Wednesday , November 22 2017
Home / Top Stories / د50 دن نہیں 180 دن درکار ؟

د50 دن نہیں 180 دن درکار ؟

حیدرآباد ۔ 19 نومبر (سیاست نیوز) بڑے نوٹوں کی منسوخی سے پریشانی 50 دن کی نہیں بلکہ 180 دن کی ہے۔ 500 روپئے کی طلب کے مطابق نوٹس بازار میں پہنچنے کیلئے کم از کم 6 ماہ درکار ہوں گے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے 500 اور 1000 کی نوٹوںکا چلن بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ملک کے عوام سے 50 دن تک ان سے تعاون کرنے کی اپیل کی تھی، جس میں 12 دن گذر چکے ہیں۔ عوامی مسائل کسی حد تک کم ہوجانے کے بجائے اس میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ منسوخ شدہ نوٹوں کی تبدیلی کی حد کو 4500 سے گھٹا کر 2000 روپئے کردینے سے عوام میں مزید ناراضگی بڑھ گئی ہے۔ بینکوں اور اے ٹی ایم پر عوام کی قطاریں اور اپوزیشن کے پارلیمنٹ میں احتجاج کو دیکھتے ہوئے مرکزی وزیرفینانس ارون جیٹلی نے عوام کو اعتماد میں لینے کیلئے مزید تین ہفتوں میں حالت معمول پر آجانے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم ماہرین معاشیات نے وزیراعظم کے 50 دن اور مرکزی وزیرفینانس کے ہفتوں کے دعوؤں کو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہیکہ حالت میں سدھار آنے کیلئے 6 ماہ درکار ہوں گے کیونکہ مارکٹ میں 2000 کی نوٹ دستیاب ہے مگر چلر نہ ہونے کی وجہ سے اس کا وجود بے معنی ہوگیا ہے اور ضرورت کے مطابق 500 روپئے کی نئی نوٹس مارکٹ میں پہنچنے کیلئے 6 ماہ لگ سکتے ہیں۔ ملک میں 4 سیکوریٹی پریس ہیں جہاں نوٹ چھپتی ہیں۔ وزیراعظم کے فیصلہ سے 500 کی 45 فیصد اور 1000 کی 39 فیصد 84 فیصد نوٹ بازاروں سے غائب ہوگئی ہے۔ منسوخ شدہ ایک ہزار نوٹ کی قدر کے مطابق نئی 2000 روپئے کی 342 ہزار کروڑ نوٹ چھاپنی پڑے گی۔ منسوخ شدہ 500 روپئے کے نوٹوں کے بدلے 1578 کروڑ روپئے قدر والی نئی 500 نوٹس چھاپنی پڑے گی۔ملک کے چار سیکوریٹی پریس میں تین شفٹ میں کام کرتے ہوئے بھی نوٹ چھاپی گئی تو ماہانہ 300 کروڑ روپئے کے نوٹ ہی چھپ پائیں گے، جس میں 20 فیصد نوٹ۔ 5 تا 100 روپئے پر مشتمل بھی رہے گی ماباقی 80 فیصد نوٹ 500 اور 2000 روپئے پر مشتمل ہوگی۔ 10 نومبر سے نئی کرنسی چھاپنے کا عمل شروع ہوا ہے۔ چھ ماہ تک مسلسل چھاپتے رہے تو طلب کے مطابق نوٹ چھاپی جاسکتی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT