شہر ہے اس کی ترقی کے بغیر حیدرآباد کو عالمی معیار کا درجہ دیا جاسکتا ہے؟۔ کے ٹی آر نے اپنے بیان میں شہر کو خوبصورت بنانے اور گندگی سے پاک کرنے کے  اقدامات کا حوالہ دیا لیکن اپوزیشن نے ان کے

TOPPOPULARRECENT